منتخب کالم

تیراہ صورتحال – حقائق کیا ہیں؟/



26جولائی کو وادی تیراہ کے علاقے باغ میدان میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں خوارج کی فائرنگ سے ایک معصوم بچی شہید ہوگئی۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد کچھ شرپسند عناصر نے فوراً موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستی اداروں اور پاک فوج کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا شروع کر دیا۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ بچی خوارج کی گولی سے نہیں بلکہ فوجی مارٹر گولے سے شہید ہوئی ہے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن دعویٰ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی افواج کے زیرِ استعمال مارٹر یا راکٹ گولے سے تباہی زیادہ ہوتی ہے اور انسانی جسم کے لیے وہ نقصان ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ اکثر مارٹر گولے لگنے سے انسانی جسم قابلِ شناخت نہیں رہتا۔ جبکہ اس واقعے میں بچی کو فائرنگ سے گولی لگی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حملہ خالصتاً فتنہ خوارج کی بزدلانہ فائرنگ کا نتیجہ تھا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انسانی جان کے ضیاع کو کچھ عناصر نے فوج دشمن بیانیے کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی، اور اس پر مقامی سطح پر احتجاج کا آغاز کیا گیا، جسے آگے چل کر مزید انتشار کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
اسی احتجاج کے دوران خوارج نے ایک بار پھر اپنی بزدلانہ اور مکار فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قریبی پہاڑوں سے مظاہرین پر اس وقت فائرنگ کی جب مظاہرین میں یہی فتنہ پرور عناصر اشتعال انگیزی پھیلا رہے تھے۔ اس حملے میں تین مزید بے گناہ شہری شہید اور نو افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ درحقیقت عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا کرنے، امن کو سبوتاڑ کرنے اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کا حصہ تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ عوامی جرگوں اور مقامی قیادت نے حالیہ دنوں میں خوارج کے خلاف واضح مؤقف اپنایا تھا اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر امن کے قیام کے لیے اجتماعی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اسی اتحاد سے خائف ہو کر خوارج نے شہریوں کو نشانہ بنایا تاکہ اس اتحاد کو توڑا جا سکے۔
اس واقعے کے دوران پاک فوج اور سکیورٹی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل اختیار کیا اور زخمیوں کو فوری طور پر ایف سی اسپتال شاکس منتقل کر کے انہیں مفت طبی امداد فراہم کی۔
بعد ازاں 28 جولائی کو ایک اہم قبائلی جرگہ بھی منعقد ہوا، جس میں کمانڈنٹ تیراہ ملیشیا، سول و عسکری حکام اور مقامی مشران شریک ہوئے۔ جرگے میں واقعے کی سنگینی پر غور کیا گیا، متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اس تمام صورتحال میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے پیچھے کئی مقامی عناصر ملوث ہیں، جنہیں افغانستان میں موجود ان کے حواریوں سے مکمل مدد حاصل ہے۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم جیسی جماعتوں کے مختلف احتجاجی مظاہروں میں فوجی چیک پوسٹوں کے خاتمے، بارڈر کھولنے کے اور دیگر مطالبات کیوں کیے جاتے ہیں؟ کیا یہ دراصل خوارج کی درپردہ حمایت کا ایک ذریعہ نہیں؟ اگر واقعی امن درکار ہے تو دہشت گردوں سے ہتھیار ڈالنے یا علاقہ چھوڑنے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ افغان پشت پناہوں کو للکارنے سے گریز کیوں کیا جاتا ہے؟
یاد رکھنا چاہیے کہ دہشتگردی کی کوئی بھی تحریک مقامی حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ خوارج آج بھی اس لیے موجود ہیں کیونکہ انہیں اندرونِ علاقے سے مدد، پناہ اور وسائل حاصل ہو رہے ہیں۔  ایسے میں ریاست مخالف بیانیے کو تقویت دینا درحقیقت دہشتگردی کو ہوا دینا ہے۔
27 جولائی کو باغ میدان میں مظاہرین کی جانب سے سول اسپتال، نادرا دفتر پر حملہ اور بعد ازاں فوجی کیمپ کی طرف پیش قدمی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ احتجاج کس طرف جا رہا تھا۔ یہ پرامن احتجاج کی تعریف میں نہیں آتا، بلکہ ایک سوچی سمجھی چال تھی جس کا مقصد انتشار پھیلانا تھا۔
ان حالات کے پیش نظر قبیلہ برقمبرخیل نے ایک تاریخی قدم اٹھایا، اور 28 جولائی کو آٹھ ہزار سے زائد افراد پر مشتمل قومی جرگہ، قرآن پاک سروں پر اٹھائے، خوارج کے ٹھکانوں کی طرف روانہ ہوا۔ اس جرگے میں مدارس، اسکولوں کے طلبہ اور مشران شامل تھے۔ ان کا پیغام واضح ہے: تیراہ چھوڑ دو، ورنہ انجام کے لیے تیار ہو جاؤ۔
اب وقت ہے فیصلہ کرنے کا: ریاست کے ساتھ یا ریاست دشمنوں کے ساتھ؟ اگر ہم امن چاہتے ہیں، تو ہمیں ان جوانوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ جنگ صرف بندوق سے نہیں، بلکہ شعور سے جیتی جائے گی۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button