نظم

نظم / ناکام انسان / حمزہ-ز

ناکام انسان

 

میری آنکھیں دیکھو

تم نے محبت میں جو رنگ انھیں عطا کیا تھا

دھوپ نے وہ رنگ چاٹ لیا

اُس وقت سے سورج سرخ رنگ میں بدلا ہوا ہے

 

میں اپنے حال سے مطمعئن نہیں رہا

دن بھر مشقت کرنا بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں

لوگوں کو میری باتیں بہکی ہوئی لگتی ہیں

اک عمر گنوا کر انسان سمجھتا یے

ک خاموشی عبادت کیوں ہے

سورج کی پرستش کرنے والوں کو چاہیئے

کہ وہ مجھے خدا سمجھیں

اس کے باوجود کہ خدا صرف ایک ہے جو ہمارے قیام, رکوع اور سجدے چاہتا ہے

لوگ اشارے نہیں سمجھتے

 

تم مسلم ہو

اس لیئے میں طویل سجدے کرتا ہوں

اگر تم کرسچن ہوتی 

تو میں تم پر ہر دن انجیل پڑھتا

 

چھٹی حس تیز ہونے میں میری کوئی مہارت نہیں

میں صرف ابزرو کرتا ہوں 

اور تم یقین کر لیتی ہو

اور پھر روتی ہو اپنے فیصلوں پر

ہم نے خدا کے متعلق کتنے اندازے لگائے

جو سبھی غلط نکلے

شاید خدا کچھ اور ہی چاہتا ہے

 

میں تمھاری اداسی کو اپنی غلطی تصور کرلیتا ہوں

اور لوگ سیلاب کو عذاب نہیں سمجھ رہے

جو لوگ اپنی غلطیاں نہیں مانتے 

میں ان سے طاقتور ہوں

البتہ, میں ناکام انسان ہوں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button