خبریں

خیبر پختونخوا اسمبلی: مخصوص نشستوں پر حلف آج، سینیٹ انتخاب پر پی ٹی آئی میں پھوٹ/ اردو ورثہ


عام انتخابات کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد خیبر پختونخوا اسمبلی آج (اتوار) 25 مخصوص نشستوں پر اراکین کے حلف اٹھانے کے بعد مکمل ہونے جا رہی ہے۔

ان اراکین میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی نمائندے شامل ہیں، جو تمام اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اگرچہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے۔ تاہم مخصوص نشستوں پر ان کی دعوے داری الیکشن کمیشن نے مسترد کر دی تھی۔

بعد ازاں یہ نشستیں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی-پارلیمنٹرینز میں تقسیم کی گئیں۔

پرویز خٹک کی قیادت میں پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو کل 25 مخصوص نشستیں ملی ہیں۔

حلف برداری کے بعد کل 145 رکنی اسمبلی مکمل ہو جائے گی، جہاں 21 جولائی کو سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخاب ہونا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینیٹ انتخابات کے لیے حکومتی اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان چھ اور پانچ نشستوں کی تقسیم پر اتفاق ہو چکا ہے۔

تاہم، پی ٹی آئی کے بعض ناراض کارکنان پارٹی قیادت کے فیصلے سے نالاں ہیں اور آزاد حیثیت میں انتخابات لڑنے پر بضد ہیں۔

پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور امیدوار عائشہ بانو سمیت کئی رہنماؤں نے ہفتے کو ویڈیوز جاری کر کے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا۔

پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین سپریم کورٹ کی مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد سنی اتحاد کونسل کے اراکین ہیں اور کسی بھی رکن پارٹی ڈسپلن کے خلاف ورزی پر ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی کے چیئر مین بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین یہ نہ سمجھے کہ وہ آزاد ہے۔ 

جنرل نشست جیتنے کے لیے 18 سے 19 اراکین کے ووٹ درکار ہوتے ہے، اور اس حساب سے پی ٹی آئی پانچ نشستیں باآسانی جیت سکتی ہے۔ 

خواتین کی دونوں نشستیں بھی وہ جیت سکتی ہے اگر ووٹنگ دوسرے یا تیسرے مرحلے میں چلی جائے کیونکہ خواتین کی نشست جیتنے کے لیے 49 اراکین کی ووٹ درکار ہے لیکن پولنگ میں پہلے دو جتنے زیادہ ووٹ لیں گے، وہ کامیاب تصور ہوں جائیں گے۔

حزبِ اختلاف کے 52 اراکین مل کر دو جنرل اور ایک خاتون نشست حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم، اگر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین حزب اختلاف کو ووٹ دیتے ہیں تو نتائج میں رد و بدل ہو سکتا ہے۔

ادھر الیکشن کمیشن نے انتخابات کی نگرانی کے لیے آٹھ پولنگ افسران بھی تعینات کر دیے ہیں۔

Author

Related Articles

Back to top button