ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں تلخ کلامی/ اردو ورثہ

یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات اس وقت تلخ کلامی میں بدل گئی جب دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ زیلنسکی کو اس ملاقات کے لیے وقت کے ضیاع پر ٹرمپ سے معذرت کرنی چاہیے۔
انہوں نے سی این این کو بتایا: ’انہیں معذرت کرنی چاہیے کہ انہوں نے ہمارا وقت ضائع کیا۔‘
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے صدر وولودی زیلنسکی نے جمعہ کی شام فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے معذرت کرنے سے انکار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے: ’میرا خیال ہے ہمیں سیدھی بات کرنی چاہیے اور ایماندار ہونا چاہیے، اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم نے کچھ غلط کیا۔‘
یوکرین کے صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اب بھی بہتر کیے جا سکتے ہیں، حالانکہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں روس کے ساتھ امن قائم نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
زیلنسکی نے کہا: ’یقیناً تعلقات بحال کیے جا سکتے ہیں، یوکرین اور امریکہ کے تعلقات دو صدور سے بڑھ کر ہیں ہیں، ہمیں روس کے بڑے اور زیادہ مسلح فوج سے لڑنے کے لیے امریکی مدد کی اشد ضرورت ہے۔‘
زیلنسکی کے اس مصالحانہ بیان سے چند گھنٹے قبل اوول آفس میں ہونے والی تلخ ملاقات کے بعد، یورپی رہنماؤں نے فوری طور پر یوکرین کی حمایت کا اعلان کیا۔
وائٹ ہاؤس ملاقات میں کشیدگی
وائٹ ہاؤس میں ہوئی ملاقات کے دوران اس وقت تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جب ٹرمپ اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی کو روس کے ساتھ امن معاہدہ قبول نہ کرنے پر شکریہ ادا نہ کرنے والا شخص قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا: ’فی الحال آپ کی کوئی مضبوط پوزیشن نہیں، یا تو آپ معاہدہ کریں گے یا ہم نکل جائیں گے، اور اگر ہم نکلے تو پھر آپ کو خود لڑنا ہوگا، جو شاید زیادہ خوشگوار منظر نہ ہو۔‘
امریکی صدر نے زیلنسکی کو بتایا: ’میں ثالث کے طور پر کام کر رہا ہوں، اس لیے میں کسی بھی فریق پر کھل کر تنقید نہیں کر سکتا۔‘
یوکرینی صدر جلد ہی میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا: ’جب وہ امن کے لیے تیار ہوں گے، تب وہ واپس آ سکتے ہیں۔‘
امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ زیلنسکی کو سینیئر ٹرمپ حکام کی جانب سے وہاں سے جانے کا کہا گیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’زیلنسکی اپنی حد سے زیادہ توقعات وابستہ کر رہے ہیں، انہیں فوری طور پر جنگ بندی پر راضی ہو جانا چاہیے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو جنگ بندی کے لیے سمجھوتہ کرنا ہوگا، کیونکہ روس پہلے ہی یوکرین کے کئی علاقے قبضے میں لے چکا ہے۔
لیکن زیلنسکی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا: ’ہم اپنی زمین پر موجود ایک قاتل کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔‘
جب زیلنسکی نے مغربی ممالک کی قیام امن کےمتعلق ناکام کوششوں کا حوالہ دیا، تو وینس نے مداخلت کر کے انہیں ’بے عزتی کرنے والا‘ کہہ دیا۔
یورپی رہنماؤں کا یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی
ٹرمپ کے رویے کے بعد، یورپی اتحادیوں نے فوری طور پر زیلنسکی کی حمایت کا اعلان کیا۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا:’ آپ اکیلے نہیں ہیں۔‘
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے زیلنسکی اور ٹرمپ دونوں سے فون پر بات کی اور کیئف کے لیے ’غیر متزلزل حمایت‘کا یقین دلایا۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے امریکہ، یورپ، اور دیگر اتحادیوں کے درمیان یوکرین پر ’فوری سربراہی اجلاس‘ بلانے کی درخواست کی۔


