ادبی کالمتبصرہ کتبتحقیقی کالمشخصیت و فن

ہائیکو یا نظم : فن کی جمالیاتی سرحدیں / ڈاکٹر رفیق سندیلوی

ہائیکو یا نظم : فن کی جمالیاتی سرحدیں / ڈاکٹر رفیق سندیلوی

بدحواس رات نے

میرے ننّھے خواب پر

اپنا پاؤں رکھ دیا

    ٭٭٭

رات بے دھیانی میں

کھینچ کر پرے کر دی

آسمان کی چادر 

 

تیس برس پہلے میں نے علی محمد فرشی کی ہائیکو نگاری پر بات کرتے ہوئے بطور خاص ان کے درج بالا ہائیکو پیش کئے تھے اور لکھا تھا کہ پہلے ہائیکو کی علامتی اور تصویری وتمثیلی سطح بہت گہری ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے رات بد حواس جانور کی کھال پہن کر کھڑی تھی کہ معاً اس نے کسی اندیشے کی بُو سونگھی اور بدک کر بھاگنا شروع کر دیا جس سے اس کا کھردرا پاؤں شاعر کے ایک نرم و نازک اور ننھے منھے خواب پر جا پڑا اور یوں خواب کچلا گیا۔ نورُستہ خواب کس طرح پاؤں تلے آ جاتے ہیں اور پنپ نہیں پاتےاس کی صورتیں فرد سے سماج تک اور شعور سے لا شعور تک انسان کی بدحواسیوں سے جُڑی ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ہائیکو رات اور خواب کے رشتے کی وضاحت پر اصرار کرتا ہے ۔۔۔۔۔ دوسرے ہائیکو میں متعدد پرت موجود ہیں ۔ایک پرت تو یہ ہے کہ ہم سب کو آسمان نے اپنے ظلم وجور ،تحکم اور بھید کی چادر میں لپیٹ رکھا ہےلیکن یہ شاعر کی باطنی طاقت کا اعجاز ہے کہ اس نے اپنے وجود پر پڑی ہوئی آسمان کی چادر کو بے دھیانی کے عالم میں ہٹا کر پرے پھینک دیا ہےاور یوں بوجھ سے سبک ساری حاصل کر لی ہے۔دوسرا پرت یہ ہے کہ اس ہائیکو کا منظر دیہات کی کھلی فضا سے متعلق ہے اور وہ یہ کہ شاعر کھلے آسمان کے نیچے چارپائی پر سو رہا تھا کہ رات کے کسی سمے اس نے حالت استراحت میں چادر کو اپنے جسم پر سے ہٹانا چاہا تو ہاتھ بے دھیانی میں اتنا دراز ہو گیا کہ آسمان تک چلا گیا۔ یہ ہائیکو شاعر کے مابعدالطبیعاتی اور ماوارئی رویّے کا عکاس ہے۔

واقعی یہ دونوں ہائیکو بہت اہم ہیں اور ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ بالکل تروتازہ نظر آتے ہیں لیکن اب فرشی نے یہ کام کیا ہے کہ پہلے ہائیکو کو "رتوندھی” اور دوسرے ہائیکو کو "اضطرار” کا عنوان دے کر نظم بنا دیا ہے۔ سو اب یہ دیکھنا ضروری ہو گیا ہے کہ نظم میں منقلب ہونے کے بعد یہ ہائیکو اپنی معنویت میں کس حد تک تبدیل ہوئے ہیں اوراس تقلیب میں فن کی جمالیاتی سرحدیں کیسے عبوری عمل سے گزری ہیں؟

