محرم الحرام ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ/ یونس باٹھ

اسلامی سال کاپہلا مہینہ محرم الحرام ہے،اس کے محترم،معززہونے کی بناء_ پراسے محر م الحرام کہاجاتا ہے۔ نیز قرآن کریم میں بارہ مہینوں میں سے جن چار مہینوں کوخصوصی حرمت اور تقدس حاصل ہے، ان چارعظمت والے مہینوں میں سے بھی پہلا بالاتفاق محرم الحرام کامہینہ ہے۔ محرم الحرام کا آغاز ہوچکا ہے،محرم الحرام کے مقدس ایام کے دوران پنجاب پولیس نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کر لیے ہیں۔ اس ماہ مقدس کا پہلا عشرہ خاص طور پر بہت حساس ہوتا ہے کیونکہ یہ شہادتوں کا مہینہ ہے۔وزارت داخلہ نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر بالخصوص پنجاب میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق ممکنہ خطرات اور سکیورٹی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیاہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج سول اداروں کی مدد کے لیے سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے گی۔سیکیورٹی کی تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں 30,000 سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ لاہور میں 2,900 سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی پر مامو ر ہیں 3محرم کو لاہور میں 15 عزاداری جلوس اور 395 مجالس کا انعقاد اور صوبہ بھر میں 136 جلوس اور 3,659 مجالس منعقد کی گئیں۔لاہور میں 15ہزار سے زائد کمیونٹی رضا کار پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔حساس مقامات پر اضافی فورسز، سی سی ٹی وی نگرانی، اور واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں۔حکومتی ہدایات اور پابندیوں کے مطابق دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا۔ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، اور نفرت انگیز مواد کی اشاعت پر مکمل پابندی ہے، طے شدہ روٹس کے علاوہ کسی بھی جلوس یا مجلس کی اجازت نہیں ہوگی۔لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی مکمل پاسداری لازمی قرار دیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کریں اور مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر 15 یا قریبی تھانے کو دیں۔ محرم الحرام دین اسلام کی سربلندی کی خاطر، قربانیوں اور شہادتوں کا مہینہ ہے جوہمیں ظالم کے سامنے ڈٹ جانے اور صبر و تحمل سے مقابلہ کرنے کا درس دیتا ہے۔۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں 90 عزاداری جلوس اور 3 ہزار 495 مجالس منعقد ہو رہی ہیں، صرف لاہور میں 8 عزاداری جلوس اور 386 مجالس ہو رہی ہیں۔یکم تا 10 محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے انتظامات کے پیشِ نظر پنجاب بھر میں 30 ہزار سے زائد افسران و اہلکار سیکیورٹی پر مامور رہیں گے۔پنجاب پولیس کے مطابق طے شدہ روٹس اور مقامات کے سوا کسی اور جگہ جلوس اور مجالس کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایک روز قبل صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ثانیہ عاشق کے ہمراہ سی سی پی اوبلال صدیق کمیانہ اور کمشنرزید بن مقصود نے نثار حویلی اور کربلا گامے شاہ کا دورہ کیا۔اوریوم عاشورکے مرکزی جلوس کے روٹ کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔قبل ازیں وفد نے پانڈو سٹریٹ امام بارگاہ اور جلوس کے روٹ کا دورہ بھی کیا اس موقع پر ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا، ڈی آئی جی (آپریشنز)فیصل کامران،ایس ایس پی (آپریشنز) تصور اقبال، ایس پی سکیورٹی عبدالوہاب،ایس پی(سٹی) بلال احمدودیگرافسران ان کے ہمراہ تھے۔پولیس و ضلعی انتظامیہ کے افسران کے وفد کوسکیورٹی امور سے متعلق بریفنگ دی گئی جبکہ بلال صدیق کمیانہ نے آغا حسین شاہ قزلباش ودیگر منتظمین سے سکیورٹی انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال، کرتے ہوئے انہیں بھرپور سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی جبکہ منتظمین نے سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سی سی پی او لاہور نے صوبائی وزیر بلال یاسین کو بتایا کہ لاہور پولیس محرم الحرام کے پْرامن انعقاد کیلئے پْرعزم ہے۔عزاداران کو تین درجاتی حصار پر مبنی حفاظتی سکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔ منتظمین کے تعاون سے مجالس اور جلوسوں کے شرکاء_ کی چیکنگ کے عمل کو موثر بنایا جارہاہے۔ کمیونٹی رضا کاربھی پولیس کے شانہ بشانہ عزاداروں کی شناخت اور چیکنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شہر میں ماتمی جلوسوں اور مجالس کے ہاٹ سپاٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ڈویڑنل ایس پیز امن کمیٹی ممبران اور منتظمین مجالس و جلوس سے مسلسل رابطے میں رہیں گے۔ مجالس و جلوسوں کے روٹس اور ملحقہ عمارتوں پر سکیورٹی عملہ الرٹ رہے گا جبکہ دفعہ144پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔




