بچوں کا ادبکہانیکہانیاں

ادھورا خواب / ذوالفقار علی بخاری

بچوں کی کہانی

 

”مجھے نہیں لگتا ہے کہ ہم اس منصوبے کو زیادہ دیر تک چھپا کر رکھ سکیں گے۔“ دریائے ستلج کے کنارے پر بیٹھے ٹارزن نے کیلے کا چھلکا اتارتے ہوئے کہا۔

ٹارزن کی بات سن کر دریا کے پانی سے وضو کرتے عمرو عیار کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

کچھ لمحوں بعد عمرو عیار نے گندم اور جو سے تیار کردہ ستو سے بھرے پیالے کو ہاتھ میں لیا اور بولنا شروع ہوا:

”اس کا مطلب ہے کہ سورج کی سیر کے لیے تم تجرباتی طور پر خود خلائی شٹل پر سوار ہونے کا سوچ چکے ہو؟ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا بہت غلط بات ہے۔ ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔“

ٹارزن کیلوں کے بعد میٹھی لسی کا پیالہ ہاتھ میں لے چکا تھا۔

”ارے۔۔۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تو ہمیں کائنات کے راز تو معلوم کرنے چاہئیں۔“

ٹارزن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کہ وہ لاجواب کر چکا تھا۔

ٹارزن کی بات سن کر ایک لمحے کو عمرو عیار گھبرایا۔

”گنجے کو خدا ناخن نہ دے۔“ عمرو عیار نے زوردار ڈکار مارتے ہوئے جواب دیا۔

”بے شرم آدمی۔۔۔ کچھ تمیز سیکھو۔۔۔ کیا گھر والوں نے یہی سکھایا ہے؟“ ٹارزن نے گھورتے ہوئے کہا۔

”وہ بعد میں سیکھ لوں گا۔۔۔ ابھی بچپن میں ہوں۔“ عمرو عیار نے ٹشو پیپر سے منہ صاف کرتے ہوئے بولا۔

”سنو۔۔۔ عمرو۔۔۔ اس خلائی سفر سے شہرت حاصل ہوگی کہ کوئی شخص سورج کے سفر پر گیا ہے، اور یوں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میری تشہیر کریں گے۔“

ٹارزن نے پھولوں سے بنائے گئے گدے پر لیٹتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تو عمرو عیار کو ہنسی آگئی۔

”تم ہنس کیوں رہے ہو؟“ ٹارزن نے سنجیدگی سے پوچھا۔

”بے وقوف انسان! وہ اس لیے کہ تمہیں ملتان کی گرمی نے اتنا نڈھال کر دیا ہے کہ تم دریائے ستلج پر نہانے کو چلے آئے ہو۔ سورج کی سیر کا خیال چھوڑو اور ناریل کا پانی پیو۔“

عمرو عیار نے جوں ہی ناریل ٹارزن کی جانب بڑھایا، اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔


٭ ٭ ٭

شاہ زین کی اچانک آنکھ کھلی۔

اُس نے بستر سے چھلانگ لگائی اور زور سے چیختے ہوئے امی کی جانب بھاگا:

”امی۔۔۔ امی۔۔۔ وہ۔۔۔ ٹارزن اور عمرو۔۔۔“

”پھر کوئی خواب دیکھ لیا؟“ امی نے گھورتے ہوئے پوچھا۔

”وہ ستلج، ستو، ناریل کا پانی اور لسی۔۔۔“ شاہ زین دھیمے لہجے میں بولا۔

”کتنی بار کہا ہے کہ کہانیوں کو رات کے وقت نہ پڑھا کرو۔ کبھی کہتے ہو ٹارزن مسلمان ہو گیا ہے، کبھی عمرو۔۔۔ اور کبھی سورج کی سیر کا تذکرہ لے آتے ہو۔“ امی نے شاہ زین کی حالت دیکھتے ہوئے اپنا غصہ اتارا۔

”امی۔۔۔ کہانیوں کے کردار کوئی بھی ہوں، اُن کی بدولت تفریح، معلومات اور کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ میرے لیے ٹارزن اور عمرو کی کہانیاں اہمیت کی حامل ہیں کہ وہ کچھ سمجھاتی ہیں، چاہے کردار مسلمان ہوں یا ہندو، اُن کی بدولت شعور بیدار ہوتا ہے۔“ شاہ زین نے خود اعتمادی سے جواب دیا۔

