غزل
غزل /مرا وجود مری خامشی سے ظاہر ہے/شائشتہ سحر

غزل
شائستہ سحر
نا گفتنی بھی مری گفتنی سے ظاہر ہے
مرا وجود مری خامشی سے ظاہر ہے
مرا قیام ہے مظہر مری عبادت کا
نہ میرا عجز مری بندگی سے ظاہر ہے
کوئی کرے گا بھلا پیاس کو مجسم کیا ؟
غبارِ تشنہ لبی تشنگی سے ظاہر ہے
تجھے میں دے نہیں سکتی قبائے شعر و سخن
ترا خیال مری بے بسی سے ظاہر ہے
ہے کوئی اور جو مجھ میں دکھائی دیتا ہے
وہ تُو نہیں جو مری بے کلی سے ظاہر ہے
مشاطگی کی طلب خون میں نہیں شامل
سفید پھول بھلی دلکشی سے ظاہر ہے
وہ جو خموشی پسند ہیں قریب آ جائیں
مزاجِ قلب مرا خامشی سے ظاہر ہے
رہینِ حرف نہیں ہے یہ خوش مزاجی تری
تُو خوش بہت ہے تری خوش دلی سے ظاہر ہے
کوئی ہو کیسا بھی اندر سے چھپ نہیں سکتا
جو رنگ بھی ہو رخِ آدمی سے ظاہر ہے
چراغ جلنے سے پہلے دھواں دھواں ہے فضا
مقامِ گریہ سحر شام ہی سے ظاہر ہے



