منتخب کالم

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتیں/ میاں حبیب



راجدھانی بہت مشکل کام ہے۔ اگر ذمہ داریوں کا ادراک ہو تو یہ کانٹوں کی سیج ہے بڑوں کے بروقت اور درست فیصلے قوموں کو جلا بخشتے ہیں اور معمولی سی لغزش اور غلطی قوموں کو برباد بھی کر دیتی ہے۔ حکمرانوں کی غلطیاں قوموں کو صدیوں تک بھگتنا پڑتی ہیں۔ اپریل 2025 سے پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے اس کو سبق سکھانے کی منصوبہ بندی کی تو اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان آگے سے اتنا خوفناک جواب دے گا۔ بھارت کی پاکستان سے چھیڑخوانی اسے بہت مہنگی پڑی ہے۔ آج بھارت پوری دنیا میں رسوا ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کی پوری قوم مایوسی کا شکار ہو چکی ہے، مودی منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔
 اپریل کے بعد آج تک مودی کسی بیرونی دورے پر نہیں گیا۔ دنیا اس سے کنی کترانے لگی ہے جبکہ بروقت درست اور دلیرانہ فیصلے نے جنرل عاصم منیر کو ہیرو بنا دیا ہے۔ ایک فتح نے نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان کی اہمیت دوچند ہو چکی ہے اور خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت ایک قائدانہ کردار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ آج پاکستان کے حکمران سپہ سالار اور پوری قوم چھاتی تان کر دنیا میں ایک وقار کے ساتھ پھر رہی ہے۔ 
اوورسیز پاکستانیوں کے جذبات قابل دید ہیں۔ آجکل فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ کے دورہ پر ہیں۔ وہاں انھوں نے پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا ہے جس میں انھوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی گفتگو ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کر رہی ہے۔ انھوں نے واشنگٹن میں بھارت کو دھول چٹوانے کی ساری روداد سنا کر خوب داد سمیٹی۔ ان کا امریکہ میں جنگی حقائق بتانے کا خاص مقصد تھا جس میں سمجھداروں کے لیے بہت ساری نشانیاں ہیں۔ انھوں نے پاکستانیوں کی مہارت کو بھی سراہا اور کہا کہ ہم نے چینی ایکوپمنٹ بھی استعمال کیا لیکن جس مہارت کا ہمارے جوانوں نے مظاہرہ کیا وہ شاید چینی بھی نہ کر سکیں۔ انھوں نے پاکستانیوں سے کھل کر باتیں کیں، انھیں بتایا کہ کس طرح بھارت کے نظام کو ہیک کر کے بجلی غائب کی گئی، ڈیمز کے سپیل وے کھولے گئے، بی جے پی کی ویب سائٹ پر پاکستانی پرچم لہرائے گئے، دہلی سے گجرات تک ڈراونز راج کرتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ دوران جنگ ساری قوم نے کمال ردعمل کا مظاہرہ کیا۔
 ہر طبقے کا ردعمل اس قدر منظم اور پرفیکٹ تھا کہ جیسے یہ اسکرپٹڈ رسپانس ہو۔ انھوں نے کشمیر سمیت اہم معاملات پر بہت کچھ ہونے کی نوید بھی سنائی۔ ان کے بقول اگلے پانچ سالوں میں پاکستان ترقی کرتا ہوا نظر آئے گا، انھیں پاکستان کے وسائل صلاحیتوں اور معیشت کا بھی بخوبی ادراک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ یوکرائن سے 400 سے 500 ارب ڈالر کی دھاتوں کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایسے ایک کھرب ڈالر کے ذخائر ہیں۔ اگر امریکہ سرمایہ کاری کرے تو ہر سال 10 سے 15 ارب ڈالر کا فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور یہ سلسلہ 100 سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ پاکستان دھاتوں کی پراسیسنگ مقامی سطح پر چاہتا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے۔ ایک ذمہ دار ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق اگلے سال سے بلوچستان کے حالات بالکل درست ہو جائیں گے وہاں ترقی کا نیا سفر شروع ہونے والا ہے۔ پاکستان کئی حوالوں سے بہت اہم ہونے جا رہا ہے اور ان تمام تر معاملات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قائدانہ کردار ہوگا۔
 قارئین ابھی پاکستان میں میزانیوں کا موسم ہے وفاق کے بعد صوبے بھی بجٹ پیش کر رہے ہیں ان کے تخمینہ جات میں شاید عام آدمی کے لیے دلچسپی کا اتنا سامان موجود نہ ہو لیکن حالات بہتری کی طرف جانے کے امکانات موجود ہیں۔ صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی قریب میں جو کچھ ہو چکا اس پر مٹی ڈال کر سب اسٹیک ہولڈرز کو نئے تقاضوں کے مطابق ازسرنو معاملات طے کرنے چاہیں۔ کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالنا چاہیے جس سے ماضی کو بھلا کر ہر ایک کو اس کا جائز مقام مل سکے اور کم از کم قومی ایجنڈے پر اتفاق رائے کرکے آگے بڑھا جا سکے۔ پاکستان کے پاس بہت سارے مواقع موجود ہیں لیکن ساتھ ہی خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔ اگر ہم درست فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھے تو کایا پلٹ سکتی ہے لیکن کوئی بھی حماقت غلطی اور نئی لڑائی سارا بنا بنایا ماحول خراب کرنے کے لیے کافی ہو گی۔ اس لیے جتنا جلدی ہو سکے اتفاق رائے کا ڈول ڈال کر سب کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے۔
٭…٭…٭





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button