اسرائیلی امریکی قیدی کی رہائی کے بدلے فائر بندی نہیں ہو گی: نتن یاہو/ اردو ورثہ

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے پیر کو کہا ہے کہ حماس کی جانب سے اعلان کردہ ایک امریکی-اسرائیلی قیدی کی رہائی غزہ میں فائر بندی یا فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا سبب نہیں بنے گی۔
اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں نتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں تمام قیدیوں کی رہائی کے ممکنہ معاہدے پر مذاکرات ’گولہ باری کے دوران اور لڑائی میں شدت کی تیاریوں کے ساتھ‘ جاری رہیں گے۔
اتوار کو حماس نے کہا کہ وہ امریکی-اسرائیلی فوجی ایڈن الیگزینڈر کو، جو غزہ میں موجود ہیں رہا کر دے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حماس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ جنگ سے تباہ حال علاقے میں فائر بندی کے لیے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں مصروف ہے۔
اگرچہ کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی لیکن 21 سالہ ایڈن الیگزینڈر کے خاندان نے کہا ہے کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ ممکن ہے وہ ’آنے والے دنوں میں‘ رہا کر دیے جائیں۔
نتن یاہو نے کہا کہ ’اسرائیل نے کسی بھی قسم کی جنگ بندی یا دہشت گردوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا، بلکہ صرف ایک محفوظ راہداری کی منظوری دی ہے جو ایڈن کی رہائی ممکن بنائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایڈن الیگزینڈر کی رہائی کا وعدہ غزہ کی پٹی میں ’فوجی دباؤ‘ کے نتیجے میں حاصل کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا: ’ہم ایسے نازک دنوں میں ہیں جن میں حماس کے سامنے ایک ایسا معاہدہ رکھا گیا ہے جو ہمارے قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنا سکتا ہے۔‘
قبل ازیں دو حماس عہدےداروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ دوحہ، قطر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہوں نے بتایا کہ ’پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
ادھر اسرائیلی حملے جاری رہے، جب کہ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے اطلاع دی کہ ایک سکول پر رات گئے اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 10 افراد کی جان گئی۔ سکول میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔
سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ ’کم از کم 10 افراد، جن میں کئی خواتین اور بچے شامل ہیں، جان سے گئے اور درجنوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ حملہ فاطمہ بنت اسد سکول پر کیا گیا، جہاں جبالیہ شہر میں دو ہزار سے زائد بے گھر افراد مقیم تھے۔‘




