کالم

پاکستان فلسطین کی عسکری مدد کیوں نہیں کر سکتا ؟ سنیہ زہرہ

قوموں کی قیادت صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ میدانِ عقل و تدبیر میں بھی کی جاتی ہے۔

فلسطین کے نہتے عوام پر اسرائیلی ریاست کی مسلسل جارحیت نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق کی علمبردار عالمی قوتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، تو دوسری طرف اسلامی دنیا کی بے بسی اور تقسیم دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے حساس اور نظریاتی ملک کے عوام اور خواص میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے کہ کیا پاکستان کو فلسطین کے حق میں کوئی عسکری قدم اٹھانا چاہیے؟ کیا ایک اسلامی جنگی قافلہ تشکیل پا سکتا ہے؟ کیا ہمیں خاموش تماشائی بنے رہنا چاہیے یا عملی قدم اٹھانا چاہیے؟

یہ سوالات بظاہر ایمانی غیرت اور انسانی ہمدردی سے لبریز ہیں، مگر ان کا جواب صرف جذبے کی بنیاد پر دینا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے کسی اقدام سے قبل بین الاقوامی قوانین، سفارتی تقاضے، علاقائی اور داخلی صورتحال کا عمیق جائزہ لینا ضروری ہے۔

اقوامِ متحدہ کا چارٹر واضح طور پر رکن ممالک کو کسی بھی خودمختار ریاست کے خلاف از خود فوجی طاقت استعمال کرنے سے منع کرتا ہے، سوائے دو صورتوں کے: اگر وہ ملک اپنے دفاع میں ہو، یا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کی منظوری دی ہو۔ فلسطین چونکہ ایک خودمختار ریاست کے طور پر اقوامِ متحدہ کا مکمل رکن نہیں، اور اسرائیل کے ساتھ باضابطہ جنگی کیفیت اقوامِ متحدہ نے تسلیم نہیں کی، اس لیے پاکستان کی طرف سے از خود فوجی کارروائی کو جارحیت تصور کیا جا سکتا ہے، جو کہ بین الاقوامی سطح پر نہ صرف تنقید کا نشانہ بنے گا بلکہ ممکنہ طور پر اقتصادی اور سیاسی نتائج بھی جنم دے گا۔

تاحال فلسطینی اتھارٹی، حماس، یا کسی دیگر مسلم ریاست کی طرف سے پاکستان کو رسمی طور پر فوجی مداخلت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا۔ یہ بات اہم ہے کہ عرب دنیا کے بڑے ممالک جیسے سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات وغیرہ، جو خطے کی قیادت کے دعوے دار ہیں، وہ بھی ابھی تک اس جارحیت کے خلاف صرف سفارتی بیانات تک محدود ہیں۔ ان ممالک کی داخلی سیاسی ترجیحات، مغربی دنیا سے وابستگیاں، اور باہمی اختلافات انہیں عسکری مہم جوئی سے روکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یکطرفہ اقدام عرب دنیا کے لیے باعثِ اختلاف بن سکتا ہے، اور وہ ممکنہ طور پر پاکستان سے فاصلہ اختیار کر سکتے ہیں جو پاکستان کی خارجہ پالیسی، لیبر مارکیٹ، اور زرمبادلہ پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے۔

اگر پاکستان امت واحدہ کے نظریے کے تحت کسی عسکری اقدام کا فیصلہ کرے تو اس کے اثرات صرف اسرائیل کے خلاف نہیں ہوں گے، بلکہ عالمی نظامِ طاقت پاکستان کو اپنے نشانے پر لے لے گا۔ امریکہ، یورپی یونین، اور دیگر عالمی ادارے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے جیسے IMF اور FATF پہلے ہی پاکستان پر سخت نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی غیر ذمہ دار عسکری اقدام سے پاکستان کے معاشی استحکام کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کی طرف سے جو اسرائیل کے قریبی حلیف ہیں۔ اسرائیل یا اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے سائبر حملے، دہشت گردی کی کارروائیاں، یا خفیہ آپریشنز کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی داخلی سلامتی پہلے ہی مختلف چیلنجز کا شکار ہے۔ خلیجی ریاستیں اگر اس اقدام کو ناپسند کریں تو وہاں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار، پاکستان کو ملنے والی remittances، اور سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر عسکری اقدام ممکن نہیں تو کیا پاکستان صرف بیانات تک محدود رہے؟ نہیں! پاکستان کے پاس ابھی بھی کئی مؤثر اور ذمہ دارانہ راستے موجود ہیں۔ پاکستان اقوامِ متحدہ، او آئی سی، عرب لیگ، اور دیگر پلیٹ فارمز پر فعال کردار ادا کرے۔ فلسطین کے حق میں قراردادیں، جنگی جرائم کی تحقیقات، اور عالمی برادری پر دباؤ کے لیے مسلسل جدوجہد کرے۔ پاکستان میڈیکل ٹیمیں، فلاحی سامان، خوراک، اور دیگر لاجسٹک سپورٹ فلسطینی عوام کے لیے بھیج سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کا عالمی تاثر بہتر ہوگا اور حقیقی مدد ممکن ہو سکے گی۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات درج کرانے کے لیے پاکستان عالمی ماہرینِ قانون کے ساتھ مل کر اقدامات کرے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو فلسطینیوں کے مقدمے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہوگا۔ میڈیا، تھنک ٹینکس، اور سفارتی محاذ کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی بربریت کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔

یہ وقت صرف نعرے لگانے یا وقتی جذبات میں بہہ جانے کا نہیں۔ ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہوگا۔ محض وقتی جوش میں لیے گئے فیصلے قوموں کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان کو جذبہ ایمانی کو حکمت عملی کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ فلسطین کے ساتھ ہماری وابستگی محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی رشتہ ہے ۔ مگر اس رشتے کو نبھانے کے لیے تدبر، سفارت، اور بصیرت کی ضرورت ہے۔ قوموں کی قیادت صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ میدانِ عقل و تدبیر میں بھی کی جاتی ہے۔

ہمیں خود کو دیگر ممالک جیسے روس، اسرائیل یا امریکہ سے موازنہ کرنے کے بجائے کہ وہ بھی تو یہ کرتے ہیں ، بین الاقوامی قوانین، معاہدات، اور اپنی مخصوص جغرافیائی و سفارتی حیثیت کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ ہر ملک کے اقدامات اس کے مخصوص مفادات، طاقت اور عالمی حیثیت کے تحت ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں دانشمندی، ذمہ داری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

Author

Related Articles

Back to top button