نظم
شاعر / زاہد خان
شاعر / زاہد خان
آٹھ ارب آبادی میں وہ
بات نہیں کر سکتا ہے
زندہ مردہ لوگوں میں وہ
تنہائی کا مارا ہے
کس تہذیب کی مٹی لے کر
گلیوں گلیوں پھرتا ہے
ان دیکھی دنیاؤں کا وہ
پاٹ پڑھاتا رہتا ہے
من کی دنیا بانٹتا ہے اور
ساز بناتا رہتا ہے
ساز کہ جس میں
امن کی گھنٹی بجتی ہے
امن کہ جس کے سائے میں
کچھ خون کی ندیاں بہتی ہیں
وہ دیکھتا ہے اور کہتا ہے
جو آگ ہمارے سینوں کو
خاکستر کرنے آئی تھی
وہ آگ ہمارے سینوں میں
انگارا بن کر جلتی ہے




