علی امین گنڈاپور ڈیرہ اسماعیل خان سے چوتھے وزیر اعلیٰ

صوبہ خیبر پختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور ان کے قبیلے (گنڈا پور) کے تیسرے فرد جب کہ جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے چوتھے صوبائی چیف ایگزیکٹیو بن گئے ہیں۔
قیام پاکستان سے قبل سردار اورنگزیب خان گنڈا پور اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے اس وقت کے سربراہ ممتاز عالم دین اور ملک کے قدرآور سیاست دان مولانا مفتی محمود (مرحوم) خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ منتخب رہ چکے ہیں۔
بعدازاں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی سے تعلق رکھنے والے سردار عنایت اللہ گنڈا پور، جن کا شمار صوبے کے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا، بھی صوبائی وزیر اعلیٰ کے منصب پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
یوں ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا کا واحد ضلع ہے، جہاں سے صوبے کے چار وزرا اعلیٰ کا تعلق رہا۔
خیبر پختونخوا، جو ماضی میں شمال مغربی سرحدی صوبہ کے نام سے جانا جاتا تھا (المعروف صوبہ سرحد)، کو قیام پاکستان سے قبل صوبے کا درجہ ملا تو سر صاحبزادہ عبدالقیوم خان مسلم پروگرسیو پارٹی سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ وہ یکم اپریل 1937 سے سات ستمبر 1937 تک وزرات اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔
ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے صاحبزادہ عبدالقیوم خان نے صوبے کے تاریخی تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج کی بنیاد بھی رکھی تھی۔
خیبر پختونخوا کے دوسرے وزیر اعلیٰ کا نام عبدالجبار خان تھا جو سات ستمبر 1937 سے 10 نومبر 1939 تک وزیر اعلیٰ دو سال دو ماہ تین دن تک اس منصب پر فائز رہے ۔
ضلع چارسدہ کے علاقہ اتمانز ئی سے تعلق رکھنے والے عبدالجبار خان ڈاکٹر خان صاحب کے نام سے شہرت رکھتے تھے اور ان کی سیاسی وابستگی انڈین نیشنل کانگرس سے تھی۔ تاہم 10 نومبر 1939 کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا، جو 25 مئی 1943 تک جاری رہا۔
25 مئی 1943کو آل ا نڈیا مسلم لیگ کے سردار اورنگزیب خان گنڈا پور مارچ 1945 تک صوبے کے تیسرے وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان کے معروف قبیلے گنڈا پور سے تھا۔ وہ ایک سال 10 ماہ اور 21 دن وزیر اعلیٰ رہے۔
انڈین نیشنل کانگرس کی جانب سے خان عبد الجبار خان دوسری مرتبہ 14 مارچ 1945 سے 22 اگست 1947 تک، یعنی دو سال پانچ ماہ اور چھ دن وزیر اعلیٰ رہے۔
قیام پاکستان کے بعد خان عبدالقیوم خان پاکستان مسلم لیگ پارٹی کی جانب سے 23 اگست 1947 سے 23 اپریل 1953 تک وزرات اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ ان کے وزارت اعلیٰ کی مدت پانچ سال اور آٹھ ماہ بنتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے سردار عبدالرشید خان 23 اپریل 1953 کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا اور جولائی 1955 تک اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی وزارت اعلیٰ کا دور دو سال دو ماہ اور 25 دن رہا۔
19 جولائی 1955 سے 14 اکتوبر 1955 تک بہادر خان دو ماہ اور 25 دن وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کا تعلق بھی پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔
صوبے کے وزیر اعلیٰ کا یہ عہدہ 14 ا کتوبر 1955 سے 30 جون 1970 تک ختم کر دیا گیا ۔ اور یکم جولائی 1970 سے یکم مئی 1972 تک مارشل لا نافذ رہا۔
ملک میں جمہوریت کا سلسلہ بحال ہوا تو مولانا مفتی محمود یکم مارچ 1972 سے 15 فروری 1973 تک 11 ماہ اور 15 دن صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے ۔ مرحوم نہ صرف ممتاز عالم دین تھے بلکہ ان کا شمار ملک کی قدآور سیاسی شخصیت میں ہو تا تھا۔ مفتی محمود جمعیت علماتپ اسلام ف کے موجود ہ سر براہ مولانا فضل الرحمان کے والد تھے۔
