غزل
غزل / جانے کس طور سے ہو پار اترنا اپنا / عبداللہ ندیم
غزل
جانے کس طور سے ہو پار اترنا اپنا
اب نہ کشتی ہی رہی اور نہ دریا اپنا
دشت ہو جائے نہ تصویر کسی دریا کی
رنگ اس بار عجب لایا ہے گریہ اپنا
ایک آسیب سا چمٹا ہے مرے سائے سے
اب بھی ہم زاد سے چھوٹا نہیں پیچھا اپنا
کیا خبر کون سی مٹی کے بنے تھے ہم لوگ
ریزہ ریزہ ہوئے ،پندار نہ ٹوٹا اپنا
اپنی آشفتہ سری کو بھی قرار آئےگا
خاک بن جائے گی جس روز بچھونا اپنا
آئینہ ہی کرے اب کوئی رعایت ورنہ
ہم سے دیکھا نہیں جائے گا یہ چہرہ اپنا
اس سے پہلے بھی اٹھا ہے مگر اس بار ندیم
شدتِ درد سے پھٹ جائے نہ سینہ اپنا



