غزل

غزل / آنکھ پہلے سے کہیں بڑھ کے چمکدار ہوئی / شعیب زمان

غزل

 

آنکھ پہلے سے کہیں بڑھ کے چمکدار ہوئی

روشنی جب بھی دراڑوں سے نمودار ہوئی

 

کوئی سایا نہ مسلسل میرے سر پر ٹھہرا

میں جہاں بیٹھا وہاں دھوپ کی یلغار ہوئی 

 

تم بھلا کیسے یہاں میری مدد کو آتے

مجھ سے پہلےمیری آواز گرفتار ہوئی

 

سر پہ آتے ہوئے فرقے نہیں دیکھا کرتی

پیڑ کی چھاؤں تو ہم سے بھی سمجھدار ہوئی

 

خود سے اکتائی تو پھر سب کو میسر آئی

نیند اب جاگنے والوں کی طرفدار ہوئی  

 

اس سے آگے تو کہیں جا نہیں سکتا میں زمان

میری منزل ہی مری راہ کی دیوار ہوئی

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button