غزل
غزل / آدم کی طبیعت میں یہ جو خصلتِ بد ہے / خوشحال ناظر
غزل
آدم کی طبیعت میں یہ جو خصلتِ بد ہے
اس کی کوئی تائید نا اس کا کوئی رد ہے
جو دعویِٰ الفت کرے اور ہو بھی منافق
اس شخص پہ تعزیر یا اس پر کوئی حد ہے؟
اغیار نے جب چاروں طرف گھیر لیا ہو
مجھ تنہا پہ بس ماں کی دعا صورت ِ مد ہے
بے چین نگاہوں سے گرا اشکِ ندامت
مجھ ایسے گنہ گار کو جنت کی سند ہے
Author
URL Copied