پہلی تخلیق بطور ہائیکو اس صنف کے بنیادی جمالیاتی تقاضوں سے روشناس کرواتی ہے جن میں لمحاتی گرفت، جذباتی اجمال، تصویری شدت اور علامتی گہرائی شامل ہیں۔ جاپانی روایت میں ہائیکو کو لمحۂ ادراک یا بصری جھلک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں کوئی خارجی منظر اندرونی تجربے کو چھو لیتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے: بدحواس رات، ننھا خواب اور اچانک رکھا گیا پاؤں۔ پورا منظر تین مصرعوں میں یوں ابھرتا ہے جیسے کسی دھند سے کوئی شے نمایاں ہو کر فوراً اوجھل ہو جائے مگر اس کا تاثر ذہن پر ثبت رہے۔ بدحواس رات محض وقت نہیں، ایک متحرک، بےچین اور خطرناک وجود بن جاتی ہے۔ اس کے مقابل میں "ننھا خواب” نرمی، امید اور نوزائیدگی کی علامت ہے۔ جب "پاؤں رکھ دینے” کی تصویر سامنے آتی ہے تو ایک سانحہ خیز سکوت پیدا ہوتا ہے، ایسا سکوت جس میں احتجاج نہیں مگر سوال موجود ہیں۔ شاعر یہ نہیں بتاتا کہ رات کیوں بدحواس ہوئی یا خواب کی نوعیت کیا تھی۔ یہی اجمال اس کی تخلیقی قوت ہے۔ قاری اپنے اندیشوں اور شکستہ خوابوں کے سائے میں اس منظر کو مکمل کرتا ہے اور یہی شرکت ہائیکو کو ایک کھلا مگر مکمل تجربہ بناتی ہے۔ علامتی سطح پر "رات”، "خواب” اور "پاؤں” تینوں خارجی عناصر نہیں بلکہ باطنی اور نفسیاتی علامتیں ہیں۔ رات لاشعور، اندیشے یا خوف کی علامت ہے؛ خواب امید اور امکانی وجود کا استعارہ ہے؛ اور پاؤں ایک بےارادہ حرکت ہے جو نمو کے امکان کو کچل دیتی ہے۔ اس طرح ہائیکو خواہش اور جبر کی ایک مختصر مگر شدید تمثیل بن جاتی ہے۔ یہی اس کی جمالیاتی خاموشی ہے جو معنی سے زیادہ احساس میں بولتی ہے۔ یہ تجربہ صرف فرد تک محدود نہیں۔ اگرچہ درمیانی مصرع ذاتی کیفیت رکھتا ہے مگر رات اور خواب کی عمومی علامتیں اسے اجتماعی انسانی تجربے میں بدل دیتی ہیں۔ یوں تین مصرعوں کا یہ مختصر ہائیکو ایک ایسی کائنات کا اشاریہ بن جاتا ہے جو بظاہر ساکت ہے مگر قاری کے شعور میں متحرک ہے۔ یہی ہائیکو کی روح ہے یعنی لمحے میں کائنات کا انعکاس۔ 

جب یہی سہ مصرعی تخلیق نظم کی صورت میں سامنے آتی ہے اور اسے "رتوندھی” کا عنوان دیا جاتا ہے تو اس کی ظاہری ساخت تو وہی رہتی ہے، لیکن معنوی جہت اور شعری فضا میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے۔ ہائیکو کا تجربہ جو قاری کو داخلی شعور کی طرف بلاتا تھا، اب ایک فکری اور تہذیبی بیانیے میں ڈھل جاتا ہے۔ اب "رات” ایک علامتی پس منظر نہیں بلکہ ایک فاعل قوت بن جاتی ہے جو دیکھنے سے قاصر ہے، اندیشوں سے مرعوب ہے اور اسی نابصری میں خواب جیسے نازک وجود کو روند دیتی ہے۔ یہاں "خواب” فرد کا خواب نہیں رہتا بلکہ اجتماعی خواب ہے جو ایک قوم، ایک تہذیب یا انسانیت کی امیدوں کا استعارہ ہے۔ یوں نظم کا منظر ہائیکو کے شخصی تجربے سے نکل کر اجتماعی اور تاریخی سطح پر پھیل جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی "پاؤں رکھ دینے” کا عمل غیر ارادی نہیں رہتا؛ یہ بھی بصیرت کے فقدان کا نتیجہ بن جاتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ رتوندھی وہ شخص ہوتا ہے جسے رات کے وقت اندھیرے میں نظر نہیں آتا حالانکہ دن کے وقت وہ ٹھیک دیکھ سکتا ہے۔ اس تناظر میں رتوندھی میں جو بینائی کا زوال ہے، وہی اخلاقی زوال کا استعارہ بھی ہے۔ نظم یوں ایک تہذیبی بیماری کا نوحہ بن جاتی ہے جس میں جمالیاتی اور اخلاقی حساسیت اجتماعی طور پر روندی جاتی ہے مگر کسی کو اندھیرے کا احساس نہیں ہوتا۔ ہائیکو کی اجمالیت یہاں نظم کے بیانیہ تاثر میں بدل جاتی ہے اور ایک لمحاتی جھلک ایک تاریخی تشخیص بن جاتی ہے۔ نظم کے مزاج میں یہی تبدیلی اس کی فکری قوت کا ثبوت ہے۔ جہاں ہائیکو کا منظر فرد کی تنہائی اور باطن سے جڑا تھا، وہاں نظم ایک اجتماعی سانحے اور تہذیبی اندھے پن کو بےنقاب کرتی ہے۔ اب قاری کے سامنے صرف "بدحواس رات” نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو خوابوں کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ اس طرح یہ نظم ایک تخلیقی اعلان بن جاتی ہے اور بتاتی ہے کہ اگر خواب محفوظ نہ رہیں تو بصیرت بھی زائل ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عنوان تخلیق کو ایک نئی شعری، فکری اور اخلاقی سمت عطا کرتا ہے۔