ان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سردار عنایت اللہ گنڈا پور 29 اپریل 1973 سے فروری 1975 تک ایک سال دس ماہ وزیر اعلیٰ رہے ۔ 14 فروری 1975 سے تین مئی 1975 تک صوبے میں گورنر راج رہا اس کے بعد نوشہرہ سے نصراللہ خان خٹک تین مئی 1975 سے نو اپریل 1977 تک ایک سال 11 ماہ اور 24 روز تک وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کی سیاسی وابستگی پاکستان پیپلزپارٹی سے تھی۔
ابیٹ آباد کے جدون خاندان سے تعلق رکھنے والے اقبال خان جدون نو اپریل 1977 سے پانچ جولائی 1977 تک صرف ایک ماہ اور 24 دن وزیر اعلیٰ رہے۔ ان کا سیاسی تعلق بھی پاکستان پیپلز پا رٹی سے تھا۔
بد قسمتی سے جمہوریت کا یہ سلسلہ پانچ جولائی 1977 کو اس وقت منقطع ہوا جب ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا، جو 1985 تک جاری رہا۔
1985 میں جب سات اپریل کو غیر جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات ہوئے تو پشاور کے علاقہ تہکال کے ارباب خاندان سے ارباب جہانگیر خان سات اپریل 1985 سے 31 مئی 1988 تک تین سال ایک ماہ اور 24 دن تک وزیر اعلیٰ رہے۔
ان کے بعد سابق گورنر خیبر پختون خواہ لیفٹیننٹ جنرل فضل حق 31 مئی 1988 سے دو دسمبر 1988 تک چار ماہ اور دو دن کے لیے نگران وزیر اعلیٰ تعینات ہوئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دسمبر 1988 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے اور ضلع چارسدہ کے گاؤں شیرپاؤ سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے 2 دسمبر 1988 سے 7 اگست 1990 تک صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس طرح وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی مدت کار ایک سال، سات ماہ اور 25 دن رہی۔ اس کے بعد مردان سے تعلق رکھنے والے میر افضل خان نے 8 نومبر 1990 سے 7 اگست 1991 تک قائم مقام وزیراعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر 19 جولائی 1993 سے اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے اپنی مجموعی مدت دو سال، گیارہ ماہ اور تیرہ دن تک وزیراعلیٰ رہے۔
1993 کے عام انتخابات کے بعد ضلع ہری پور کے گاؤں غازی سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ پیر صابر شاہ 21 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999 تک وزیراعلیٰ رہے۔ اس طرح وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی مدت کار دو سال، سات ماہ اور 21 دن تک جاری رہی۔ اس کے بعد ضلع ہری پور کے خان پور سے تعلق رکھنے والے راجہ سکندر زمان 12 نومبر 1996 سے 21 فروری 1997 تک تین ماہ اور نو دن تک قائم مقام وزیراعلیٰ رہے۔
1997 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ کی کامیابی کے نتیجے میں ضلع ہری پور میں گلیات سے وابستہ مہتاب احمد خان عباسی 30 اکتوبر 1999 سے 21 نومبر 2002 تک وزیراعلیٰ رہے۔ اس طرح وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی مدت کار تین سال، پانچ ماہ اور 22 دن تک جاری رہی۔
2002 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد 7 اپریل 2002 کے انتخابات کے بعد پشاور سے تعلق رکھنے والے ارباب جہانگیر 21 نومبر 2002 سے 30 نومبر 2007 تک وزیراعلیٰ رہے۔ اس طرح وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی مدت کار پانچ سال، تین ماہ اور نو دن رہی۔ اس کے بعد شمس الملک 20 مارچ 2008 سے 20 مارچ 2013 تک پانچ ماہ اور بیس دن تک قائم مقام وزیراعلیٰ رہے۔ اس کے بعد نوشہرہ کے خٹک قبیلے سے تعلق رکھنے والے پرویز خٹک 31 مئی 2013 سے 6 جون 2018 تک وزیراعلیٰ رہے۔ اس طرح چیف منسٹر کی حیثیت سے ان کی مدت کار پانچ سال چھ دن رہی۔
2018 کے عام انتخابات میں نوشہرہ کے خٹک قبیلے سے تعلق رکھنے والے پرویز خٹک کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں حکومت تشکیل دی تھی۔ باجوڑ میں صفی قبیلے سے تعلق رکھنے والے محمود خان 16 اگست 2018 سے 11 نومبر 2023 کو اپنی ناگہانی موت تک وزیراعلیٰ رہے۔ محمود خان کے انتقال کے بعد ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سید ارشد حسین شاہ کو 12 اکتوبر 2023 کو قائم مقام وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا اور وہ 11 نومبر 2023 کو اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔




