سکینڈل / احمد علی شاہ مشالؔ
سکینڈل
لوگ افواہوں کے تھال سجا کر
میری تنہائی کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔
کہتے ہیں،
یہ شخص تنہا نہیں ہو سکتا
کسی نہ کسی "چکر” میں ضرور ہوگا!
کبھی خاموش بیٹھے مسکراتا ہے،
کبھی دیوار سے سر ٹکائے گھنٹوں سوچتا رہتا ہے،
اور اکثر…
رات گئے تک جاگتا ہے۔
انہیں کیا معلوم
کہ میری راتیں کسی محبوبہ کی آغوش میں نہیں،
کتابوں کی پرانی خوشبو میں گزرتی ہیں
وہی کتابیں
جن کی جلدیں لمس کی شدت سے خستہ ہو چکی ہیں
اور صفحے رازوں کے بوجھ تلے
چپ چاپ جھک گئے ہیں۔
میری زندگی میں
بے شمار "سکینڈل” ہیں:
ایک شاعرہ کی نظم نے دل چرا لیا،
ایک فلسفی کی فکر نے نیندیں چھین لیں،
ایک ناول کی ہیروئن نے
میرے خوابوں پر قبضہ جما لیا،
اور ایک مؤرخ نے میرے یقین کو
چٹان سے گرا کر ریزہ ریزہ کر دیا۔
میں نے نظموں سے عشق کیا،
افسانوں سے وعدے کیے،
مضامین سے تلخ بحثیں کیں،
اور شاعری سے روٹھ کر
کتابیں بند کر کے پھینک دی تھیں
مگر ہر بار
صبح ہونے سے پہلے
انہیں پھر سے سینے سے لگا لیا۔
تو ہاں،
سچ کہتے ہیں لوگ
میں واقعی "سکینڈل باز” ہوں،
مگر میرے سارے سکینڈل
لفظوں، صفحوں،
اور اُن کہانیوں کے ساتھ ہیں
جنہوں نے مجھے،
مجھ سے بہتر سمجھا ہے