علی محمد فرشی کا دوسرا ہائیکو بھی اپنے اندر ایک کائناتی وسعت رکھتا ہے۔ اس میں خارجی منظر اور باطنی تجربہ اس طرح مدغم ہیں کہ ایک سادہ حرکت روحانی مکاشفے میں بدل جاتی ہے۔ یہاں "رات” محض وقت نہیں، ایک چھپانے والی قوت ہے، "آسمان کی چادر” کائناتی نظام یا جبر کا استعارہ ہے اور "کھینچ کر پرے کر دینا” آزادی اور انکشاف کی علامت۔ یوں ایک انسانی حرکت مابعدالطبیعیاتی بغاوت بن جاتی ہے۔ "بے دھیانی میں” کے الفاظ اس عمل کو خواب اور بیداری کے درمیان ایک نیم شعوری کیفیت میں رکھتے ہیں جو ہائیکو کی جمالیاتی روح ہے۔ ادراک کا وہ لمحہ جو کسی فکری تشریح سے ماورا ہو۔ قاری اس بے دھیانی میں ایک غیر متوقع آزادی کا تجربہ محسوس کرتا ہے، ایسی آزادی جو جسمانی ہی نہیں، روحانی بھی ہے۔ غور کیجئے تو یہاں فن کی معصومیت اور تخلیق کی بے خودی ایک ہو جاتی ہیں۔ شاعر گویا اپنے اندر سے پھوٹنے والی نادیدہ قوت کے زیرِ اثر اس نظام سے باہر نکل آتا ہے جو اس کے شعور کو محدود کیے ہوئے تھا۔

جب یہی ہائیکو نظم کے قالب میں آتا ہے اور اسے "اضطرار” کا عنوان دیا جاتا ہے تو اس کی معنوی اور فکری سمت ایک نئی بلندی اختیار کر لیتی ہے۔ اب "بے دھیانی” ایک کیفیت نہیں رہتی، وجودی اضطراب کی علامت بن جاتی ہے۔ عنوان یہ احساس دلاتا ہے کہ شاعر کا عمل محض اتفاقی نہیں بلکہ اندرونی کشمکش اور جبر سے نجات کی جستجو کا نتیجہ ہے۔ ہائیکو کی اجمالیت یہاں نظم کی فکری توسیع میں ڈھل جاتی ہے۔ "آسمان کی چادر” ایک علامت سے بڑھ کر ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس کی جکڑن دیکھنے اور سوچنے کی آزادی پر پردہ ڈالتی ہے۔ شاعر جب اسے ہٹاتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات ہی نہیں، پوری انسانیت کے قید احساس سے باہر نکلتا ہے۔ اب یہ تجربہ محض ماورائی نہیں رہتا بلکہ تہذیبی اور فکری سطح پر پھیل جاتا ہے۔ فن اپنی جمالیاتی خاموشی سے نکل کر بیداری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