”رات کو پھر کہانیوں کی کتاب پڑھ رہے تھے؟“ امی نے استفسار کیا۔

شاہ زین نے مسکراتے ہوئے اپنے بستر کی طرف دیکھا تو شرمسار ہو گیا کہ وہاں ریاضی کی کتاب کے اندر کہانیوں کا مجموعہ تھا۔

”جی۔۔۔ وہ۔۔۔ ٹارزن اور عمرو عیار کی نئی کہانیوں کی کتاب لایا ہوں۔“ شاہ زین نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔

”ایسا کرو۔۔۔ ہاتھ منہ دھو کر آؤ۔۔۔ تمہارے لیے باداموں سے تیار کردہ شربت لاتی ہوں۔“
امی نے بات مکمل کرتے ہی باورچی خانے کی طرف رخ کیا۔

شاہ زین غسل خانے کی طرف بڑھا، کچھ سوچا اور واپس مڑ گیا۔ پھر ڈرائنگ روم میں بچھے قالین پر لیٹ گیا۔


٭ ٭ ٭

”ارے۔۔۔ یہ اندھیرا کیوں چھا گیا ہے؟“ ٹارزن نے خفگی سے پوچھا۔

”بھئی۔۔۔ بادلوں نے چاند چھپا لیا ہے۔۔۔ جیسے میرا چاند چھپا رہتا ہے۔“ عمرو عیار نے حسبِ معمول طنز کیا۔

ٹارزن مسکرا دیا کہ اُسے سمجھ آگئی تھی کہ عمرو عیار نے اپنے گنجے سر کی طرف اشارہ کیا تھا، جسے وہ سرخ رنگ کی ٹوپی پہن کر چھپاتا تھا۔

”دریا پاس ہی ہے، کیا خیال ہے، پانی سے بجلی نہ بنا لیں؟“ ٹارزن نے عمرو عیار کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔

”ابھی تو اپنے جنگل کی فکر کرو کہ قیمتی درختوں کی لکڑی کاٹی جا رہی ہے۔“ عمرو عیار نے اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا۔

ٹارزن ابھی جواب دینے ہی لگا تھا کہ چاند کی روشنی نے چاروں طرف اُجالا کر دیا۔

”ارے۔۔۔ عمرو کے بچے۔۔۔ چاکلیٹ کب کھائی ہے؟“ ٹارزن نے عمرو عیار کے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار کیا۔

”کک۔۔۔ کک۔۔۔ چکک۔۔۔ چاکلیٹ۔۔۔“ عمرو عیار گھبراتے ہوئے چہرے پر ہاتھ لگا چکا تھا، اُس کی نظریں جھک گئی تھیں۔

”مجھے کہتے ہو کہ مل بانٹ کر کھانا چاہیے اور اپنی حالت یہ ہے کہ اندھیرے سے فائدہ اٹھا رہے ہو؟“

ٹارزن اپنی بات مکمل کرتے ہی عمرو عیار کی طرف بڑھا۔

عمرو عیار تیزی سے دوڑا، اچانک اُس کا پاؤں پھسلا اور وہ دریائے ستلج کے اندر گر گیا۔

ٹارزن اُسے بچانے کے لیے پانی میں اترا، لیکن عمرو عیار کے بھاری جسم کی وجہ سے پانی میں غوطے کھانے لگا۔


٭ ٭ ٭

”بچاؤ۔۔۔ بچاؤ۔۔۔“

امی باورچی خانے سے باہر نکلیں کہ شاہ زین کی آواز نے اُنہیں ڈرا دیا تھا۔

جب وہ ڈرائنگ روم میں پہنچیں تو معلوم ہوا کہ شاہ زین گہری نیند میں بول رہا تھا۔

امی نے اپنی ہوائی چپل اتاری تاکہ اُس کی پٹائی کر سکیں، پھر اُس کے ادھورے خواب کا سوچ کر مسکرائیں اور شاہ زین کے پاس ہی لیٹ گئیں۔


 

Author

Related Articles

Back to top button