غزل

غزل / آدم کی طبیعت میں یہ جو خصلتِ بد ہے / خوشحال ناظر

غزل

 

آدم کی طبیعت میں یہ جو خصلتِ بد ہے

اس کی کوئی تائید نا اس کا کوئی رد ہے

 

جو دعویِٰ الفت کرے اور ہو بھی منافق

اس شخص پہ تعزیر یا اس پر کوئی حد ہے؟

 

اغیار نے جب چاروں طرف گھیر لیا ہو

مجھ تنہا پہ بس ماں کی دعا صورت ِ مد ہے

 

بے چین نگاہوں سے گرا اشکِ ندامت

 مجھ ایسے گنہ گار کو جنت کی سند ہے

 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button