منتخب کالم

ون ڈے میچز کا متبادل ٹی 30 میچز / مقبول احمد قریشی، ایڈووکیٹ


ایک قومی روزنامہ میں آج بھی یہ خبر دیکھنے میں آئی کہ ون ڈے کرکٹ میچز کو غالباً طویل اور تھکا دینے والے سمجھ کر آئندہ کسی وقت ٹی 20کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتاہے۔ انسانی ذہن بیشک ہر وقت رواں امورپر سوچ و فکر سے ان کی بہتری کے لئے تجاویز بناتا اور عملی اقدامات پر مائل کرتا رہتا ہے۔ جو ایک مثبت انداز کا ر ہے۔ تاکہ کسی شعبہ کی کارکردگی کے مختلف پہلوﺅں کو زیر غور لا کر نسبتاً بہتر عوامل کے نتائج کے حصول پر توجہ دی جائے۔ 

راقم محض ایک شائق ہو کر ہی مذکور بالا خبر کو دیکھ رہا ہے۔ آج کل کھیلے جا رہے ،ون ڈے کرکٹ میچز میں ہر میچ کی دونوں مقابل ٹیموں کو 50/50 اوورز کھیلنا ہوتے ہیں۔ جو ایک دن کے کھیل کے مقررہ اوقات میں بمشکل مکمل ہو پاتے ہیں۔ یوں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو بیٹنگ اور فیلڈنگ کرنے میں کم و بیش چار ، چار گھنٹے کا وقت لگ جاتا ہے۔ اس طویل دورانیے میں بعض کھلاڑی جسمانی طور پر تھک جاتے ہیں۔ جبکہ گراﺅنڈ میں کھڑے یا سٹیڈیم میں بیٹھے شائقین حضرات بھی اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ شاید اس وجہ سے بھی ون ڈے میچز کو متبادل کے طور پر ،ٹی 20 میں بدلنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہ طریقہ نسبتاً کم وقت اور محنت طلب ہے۔ 

اس بارے میں راقم کی گزارش یہ ہے کہ ٹی 20 کے میچز20 اوورز اور نسبتاً کم وقت پر محدود ہونے سے کھیل کی مطلوبہ ضرورت اور ورزش میں بھی کمی ہونے سے ون ڈے میچز کا مناسب متبادل نہیں ہیں۔ اگر مناسب ہو تو یہ تجویز زیر غور لائی جائے۔ کیونکہ ٹی 20 میچز تو ون ڈے میچز سے نصف سے بھی کم وقت اور اوورز کی تعداد پر محدود ہو کر جلد ختم ہو جاتے ہیں۔ لہذا ٹی 30 میچز کو ترجیح دے کر بطور متبادل قبول اور منظور کر لیا جائے۔ کیونکہ یہ فارمیٹ (Format) واضح طور پر زیادہ کارآمد نظر آتا ہے۔ جو کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس (Fitness) کو درست کرنے اور کھیل کی مہارت کو بہتر بنانے کے لئے کچھ موثر لگتا ہے۔ تاہم ٹی 20 کے مقامی اور بین الاقوامی میچز اپنے شیڈولز کے مطابق جاری رہیں۔ کیونکہ عوام کی ان میں خاصی دلچسپی اور منفرد تفریحی کشش پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بعض ترقی یافتہ ممالک کے مختلف علاقوں میں چند ماہ بعد میراتھن ریسز کا اہتمام طویل فاصلوں پر محیظ ہوتا ہے۔ جو وہاں کے مردو خواتین کی فٹنس کو ٹیسٹ کرنے اور بڑھانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ 

اس معاملہ کو مذکورہ بالا موضوع کے حوالے سے دیکھا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ کچھ طویل وقت کی بھاگ دوڑ اور جسمانی محنت و مشقت انسانی صحت پر عموماً مثبت اثرات ڈالتی ہیں۔ جن سے گریز یا فرار کی خواہش یا کوشش تو ہمت سے مشکلات کا مقابلہ کرنے سے پہلو تہی کا تاثر ظاہر ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے ملک کے لوگ تومشکلات سے گھبرایا نہیں کرتے بلکہ وہ پر امن رہ کر ، آئین و قانون کے تحت ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں ،فخر محسوس کرتے ہیں۔ جو ایسا نہیں کرتے وہ بھی کیا کریں۔ 





Source link

Author

Related Articles

Back to top button