غزہ کے مسلمان اللہ کے مجاہد ہم شرمندہ ہیں(قسط نمبر 1 )/ محمد اکرم چوہدری

غزہ کے مسلمان اللہ کے مجاہد ہیں اور اپنی نسلیں اپنے رب کی راہ میں نبی پاک ؐکی شان کی حفاظت کے جذبے سے شرشار ماؤں بہنوں بیٹیوں اور خاندان کے خاندان قربان کرتے چلے جا رہے ہیں کئی ماہ گزر گئے انہیں اپنی موت کا ہر لمحے یقین مگر مجال ہے کسی نے بھی تھوڑی سی کمزور دکھائی ہر روز غزہ بارود کا ڈھیر بنتا جا رہا ہے مگر دنیا کے دو ارب سے زائد مسلمان کم بیش 56 ممالک جو کلمے کی بنیاد پر قائم اور اللہ کو ماننے والے کچھ نہ کر پائے اسرئیل اپنے ایجنڈے کو پہلے جوبائیڈن کی حمایت سے اور پھر مسلمانوں کی بھرپور حمایت سے ٹرمپ کو کامیابی کے بعد اعلانیہ غزہ کو ہمیشہ کے لیے صحفہ ہستی سے مٹانے کے درپے اور کسی کی نہ پرواہ نہ کسی سی منافقت اعلانیہ حمایت مکمل اعتماد کے ساتھ جتے ہوئے ہیں مگر مسلمان خاموش یا اپنی اپنی ما لی مشکلات حل کرنے اور دنیا بناننے میں دن رات مصروف ہیں اور اس یقین کیساتھ کے ہمیں تو موت نے آنا ہی نہیں ہے ان فلسطینیو ں کو ختم ہو لینے دیں بے فکرہو جائیں گے اس سے قبل افغانستان عراق لیبیا شام یمن کو تقریبا بے بس اور غلامی کے اعلانیہ قبولیت کے ساتھ بے کس مجبور اور لاچاری کی زندگی پر مجبور کر چکے 370 ختم کر کے مودی امریکہ ایک کامیاب تجربہ کشمیر میں کرنے کے بعد عوام کو بے بس مجبور اور انکی آواز کو کیسے دبانہ ہے کا منصوبہ مکمل کرنے کے بعد غزہ پر چڑھ دوڑے اور ہم آزاد ہیں کے نعرے کیساتھ ہم جی رہے ہیں یا اللہ کوئی عمر بن خطاب عطا کر دے یا اللہ کوئی تو ہو جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو آگے لے کے جا سکے کوئی تو حسن اور حسین کی طرح دنیا کی پروا نہ کرنے والا اپنے نانا اور اللہ کی شان پر قربان ہونے والا لیڈر نصیب کر دے اب تو غزہ سے قیامت کے قائم ہونے کی صدا ئیں آرہی ہیں جب کہ جو چلے گے ان پر تو قیامت وارد ہو چکی اور ہم بھی بے شرمی کی موت کسی دن قیامت کا سامنا کر لیں گے مگر مسلمان کب جاگیں گے کب یہ دو ارب لوگ ہمت باندھیں گے اللہ ہی ہے کوئی عمر بن خطاب نصیب فرما دے اب آتے ہیں غزہ کے آج کے حالات اور دنیا اور وجوہات اور انکا حل جو کہ ممکن نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر گہرا اثر ڈالا، جس سے عدم تحفظ اور تناؤ کے بڑے پیمانے پر جذبات پھیل گئے۔ ان کی پالیسیوں اور بیان بازی نے خاص طور پر امریکہ اور عالمی سطح پر مسلم کمیونٹیز میں بے چینی کا احساس پیدا کیا۔مسلمانوں میں تناؤ پیدا کرنے والے اہم عوامل۔
*ٹریول پابندی*: ٹرمپ کی "مسلم پابندی” نے سات مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنایا، جس سے امیگریشن اور خاندانی اتحاد کو سختی سے محدود کیا گیا۔ اس اقدام کو اس کی امتیازی نوعیت اور قومی سلامتی کے خدشات کی حمایت کرنے والے ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
*مسلم مخالف بیان بازی*: ٹرمپ کے بار بار آنے والے مسلم مخالف بیانات نے اسلامو فوبیا اور زینوفوبیا کو ہوا دی، جس سے خوف اور بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوئی۔
*سمجھا ہوا ہدف*: مسلمانوں کو ٹرمپ کی پالیسیوں سے خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، جسے انہوں نے اپنی شناخت اور عقیدے پر حملے کے طور پر دیکھا۔
مسلم برادریوں پر اثرات*بے گھری اور خاندانی علیحدگی*: سفری پابندی کی وجہ سے اہم نقل مکانی اور خاندانی علیحدگی ہوئی، بہت سے مسلمان اپنے پیاروں سے دوبارہ ملنے یا بیرون ملک خاندان کے اراکین سے ملنے سے قاصر ہیں۔
*معاشی مشکلات*: پابندی سے معاشی مشکلات بھی پیدا ہوئیں، خاص طور پر ان کمیونٹیز کے لیے جو خاندان کے افراد کی بیرون ملک ترسیلات پر انحصار کرتے ہیں۔
*اضافہ اضطراب اور خوف*: ٹرمپ کی پالیسیوں نے مسلمانوں میں اضطراب اور خوف کا ماحول پیدا کیا، جو ظلم و ستم اور پسماندگی کا شکار تھے۔
عالمی اثرات*بین الاقوامی تعلقات*: ٹرمپ کی پالیسیوں نے خاص طور پر مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کو کشیدہ کردیا۔
*عالمی اسلامو فوبیا*: صدر کی بیان بازی اور پالیسیوں نے عالمی اسلامو فوبیا میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا، موجودہ تناؤ اور تنازعات کو بڑھایا۔
غزہ کی موجودہ صورتحال ایک سنگین انسانی بحران ہے جس میں حیرت انگیز تعداد میں جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ یہاں صورت حال کا ایک جائزہ ہے۔ (جاری ہے )




