محاورہ کہانی "نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی” / تحریر : نازیہ آصف

یہ ہمالیہ کا کم بلندی والا علاقہ تھا ۔یوں سمجھ لیں کہ یہاں پر ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا اختتام ہوتا تھا ۔ وہیں ایک ندی بہتی تھی جس میں ہمالیہ کی بلند چوٹیوں کے اوپر جمی برفوں سے پانی آتا تھا ۔
اس ندی کا نام جیون ندی تھا اور یہ ایک جنگل سے گزرتی تھی ۔اس کے کنارے کچھ زیادہ درخت نہی تھے کیونکہ ہر سال جب اس میں طغیانی آتی تو اس کا تیز پانی چھوٹے موٹے درختوں کو بھی بہا لے جاتا ۔ لیکن وہیں ندی کنارے پیپل کا ایک بہت پرانا درخت تھا ۔جس پہ ایک مادہ بندر "شینا "اپنے دو بچوں بھورو اور لالو کے ساتھ رہتی تھی ۔بچے دونوں بہت چھوٹے تھے۔ شینا روزانہ جنگل سے گزر کر شہر کی طرف جانے والی سڑک پہ جاتی اور آتے جاتے لوگ ، بچے خوش ہو کر اسے چنے یا مکئ کے بھٹے وغیرہ ڈالتے تھے ۔ شینا وہ چنے کھا لیتی مگر سارے بھٹے جمع کر کے اپنے بچوں بھورو اور لالو کے لیے لے آتی۔
بھورو اور لالو سارا دن درخت پہ بیٹھے ماں کا انتظار کرتے رہتے ۔وہ بڑے ہو رہے تھے۔ انھیں بہت بھوک لگتی تھی ۔ شینا جب شام کو بھٹے لے کر آتی تو بھورو اور لالو ان پہ جھپٹ پڑتے ،مگر شینا ان بھٹوں پر سے کچھ دانے اتارتی اور درخت کے تنے کے ساتھ کالے مکوڑوں کا بل تھا، وہاں بل کے پاس پھیلا دیتی ۔ بھورو اور لالو اس بات پہ بہت چڑتے ،کہ انھیں بہت بھوک لگی ہوتی تھی ۔وہ ماں سے کہتے کہ آپ ایسا نہ کیا کریں ۔
تو شینا بچوں کو سمجھاتی "دیکھو بیٹا !وہ اللہ پاک کی مخلوق ہیں ۔آج کل موسم خزاں شروع ہو چکا ہے درختوں سے پھل اور سبزہ ختم ہو چکا ہے ۔یہ نھنی سی مخلوق ہیں ۔ان کو بھی کھانے کی ضرورت ہے ” مگر بھورو کہتا "ماما ہم انھیں اپنا کھانا کیوں دیں۔ ۔ ؟۔ تب شینا بچوں کو سمجھاتی۔دیکھو بیٹا ! اسے نیکی کہتے ہیں اور نیکی کبھی ضائع نہی جاتی ۔ماں اسے سمجھاتی "نیکی کر دریا میں ڈال”۔یہ بات بھورو کی سمجھ میں نہی آتی تھی ،مگر وہ خاموش ہو جاتا ۔
ایسے ہی وقت گزرتا رہا ۔ شینا اپنے بچوں کی خوراک سے چند دانے بل پہ ڈالتی رہی اور مکوڑے خوشی خوشی وہ راشن اپنے بل میں لے جا کر کھاتے اور مزے کرتے رہے ۔
کئ موسم گزرے ،اور بالآخر موسم برسات کا جان لیوا حبس شروع ہو گیا۔ فضا میں سخت گھٹن ہو گئ تھی ۔ہوا میں نمی کے بڑھ جانے سے آکسیجن کافی کم ہو چکی تھی۔زیر زمین چھپے ہوئے جاندار بھی باہر نکل آئے تھے، اور رزق کی تلاش میں تھے ۔ان خوراک تلاش کرنے والوں میں ایک بہت موٹا تازہ اژدھا بھی تھا۔جو پھرتے پھراتے اسی پیپل کے درخت کے نیچے آ کر بیٹھ گیا۔ بھورو کی نظر اژدھے پر پڑی تو وہ اس اجنبی مخلوق کو دیکھ کر بہت سخت ڈر گیا اور اس کے ہاتھ درخت کی شاخ سے چھٹ گئے اور وہ نیچے آ گرا۔ جہاں اژدھا خوراک کی تلاش میں بیٹھا ہوا تھا ۔
اژدھا خوراک کو اس طرح پاس آتے دیکھ کر کیسے چھوڑ سکتا تھا ۔ اس نے فورا بندر کو دبوچ لیا ۔وہ اس کے گرد اپنی گرفت مضبوط کر کے اسے مارنا چاہتا تھا ۔مگر پاس ہی مکوڑے بھی اپنی خوراک کے لیے منتظر بیٹھے تھے ۔انھوں نے جب بھورو کی چیخ سنی ، تو فورا اپنے بل سے باہر نکل آئے اور بھور و کو اس طرح کسی اجنبی کی گرفت میں مرتے دیکھا، تو سب نے ایک ساتھ اژدھے پہ حملہ کر دیا ۔اژدھا اس اچانک آ پڑنے والی آفت سے گھبرا گیا ۔ساتھ جب موٹے موٹے کالے مکوڑوں نے اسے زور زور سے کاٹنا شروع کیا تو اژدھے نے بہت جلد اپنا زور کھو دیا ۔کیونکہ مکوڑوں نے جگہ جگہ سے اس کی کھال ادھیڑ دی تھی اور اس کا خون بہنے لگ گیا تھا ۔
جیسے ہی اژدھے کی گرفت کمزور ہوئ ۔بھورو نے زور لگایا اور اس کی گرفت سے نکل گیا ۔مگر وہ اتنا نڈھال ہو چکا تھا کہ اس سے درخت پہ چڑھنے نہیں ہو رہا تھا ۔
اتنے میں اس کی ماں شینا بھی آ گئ ۔وہ یہ صورتحال دیکھ کر بہت پریشان ہوئ ۔
تب لالو نے اسے ساری بات بتائ ۔کہ کیسے اژدھے کو دیکھ کر بھورو ڈر کر نیچے گرا، پھر اسے اژدھے نے دبوچ لیا اور اگر یہ سارے کیڑے مکوڑے مدد نہ کرتے تو اب تک اژدھا بھورو کو ہضم کر چکا ہوتا ۔
شینا کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔اس نے بہت سارے دانے بھٹوں سے الگ کر کے مکوڑوں کے بل پر ڈالے ۔ بھورو کو ساتھ چمٹایا اور درخت پر چڑھ کر بیٹھ گئ ۔بھورو بالکل چپ تھا ۔تب شینا نے اسے گلے لگایا اور اسے بتانے لگی "کہ بیٹا !امید ہے آج آپ کو سمجھ آ گئ ہو گی کہ "نیکی کر دریا میں ڈال کا کیا مطلب ہے ۔ بھورو نے سر اٹھا کر ماں کو دیکھ کر سر ہلایا، جیسے کہہ رہا ہو جی ماں سمجھ گیا "نیکی کبھی ضائع نہی جاتی” ۔




