نظم

SETI°° / اویس ضمؔیر

SETI°°

کوئی ہے؟

کوئی سُن رہا ہے؟

مِری ریڈیو دُوربینوں کی زد میں۔۔۔

کوئی ہے جو میری صدا سُن رہا ہے؟ 

مِری طرح اپنے فلک میں کوئی جھانکتا ہے؟ 

مِرا زردی مائل یہ سیّارہء نیلگوں کیا۔۔۔

کسی کی نگاہوں میں ٹھہرا ہُوا ہے؟

کسی کی توجہ کا مرکز بنا ہے؟

چلو، نیم شب شغلِ بیکار کا۔۔۔

ایک کمتر سا حصّہ سہی،

جستجو کا فقط ایک عنواں سہی۔۔۔

کیا کہیں دُور پار اِک جہانِ دگر میں 

کوئی اکتشافِ زمیں کے لیے۔۔۔

یوں ہی بے خانماں ہو رہا ہے؟ 

تجسّس کسی اور کو بھی رصد گاہ میں 

شب گزاری پہ اُکسا رہا ہے؟

کوئی ہے جو اپنے خلائی سفینے میں 

اِک زرد ادنی ستارے۔۔۔

کے اِس گولڈی لاکس* کوکب کی جانب

چلا آ رہا ہے؟

یا اگر آ گیا ہے تو پھر کیا۔۔۔

کہیں اِک نِہُفتہ جہت سے مجھے دیکھتا ہے؟

کوئی ہے؟ 

کوئی ہے؟ 

اگر ہے تو مجھ کو پتا دے۔۔۔۔

نشاں دے۔۔۔۔صدا دے۔۔۔

مِرے آلہء باصرہ کی

بُجھی اِسکرینیں جَلا دے!

مجھے دَم دلاسا،

مجھے حوصلہ دے

کہ اب میرے غم کے لیے 

کوکبِ نیلگوں بھی مِرا

اپنی ساری فراخی کے ہوتے ہوئے ۔۔۔

مختصر پڑ رہا ہے!

 

 

°°SETI: Search for Extra Terrestrial Intelligence

(امریکی سپیس ایجنسی کا دیگر دور افتادہ کواکب پر زندگی کےآثار کی تلاش کے پروگرام کا نام)

 

* Goldilocks

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button