ازبکستان میں ایک ہفتہ/ اے خالق سرگانہ

کم و بیش 50 ملکوں میں تو جا چکا ہوں۔ کئی ملکوں میں بار بار جانا ہوا۔ عید سے ایک ہفتہ پہلے تیسری دفعہ ازبکستان جانے کا اتفاق ہوا۔ کچھ عرصے سے کہیں جانا نہیں ہوا تھا اس لئے زندگی میں ایک یکسانیت سی پیدا ہو گئی تھی لہٰذا میں نے ازبکستان جانے کا پروگرام بنا لیا لیکن اِس میں کچھ رکاوٹیں تھیں ایک تو ازبکستان کے لئے ویزہ بند ہے اور دوسرے ڈائریکٹ فلائٹ بھی نہیں تھی۔ ویزے کے لئے کچھ فارن سروس سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے رابطہ کیالیکن کچھ دیر ہو گئی۔ آخر کار ایمبیسیڈر معیزبخاری کی مداخلت سے دفتر خارجہ میں سینٹرل ایشیاء ڈیسک کے ڈائریکٹر جنرل کا فون آیا کہ بتائیں کب جانا ہے لیکن اِس دوران موسم سرما شروع ہو گیا اور ازبکستان میں شدید سردی پڑتی ہے لہٰذا پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔آخرکار پچھلے مہینے پروگرام فائنل ہو گیا اور میں 21 مارچ کو تاشقند کے لئے لاہور سے روانہ ہو گیا۔ اِس دوران ازبک ایئر نے لاہور اور تاشقند کے درمیان ہفتہ وار پرواز شروع کر دی تھی۔ میرے ٹریول ایجنٹ نے ایئرٹکٹ کے ساتھ ٹور کے سارے انتظامات کر دیئے۔ ویزہ بھی لگوا دیا۔ ہوٹل کی بکنگ کے ساتھ ساتھ ٹرین کی بکنگ بھی کروا دی۔ یوں میں لاہور سے اڑھائی گھنٹے میں تاشقند جا پہنچا۔جہاز کا سفر خوشگوار رہا، بہترین کھاناسرو کیا گیا۔ ایئرپورٹ پر امیگریشن کا مرحلہ بھی آسانی سے طے ہو گیا۔ کسی نے کوئی خاص پوچھ گچھ نہیں کی۔
90ء کی دہائی میں میں دو دفعہ سرکاری ٹور پر تاشقند کا دورہ کر چکا ہوں۔ 1992ء میں پہلی بار تاشقند پہنچا تو اُس وقت ہمارے سفیر شفقت علی شیخ کے ذریعے عباس خان سے تعارف ہوا۔ عباس خان اُس وقت کراچی کے صنعت کار تابانی کی کمپنی کے جنرل منیجر تھے۔ تابانی کا کاروبار تو ختم ہو گیا لیکن عباس صاحب چالیس سال سے زیادہ عرصے سے وہیں ہیں۔ انہوں نے اِس دوران ازبک زبان بھی سیکھ لی اور علاقے کے عروج و زوال سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں وہ میرے گائیڈ تھے لہٰذا بہت کچھ آسان ہو گیا۔
میرے پہلے دو رے تاشقند تک ہی محدود رہے لیکن اِس دفعہ میں نے سمرقند اور بخارا جانے کا بھی پروگرام بنا لیا۔21مارچ کی صبح تاشقند ایئرپورٹ اُترا تو میں نے اپنے فون کی سم بدلوائی اور کرنسی چینج کروائی۔ ایک سو ڈالر کے عوض مجھے 12 لاکھ 90ہزار سُم (Sum)ملے۔ میں ایئرپورٹ سے باہر نکلا تو ٹیکسی والوں نے مجھے گھیر لیا بہرحال ایک ٹیکسی والے سے معاملہ طے ہو گیا اور یوں عباس صاحب کے گھر جا پہنچا۔ وہاں گپ شپ کے بعد میں قیام کیلئے Heritage Hotel پہنچا۔ یہاں پر موسم بالکل اسلام آباد جیسا تھا اور ازبکستان میں ٹائم زون پاکستان والا ہے یعنی ٹائم بالکل ایک ہی ہے، مذہب بھی اسلام ہے لیکن ازبکستان اور پاکستان کے درمیان مماثلت یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ وہاں انفراسٹرکچر بہت زبردست ہے ہر سڑک میں چار چار پانچ پانچ Lans ہیں۔ سڑکوں اور بازاروں میں مکمل صفائی ہے کوئی کاغذ کا ٹکڑا تک نظر نہیں آتا۔ مکمل امن و امان ہے اور کوئی بھکاری نظر نہیں آیا اور سڑکوں اور بازاروں میں پولیس بہت کم نظر آتی ہے کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں۔ لٹریسی ریٹ تقریباً 89فیصد ہے۔
ازبکستان کی تاریخ ہزاروں سال تک محیط ہے۔ یہاں امیرتیمور، امام بخاری اور نقشبندی سلسلے کے بانی کا مزار ہے۔ انہیں اپنے ثقافتی ورثے کی اہمیت کا احساس ہے لہٰذا انہوں نے اِسے ہر طرح سے سنبھال کر رکھا ہے اور اِسے کیش بھی کر رہے ہیں۔ ٹورازم سے وہ کافی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ تاریخی اور ثقافتی ورثہ تو ہمارا بھی ہے لیکن ہم اِس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا رہے کیونکہ ہمیں اِس کی اہمیت کا احساس نہیں ویسے ہمارے ہاں غیرملکی سیاح تو صرف ہمارے شمالی علاقوں میں جاتے ہیں ورنہ اسلام آباد، لاہور اور دوسرے بڑے شہروں میں تو کوئی غیرملکی شاذونادر ہی نظر آتا ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ پنجاب میں ٹورازم کی ترقی کے لئے ایک نئی اتھارٹی بنائی جا رہی ہے گویا اِس شعبے کی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔
ازبکستان 29 اگست 1991ء کو آزاد ہوا۔ آبادی 35.65ملین ہے۔89 فیصد مسلمان ہیں کچھ روسی یہودی تھے وہ آزادی کے بعد اسرائیل شفٹ ہو گئے۔ رقبہ 447400 مربع کلومیٹر ہے۔ کپاس ان کی بڑی فصل ہے۔ اتنا تیل بھی ہے جو اُن کی ضرورت کے لئے کافی ہے۔ اِس کے علاوہ کوئلہ، قدرتی گیس، سونا اور غیرفولادی دھاتیں بھی پائی جاتی ہیں۔
تاشقند میں 1966ء میں شدید زلزلہ آیا جس سے پورا شہر تباہ ہو گیا لیکن بہت جلد ایک نیا شہر تعمیر ہو گیا۔ شہر میں اِس سلسلے میں ایک مجسمہ بھی بنایا گیا ہے جو ایک فیملی پر مشتمل ہے کیونکہ عام آدمی زلزلے سے متاثر ہوا تھا۔




