گرمی کی شدت درجہ حرارت میں اضافہ ہیٹ الرٹ جاری کر دیا گیا نوجوانوں نے فری سوئمنگ پول لاہور کینال نہر کا رخ کرلیا/ چودھری خادم حسین

گرمی کی اسی شدت سے دوپہر سے سہ پہر تک سڑکوں پر ٹریفک بھی کم ہوتا ہے جو سہ پہر کے بعد چھٹی کے وقت بہت بڑھ جاتا ہے اس سے سڑکوں پر معمول سے زیادہ گاڑیاں ہوتی ہیں اور ٹریفک جام بھی ہوتی ہے۔ خصوصاً کینال روڈز، فیروزپور روڈ، مال روڈ اور جیل روڈ پر یہ معمول ہے۔ ٹریفک پولیس بے بسی کا اظہار کر چکی۔ ٹریفک وارڈنز بھی درختوں کے سائے میں کھڑے ہو کر موٹرسائیکل سواروں کے چالان کرتے ہیں، ٹریفک کی فکر نہیں کرتے، چوراہوں میں ون وے اور اشارے کی خلاف ورزی بھی انہی کے سامنے ہوتی اور یہ معمول ہے ٹریفک میں رکاوٹ کی وجہ اول درجے میں خود ڈرائیور حضرات کی ہیں جو ٹریفک قواعد کو نظر انداز کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر ہوتے رہتے ہیں اگر یہ حضرات خلاف ورزی سے باز آ جائیں اور اپنی اپنی لین میں چلیں اور دوسروں کے حقوق کا بھی تحفظ کریں تو گاڑیوں کے زیادہ ہو جانے کے دباؤ کے باوجود بھی ٹریفک رواں رہ سکتی ہے۔ جہاں تک کینال روڈز کا تعلق ہے تو یہاں ٹریفک جام کی وجہ وہ انڈر پاس ہی بن گئے ہیں جو سہولت کے لئے بنائے تھے۔ انڈر پاسز تین لین کی گنجائش والے ہیں گاڑیوں والے انڈر پاس قبل چار یا پانچ لینز بنا کر سفر کرتے ہیں، انڈر پاس قریب آنے پر بائیں طرف والے مرکزی ٹریفک میں داخل ہوتے ہیں تو قطاروں والا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور پیچھے گاڑیوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں،یہ مسئلہ ٹریفک قواعد کی پابندی کرانے سے حل ہو سکتا ہے بشرطیکہ شہریوں کو اپنی اپنی لین تک گاڑی رکھنے کی تربیت دی جائے دوسرے ٹریفک وارڈنز حضرات سے بھی کہا جائے کہ وہ چوراہوں پر چوکس ہو کر غلط ڈرائیونگ والوں کا احتساب کریں، اس کے علاوہ ٹریفک وارڈنز کو اپنی ٹیموں کے ساتھ ون وے اور اشارے کی خلاف ورزی کی روک تھام کرنا چاہیے۔
گرمی کی شدت کا عرض کیا تو لاہوریوں نے معمول کے مطابق فری سوئمنگ پول کا رخ کرلیا ہے اور نوجوان گرمی کی تپش سے بچنے کے لئے نہر کا رخ کر چکے ہیں۔لاہور کینال پر جلو سے لے کر مغل پورہ تک نوجوان چھلانگیں لگاتے پائے جاتے ہیں، جلو پارک کے قریب بی آر بی سے ایک چھوٹی سی نہر یا نالا بھی نکالا گیا ہے اس کی گہرائی کم ہوتی ہے کئی فیملیوں والے حضرات یہاں مستفید ہوتے ہیں، اس کے علاوہ مشروبات کا استعمال بھی بڑھ گیا اس میں بعض مضر مشروب بھی بیچے جا رہے ہیں۔
سیاسی میدان کھلا ہے، لاہور میں کوئی سرگرمی نہیں، فوج سے اظہار یکجہتی اور فتح کے حوالے سے اب بھی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور لوگ پر جوش ہیں کاروبار معمول کے مطابق جاری ہیں اور مہنگائی بھی معمول ہی ہے۔ البتہ پیاز اور ٹماٹر کی پیداوار میں اضافے سے مارکیٹ متاثر ہوئی پیاز اور ٹماٹر پرچون میں پچاس روپے کی کلو بک رہے ہیں جبکہ تھوک میں یہ چالیس روپے فی کلو ہیں، باقی فروٹ مہنگا ہے البتہ تربوز کے نرخ 50سے 65روپے فی کلو تک ہیں باقی اشیاء بدستور مہنگی ہیں، مرغی اور فارمی انڈوں کے ساتھ ساتھ چینی مافیا میدان عمل میں ہے اور معمول سے کہیں زیادہ نرخ وصول کئے جا رہے ہیں، مرغی کے گوشت کے نرخ بھی چھ سو سے بڑھ گئے اور انڈے تین سو روپے فی درجن بک رہے ہیں۔جرائم کی شرح میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ٹریفک حادثات بھی بڑھ گئے ہیں۔ پی ایس ایل آخری مرحلے تک پہنچ گئی، آج فائنل کا سلسلہ لاہور میں شروع ہو گا، پہلا میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹر اور کراچی کنگز میں ہو گا، فائنل25 مئی کو مقرر ہے، غیر ملکی کھلاڑی بھی کھیل رہے ہیں، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا اہم ضرورت ہے۔




