اللہ کا انتباہ / بلقیس ریاض

کافی دنوں سے میرا قیام اسلام آباد میں تھا… گوکہ کتنے دنوں سے موسم خوشگوار تھا…لاہور کی نسبت موسم خاصا خنک تھا. اس موسم میں جی بے انتہا خوش تھا…موسم کی رنگینی دیکھ کر کس کا جی نہیں چاہتا باہر بیٹھنے کو….میرا جی مچلنے لگا کہ باہر کا موسم انجوائے کروں…آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں کہ آسمان پر بادل امڈ آئے اور آسمان سے بوندا باندی ہونے لگی…پھر آہستہ آہستہ ڑالہ باری ہونے لگی…درخت زور دار ہواؤں سے جھومنے لگے…اور درختوں کے جھومنے کی موسیقی سماعت سے ٹکرانے لگی…یہ منظر یوں لگنے لگا جیسے یہ میں ایک خواب میں دیکھ رہی ہوں۔ بہت ہی بھلا اور بہت ہی حسین۔۔۔
پھر یکدم زور شور سے ڑالہ باری ہونے لگی. پھر دیکھتے ہی دیکھتے اتنے بڑے سائیز کے اولے برسنے لگے…کہ لان کی زمین تو کیا…باہر سڑکوں پر سفید اولوں کی چادر بچھ گئی…لان کے پھول تہس نہس ہو گئے جیسے کبھی اْگے ہی نہیں تھے…ہوائیں آندھی کی صورت میں اور بھی تیز ہو گئیں…گھنے درختوں کے پتے تیزی سے گرنے لگے اور چند سیکنڈ میں درخت جھڑ کے بنجر ہو گئے ا ور درختوں کا سارا سبزہ زمین پر بچھ گیا…لان میں بچھی ہوئی پلاسٹک کی ساری کرسیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں…گھر کی کھڑکیاں کرچی کرچی ہو گئیں…زندگی میں اتنے بڑے اولے میں نے نہیں دیکھے تھے…غرض کہ سڑکوں پر گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے…اور اولوں کا سائز بڑا ہونا شروع ہو گیا۔
طوفان اتنی تیزی سے آیا کہ دل دہل گیا…لوگ گھروں میں سجدہ ریز ہو گئے…آس پاس کی مسجدوں میں اذانوں کی آوازیں آنے لگیں اور خدا خدا کر کے…طوفان ٹھہر گیا…تو لوگ مسجدوں کی طرف شکرانے کے نوافل پڑھنے کیلئے بھاگے۔ نہ جانے کس کی دعا قبول ہو گئی اور یہ طوفان ٹھہر گیا…آن کی آن میں اللہ کا قہر ہی نازل ہو گیاتھا۔ گوکہ طوفان کے تھمتے ہی لوگ مسجدوں پر سجدہ ریز ہو کر اللہ سے گڑگڑا کرتوبہ کرنے لگے۔ مگر…بالکل اسی طرح جب میت دفنانے کیلئے جاتے ہیں…تو میت کو لحد میں ڈالا جا رہا ہوتا ہے اور زمینوں اور پلاٹوں کی باتیں کرتے…کاروباری لین دین کی…اسی طرح مسجدوں میں نوافل پڑھنے کے بعد بالکل لوگوں کو نارمل حالات پر دیکھا۔ بالکل اس طرح جیسے توبہ قبول ہو گئی ہے…..اب جو مرضی کریں۔
اگر دیکھا جائے تو انسان مسلسل اللہ کی ناراضگی مول لے رہا ہے. اگر اس بات کو غور سے دیکھا جائے کہ ماضی میں اقوام کیوں برباد ہوئیں، کیوں زلزلے سیلاب آتے رہے…اور یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ قانون قدرت بھی ہے جس میں بچاؤ ناممکن ہے۔ اگر بندہ اللہ سے سچی توبہ کرے اور نیک دلی سے معافی مانگ لے تو اللہ غفورالرحیم انسانوں کو جلد ہی بخش دے گا…لہٰذا یہ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ بنی نوع انسان کی کیا حقیقت ہے… اللہ تاجروں کو ہدایت دے اور وہ لین دین کے کاروبار میں سچائی اور ایمانداری سے کام لیں۔
اب آٹے کوہی لے لیں۔ نہ جانے اس میں کس قسم کی ملاوٹ ہوتی ہے…یوں لگتا ہے کہ روٹی نہیں منہ میں ربڑ ڈال دیا ہو…اگر لوگ باز آجائیں…اللہ اور رسول۔ کی پیروی کرتے ہوئے ہر معاملے میں ایمانداری سے کام لیں تو اس طرح کے عذابوں سے لوگ بچ سکتے ہیں. یہ اللہ کا انتباہ تھا..اور کئی بار پہلے بھی اللہ یہ انتباہ کر چکا ہے.
خاص کر غریبوں کا سوچیں۔ راشن ذخیرہ کرنے کی بجائے ایمانداری سے کام لیں۔ اللہ کو خوش رکھیں اور غریبوں کی مدد کریں تو ایسے جھٹکوں سے بچ جائیں گے۔
جیسے دس سے پندرہ منٹ میں اسی حسین موسم کو اور خنک ہواؤں کو جو لوگ انجوائے کر رہے تھے، اللہ نے اپنے ہونے کا ثبوت دے کر زبردست طوفان میں تبدیل کر دیا۔ یہ ہلکا سا جھٹکا تھا…لوگوں کو سوچنا چاہیے اور اپنے اعمال درست کرنے چاہیئیں. یہ دنیا صرف چند روزہ ہے پھر اچھے اعمال آخرت میں کام آئیں گے۔
میری دعا ہے کہ لوگ اللہ اور رسول۔ کی پیروی کرتے ہوئے اس کے احکام پر چلیں۔