یہی تبدیلی فن کی جمالیاتی سرحدوں کے عبور کا مظہر ہے۔ ہائیکو میں جو تجربہ لمحاتی اور باطنی تھا، نظم میں وہ اجتماعی اور فکری ہو جاتا ہے۔ "اضطرار” کا عنوان اس تخلیق کو ایک فکری شناخت دیتا ہے جو ہائیکو کی آزاد فضا سے مختلف مگر اس کی توسیع ہے۔ شاعر کے لیے یہ اضطرار تخلیقی توانائی کا سرچشمہ ہے یعنی وہ قوت جو انسان کو اپنے اوپر کے آسمان سے ماورا دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یوں ہائیکو اور نظم میں صنفی ہی نہیں، شعوری اور فکری وسعت کا فرق بھی نظر آنے لگتا ہے۔ ہائیکو احساس کی سرحد پر ٹھہرا ہوا لمحہ ہے جبکہ نظم اس لمحے کی تعبیر بھی ہے اور اس کا تسلسل بھی۔ فرشی کا یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ فن کی اصل قوت اس کے قالب میں نہیں ہوتی، اس کے اندر سے پھوٹنے والے اضطرار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب فنکار بے دھیانی میں آسمان کی چادر پرے کر دیتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے اوپر کے پردے کو ہٹاتا ہے بلکہ تخلیق کی روایتی حدود کو بھی عبور کر جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہائیکو نظم بن جاتا ہے۔

یہ سوال کہ کیا صرف عنوان کے اضافے سے ہائیکو نظم بن گئی؟ بظاہر ایک تکنیکی نکتہ معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت اس کے پس منظر میں ایک گہرا جمالیاتی مسئلہ پوشیدہ ہے۔ وہ یہ کہ تخلیق قاری سے کس نوع کی شرکت کا مطالبہ کر رہی ہے؟ اگر ساخت وہی ہے مگر قاری کے تجربے کی سمت بدل گئی ہے تو گویا صنف بھی بدل گئی ہے۔ ہائیکو قاری کو احساس اور شرکت کی آزادی دیتا ہے جبکہ نظم کا عنوان اسے ایک فکری اور بیانیہ تناظر میں لے جاتا ہے۔ "رتوندھی” اور "اضطرار” صرف عنوان نہیں، تشریحی فریم ہیں جو متن کو مخصوص معنوی سمت دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادب میں جمالیاتی انتخاب کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ساخت کی یکسانی کے باوجود عنوان کی شمولیت قاری کے شعور کو بدل دیتی ہے۔ اب وہ متن سے محض تاثر نہیں لیتا بلکہ اس کے علامتی نظام کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہائیکو سے نظم تک کا سفر محض صنفی نہیں، فکری ارتقا کا سفر بن جاتا ہے۔ گویا ایک لمحۂ وجدان تہذیبی تشخیص میں ڈھل جاتا ہے۔

یہ تقلیب دراصل اس شعور کی علامت ہے جو تخلیق کو صنفی سرحدوں سے آزاد کر کے اسے ایک وسیع تر جمالیاتی دائرے میں لے آتا ہے۔ ہائیکو اور نظم کے درمیان جو فاصلہ دکھائی دیتا ہے، وہ دراصل اظہار کی نوعیت کا فاصلہ ہے، تجربے کا نہیں۔ فرشی کی یہ تخلیق بتاتی ہے کہ ایک ہی تجربہ مختلف صنفی قالبوں میں کس طرح نئے معنوی امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ یہی عمل ادب میں جمالیاتی سرحدوں کے عبور کا بنیادی مقدمہ ہے کہ فن کی اصل پہچان اس کی صنفی پابندی میں نہیں بلکہ اس کے تخلیقی وجدان میں ہے۔

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
علی محمد فرشی
علی محمد فرشی
3 months ago

رفیق سندیلوی معاصر نظم کے لیے نہایت منفرد، معتبر اور چنیدہ شعرا کے میں نے شمار کیے جاتے ہیں. وہ اردو زبان کے چند اعلیٰ شاعروں میں بھی اپنا امتیاز قائم رکھتے جنھوں نے غزل اور نظم میں یکساں مقام پایا. اس پر مستزاد اور اعلیٰ درجے کے نقاد بھی ہیں. انھوں نے چند لفظی نظموں پر جس قدر بصیرت افروز اور بھرپور تنقیدی
بحث کی ہی وہ انھی کا خاصا ہے.

Related Articles

Back to top button
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x