منتخب کالم
جنگی بجٹ ‘ تیبل گبول متحدہ ارکان کے درمیان نوک جھونک/ وقار عباسی

پیر کو ایوان زیریں کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائو س میں منعقد ہوا ۔ اجلا س میں اراکین اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر کو دئیے گئے لامحددو اختیارات کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے حکومت کو(صفحہ 4پر بقیہ نمبر 1)
ان پر نظر ثانی کا مشورہ دیا۔ اراکین نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے لوگوں کی جانب سے سولرکے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے عمل کی بجٹ میں حوصلہ شکنی کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے موجودہ سال کے بجٹ کو جنگوں کے بجٹ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ ایشیاء اور دنیا میں جنگوں نے صورتحال کو تبدیل کردیا ہے۔ حکومتوں کی ترجیہات اور سرمایہ کاری کے رخ تبدیل ہوگئے ہیں۔ جغرافیہ کی اہمیت بڑھ گئی ہے ،اجلا س میں پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے اندر ان کے تحفظات کو اگر ایڈریس نہ کیا گیا تو وہ حکومت کو ووٹ اور سپورٹ نہیں کریں گے۔ عبدالقادر پٹیل نے اراکین اسمبلی سے استفسار کیا کہ کیا انہیں 114سی کا علم ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ 114-Cاب بنک میں اکائونٹ نہیں کھلوا سکے گا، یہ آئین کے آرٹیکل 28 اور آرٹیکل 18کی صرححا ً خلاف ورزی اور شخصی آزادی سے متصادم ہے، انہوں نے کہا بجٹ میں بس یہ پڑھنا رہ گیا ہے نان فائلرز اگر رشتہ مانگیں تو انہیں نہیں ملے گا، اگر سموسہ خریدے گا تو ساتھ چٹنی نہیں ملے گی۔ ایف بی آر کو لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بس بیڈروم باقی رہ گیا ہے صرف شک کی بنیاد پر وہ لوگوں کو گرفتارکر سکتے ہیں۔ اراکین نے بجٹ میں سولرز پینل پر ٹیکس عائد کرنے کو بھی عوام دشمن قرار دیا ہے۔ ارکان نے بجٹ میں سیاحت کو ترجیح نہ دینے اور خواتین کو نظر انداز کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رکن شفقت عباس اور عون چوہدری جبکہ پی پی رکن نبیل گبول اور ایم کیو ایم کے راکین کے درمیان نوک جھونک چلتی رہی۔ ایوان کی کارروائی ابھی جاری تھی کہ ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج صبح تک کے لیے ملتوی کر دیا۔
پارلیمانی ڈائری
ان پر نظر ثانی کا مشورہ دیا۔ اراکین نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے لوگوں کی جانب سے سولرکے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے عمل کی بجٹ میں حوصلہ شکنی کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے موجودہ سال کے بجٹ کو جنگوں کے بجٹ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ ایشیاء اور دنیا میں جنگوں نے صورتحال کو تبدیل کردیا ہے۔ حکومتوں کی ترجیہات اور سرمایہ کاری کے رخ تبدیل ہوگئے ہیں۔ جغرافیہ کی اہمیت بڑھ گئی ہے ،اجلا س میں پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے اندر ان کے تحفظات کو اگر ایڈریس نہ کیا گیا تو وہ حکومت کو ووٹ اور سپورٹ نہیں کریں گے۔ عبدالقادر پٹیل نے اراکین اسمبلی سے استفسار کیا کہ کیا انہیں 114سی کا علم ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ 114-Cاب بنک میں اکائونٹ نہیں کھلوا سکے گا، یہ آئین کے آرٹیکل 28 اور آرٹیکل 18کی صرححا ً خلاف ورزی اور شخصی آزادی سے متصادم ہے، انہوں نے کہا بجٹ میں بس یہ پڑھنا رہ گیا ہے نان فائلرز اگر رشتہ مانگیں تو انہیں نہیں ملے گا، اگر سموسہ خریدے گا تو ساتھ چٹنی نہیں ملے گی۔ ایف بی آر کو لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بس بیڈروم باقی رہ گیا ہے صرف شک کی بنیاد پر وہ لوگوں کو گرفتارکر سکتے ہیں۔ اراکین نے بجٹ میں سولرز پینل پر ٹیکس عائد کرنے کو بھی عوام دشمن قرار دیا ہے۔ ارکان نے بجٹ میں سیاحت کو ترجیح نہ دینے اور خواتین کو نظر انداز کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رکن شفقت عباس اور عون چوہدری جبکہ پی پی رکن نبیل گبول اور ایم کیو ایم کے راکین کے درمیان نوک جھونک چلتی رہی۔ ایوان کی کارروائی ابھی جاری تھی کہ ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج صبح تک کے لیے ملتوی کر دیا۔
پارلیمانی ڈائری




