نظم
نظم / ماضی / لاریؔن جعفری
ماضی
گھڑی پہ یک ٹک نظر ٹکی ہے
گھڑی کی ٹِک ٹِک سے اک خلل ہے
جو کمرے کی چپ کو توڑتا ہے
کوئی بدن ہے! جو خود میں سمٹا ہوا پڑا ہے
وہ گزرے ماضی کی تلخ یادوں میں کھو چکا ہے،
لرز رہا ہے.
اور اُس پہ وحشت کے بڑھتے سائے اکیلے پن کی گڑی ہوئی کیل کھینچتے ہیں!
وہ ایک کمرہ لحد کی مانند دِکھ رہا ہے
جہاں پہ دشواری سانس لینے میں ہو رہی ہے،
کہ جب کے کھڑکی کُھلی ہوئی ہے
کسی کی موجودگی کا احساس اُس کے کمرے میں ہو رہا ہے
یہ کون ہے؟ آئینے میں خود کو سنوارتا ہے
یہ اِس کا ماضی ہے جس کے ڈر سے لرز رہا ہے.
اور ایک خنجر بھی ہاتھ میں ہے کہ خون جس سے ٹپک رہا ہے
اِسی کے کمرے میں تین لاشے پڑے ہوئے ہیں
یہ کس کے لاشے پڑے ہوئے ہیں؟
یہ کل ہے اِس کا، یہ آج ہے اور یہ اِس کا، خود کا!
یہ مر چکا ہے…
یہ اپنے ماضی کے ہاتھوں بے دردی سے مرا ہے!




