اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / جوئے وصال سے بھی کنارا نہیں ہوا / عبداللہ ندیم

غزل

 

جوئے وصال سے بھی کنارا نہیں ہوا

پراک ہوس پہ دل کاگزارہ نہیں ہوا

 

آنکھوں کو تیرے بعد بھی اچھے لگے ہیں لوگ

لیکن کسی سے عشق دوبارہ نہیں ہوا

 

جانے بنا ہے کونسی مٹی سے یہ بدن

گردش میں آیا اور ستارہ نہیں ہوا

 

صورت کوئی سراب سی ہم پہ تھی مہرباں

کچھ اور دشتِ جاں میں سہارا نہیں ہوا

 

دل پر تمہارے بعد بھی آتے رہے ہیں غم

لیکن تمہارے بعد یہ پارا نہیں ہوا

 

مدت کے بعد آیا تھا اک لمحۂ نشاط

چشمِ فلک کو وہ بھی گوارا نہیں ہوا

 

بس کاروبارِ عشق ہے دنیا میں اے ندیم

جس میں کبھی کسی کو خسارہ نہیں ہوا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button