منتخب کالم

  ضمیر کہاں ہے؟/ پروفیسر مدثر اسحاق



” میں تو ہرگز تیری بات نہیں مانوں گا“، ”جاﺅ جاﺅ جو کرنا ہے کر لوجو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو“، ”اگر ایسا ہے تو پھر ایسے ہی سہی“، پھر گالم گلوچ، ہاتھا پائی اور بالآخر ”گولیاں“ چل پڑیں۔ ایک قتل ہوا، دو تین بندے شدید زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ دراصل ایک دیہات میں پیش آیا۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ حقیقی کزنوں کے درمیان وراثتی چند مرلے زمین کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہوئے، جو کہ گفت و شنید کے ذریعے باآسانی حل ہو سکتے تھے، لیکن ”ذہنی غنودگی“ و ”اپاہج پن“ کی وجہ سے کوئی ایک فریق بھی بات سننے کو تیار نہ تھا، صبر و تحمل، حسن ظن اور عقل و شعور کا استعمال دانستہ طور پر ترک کر دیا گیا۔ ”ماڑے نصیب“ ، ذہنی نگار خانہ یا تربیت کا ظلم و ستم کہہ لیں، تھوڑا سا مالی نقصان، چند منحوس ساعتوں میں ناقابل تلافی اور نا قابل یقین نقصان میں تبدیل ہو گیا۔ نتیجے کے طور پر ”عداوت و دشمنی“ کا نہ رکنے والا بھیانک سلسلہ شروع ہوا، جس نے پھر سارے خاندان کو اپنی ”تابکاری“ کی لپیٹ میں لے لیا۔ تعلیم، امن و سکون حتی کہ عزتیں تک رل گئیں، اگر کوئی پوچھے تو کہ ”کیا ہاتھ آیا“۔ یہ واقعہ ذہن میں رکھتے ہوئے تھوڑا سا تذکرہ چند سالوں سے جاری وطن کے حالات کے بارے میں کرتے ہیں۔ مختلف فکر اور سوچ کی حامل سیاسی پارٹیوں کا وجود جمہوری نظام کا خاصہ ہے۔ ہمارے ”آئین“ نے آزادی عطاءکی ہے کہ ہر شہری اپنی علیحدہ ”سیاسی جماعت“ بنا سکتا ہے۔ اور ہمارے سیاست دانوں نے اس حق کا کیا خوب استعمال کیا ہے، الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں کم و بیش ”73“ سیاسی جماعتیں اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ الیکشن میں ”اکثریت“ حاصل کرنے کےلئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنا، بلکہ کسی غریب کی جان تک لے لینا، ان کے ہاں عام بات ہے۔ پارلیمنٹ میں پہنچ کر ایک دوسرے کو پھر نیچا دکھانا ، ممبران پارلیمنٹ کے ضمیر کو خریدنے کی کوشش کرنا اور خرید لینا اور پھر جو ”اپوزیشن“ میں بیٹھتا ہے، اس کا کام صرف اور صرف حکومت کی ٹانگیں کھینچنا ہوتا ہے، پیش نظر نہ کوئی ملکی مفاد، نہ ریاستی استحکام،نہ عوام کے فائدہ و نقصان سے کوئی غرض۔ ٹارگٹ او رمنزل صرف اور صرف ”پیاری کرسی“ تک پہنچنا ٹھہرا ہے۔ اگر وطن عزیز کی گذشتہ تاریخ سے چند لمحوں کے لئے صَرف نظر بھی کر لیا جائے، اور حالیہ چند برسوں پر فوکس کیا جائے، کہ کس طرح اپنے اپنے مفادات کی خاطر، اہم اداروں اور ملکی مفادات کو سرعام تماشا بنایا گیا۔ عوام کے نظریات کو تقسیم کر کے ایک خطرناک و خوفناک Extreme پیدا کی گئی، نہ کسی کی بات، نہ کوئی دلیل سننی، ماننی ہے۔ بس لڑائی جھگڑے پر اتر آنا ہے۔ بہت بڑا نقصان، ملکی اداروں کا امیج خراب اور اندرونی بے چینی پیدا کی گئی۔ اور پھر سب نے دیکھا کہ کس ڈھٹائی کے ساتھ دشمن سرحدوں پر آن کھڑا ہوا۔ نوجوانوں کو بے لگام گھوڑے اور ”سوشل میڈیا“ کو ایٹم بم کی طرح استعمال کرنے کی پلاننگ کی گئی۔ کسی نہ کسی طرح یوتھ کو ”بدظن“ کر کے ملکی اداروں کےخلاف صف آرا ءکیا جائے۔ ملک کو اندرونی طور پر لاغر، کمزور، دیمک زدہ، اپاہج کر کے، بیرونی حملہ آوروں کے لئے خدا نہ کرے”سوفٹ ٹارگٹ“ بنا دیا جائے۔ خیر، زہے نصیب، یا نصرت خداوندی، مئی 2025ءکے اوائل میں جب بھارت نے جھوٹ موٹ کا ایک Narrative بنا کے محض ”خبط و بد حواسی “ کی بناءپر جارحیت کا ارتکاب کیا، جنگی فائدہ نقصان ایک طرف”کبے نو ںلت وجی تے کبا سدھا ہو گیا “ خدا کی شان کریمی، ہم عشروں بعد پھر قوم بن گئے۔ ہمارے نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے جنگی محاز پر بھارت کے ایسے لتّے لئے کہ بھارت یہاں بھی خوب پٹا، اور عزت گواں بیٹھا، اس کے پاس تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اپنے سیاسی رویوں پر بہر صورت نظر ثانی کرنی ہے، زندگی میں ہم بہت کچھ ایسا کر رہے ہوتے ہیں، جو غلط ہوتا ہے اور بعض دفعہ باعث نقصان بھی۔ پھر گردش ایام، ٹھوکرِ زمانہ یا خوش قسمتی سے کوئی مخلص ”یار بیلی“ ہاتھ پکڑ کر جھنجوڑتا ہے اور ہم سیدھی لائن پر آ جاتے ہیں۔ ہمارے اعلیٰ ادارے کی عزت ایک بار پھر سچی بات ہے کہ عوامی عقیدت و احترام میں ڈھل چکی ہے۔ یہی وہ وقت ہے کہ جہاں اپنوں کے لئے نرم گوشے پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ اﷲتعالیٰ کی غیبی ”مدد و نصرت“ کی بدولت بڑے لمبے عرصے بعد گلشن میں بہار کی کلیاں کھلی ہیں، ہم ایک مٹھ ہوئے ہیں۔ چھوٹی موٹی غلطیوں، کوتاہیوں کو سدھارنے کا یہی وقت ہے۔ کیسا کرم ہوا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے دشمنوں کا منہ کالا اور گردن جھکا دی ہے۔ کلاسیکی اندازوں کے طلسم میں اسیر رہنے کی بجائے وقت کے تقاضوں کے مطابق بدلنا بہادری ہے۔ کیونکہ ”نیچر“ کوئی ساکن چیز نہیں ہے، اس کے تخلیقی بہاﺅ میں ایک تسلسل ہے۔ 

٭٭٭٭٭





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button