اُردو ادباُردو شاعرینظم
بے رحم / حمزہ-ز
بے رحم / حمزہ-ز
جوانی ایک دلکش نشہ ہے
اور موت کسی بھی وقت جسم پے غالب آ سکتی ہے
لیکن..
میرے وہ لفظ ہمیشہ زندہ رہیں گے
جو نشے کی حالت میں لکھے گئے ہوں
سینکڑوں سالوں بعد بھی
کوئی اگر دیکھ سکا
تو میری بےباکی واضع رہے گی
موت مجھ سے زیادہ ضدی نہیں
البتہ.. میں خدا کے طنز کا جواب نہیں دیتا
اِسکے باوجود کہ میں نے وادیوں میں سر نہیں مارا
خدا شاعر ہے
شاعر کچھ بھی کہہ سکتا ہے
میرا آدھا جسم جینے کے حق میں ہے
اور آدھا خودکشی کے
مجھے دو مقدس عورتوں نے زندگی عطا کی
اور میں نے ان دونوں کو خواب میں مرا ہوا دیکھا ہے
تب زندگی پہلی بار میری چیخوں سے گھبرائی
ورنہ یہ ہر دن گلوریا جینز میں بیٹھ کر
سب سے مہنگی کافی آرڈر کرتی ہے
اور چاہتی ہے کہ اسکا بل میں ادا کروں
حالانکہ میں کئی ہفتوں سے ایک وقت کا فاقہ کش ہوں
زندگی کافی کے سپ لیتے لیتے..
میرے جسم کا آدھا حصہ پی چکی ہے




