یونان کشتی حادثہ: پاکستانیوں کی اموات، وزیراعظم نے انکوائری رپورٹ طلب کرلی/ اردو ورثہ
وزیراعظم شہباز شریف نے غیر قانونی طور پر یورپ جاتے ہوئے یونان کے پانیوں میں کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی اموات پر اتوار کو افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کو واقعے کی انکوائری رپورٹ جلد از جلد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب یونان کے جنوبی جزیرے کے قریب پیش آنے والے واقعے میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، جس میں پانچ افراد کی موت اور متعدد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ 39 افراد کو یونانی بحریہ نے بچا لیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’انسانی سمگلنگ ایک اندوہناک جرم ہے، جس کی وجہ سے کئی افراد کی جانیں جاتی ہیں اور ہر سال کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔‘
وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو جلد از جلد واقعے کی انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے افراد کی شناخت کی جائے اور ان کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ وہ ایسے قبیح فعل کو نہ دہرائیں۔‘
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا: ’ایسے واقعات کے مستقبل میں تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
بیان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو کشتی حادثے کی تحقیقات کر کے پانچ روز میں رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش کرے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’انسانی سمگلنگ جرم ہے، جس میں ملوث مافیا کئی گھر اجاڑ چکے ہیں۔‘
انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو انسانی سمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف ملک گیر کارروائیاں شروع کرنے کی بھی ہدایات دیں۔
وزیراعظم ہاؤس اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیانات میں پاکستانیوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس حادثے میں کتنے پاکستانی شہری جان سے گئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونانی کوسٹ گارڈ نے ہفتے کو بتایا کہ جنوبی جزیرے گاوڈوس کے قریب لکڑی سے بنی کشتی الٹنے سے کم از کم پانچ افراد ڈوب کر مارے گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ تلاش کی کارروائیاں جاری رہنے کے باوجود بہت سے افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
یونانی حکام کے مطابق اب تک 39 افراد، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے ہے، کو اس علاقے میں کارگو جہازوں کے ذریعے بچایا گیا ہے۔
یونانی کوسٹ گارڈ نے کہا کہ انہیں جزیرے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ ہونے والوں کی درست تعداد کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے اور ہفتے کی درمیان پیش آنے والے حادثے کی اطلاع آنے کے فوری بعد یونانی کوسٹ گارڈ کی کشتیاں، کارگو جہاز، اطالوی فریگیٹ اور بحریہ کے طیارے اس علاقے کی تلاشی لے رہے ہیں۔
ہفتے کو ہی الگ الگ واقعات میں مالٹا کے کارگو جہاز نے گاوڈوس سے تقریباً 40 میل دور ایک کشتی سے 47 تارکین وطن کو جب کہ ایک ٹینکر نے یونان کے جنوب میں واقع چھوٹے سے جزیرے سے تقریباً 28 میل دور دیگر 88 تارکین وطن کو بچایا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق کوسٹ گارڈ حکام کا خیال ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی ان کشتیوں کے ساتھ لیبیا سے ایک ساتھ روانہ ہوئی تھیں۔
یونان 2015 میں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے آنے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے یورپی یونین میں داخل ہونے کا پسندیدہ گیٹ وے رہا ہے۔
وسطی بحیرہ روم میں یونانی جزیروں کے قریب تارکین وطن کی کشتیاں الٹنے اور بحری جہازوں کے ٹوٹنے کے واقعات میں گذشتہ سال کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے۔
2023 میں پاکستانیوں سمیت سینکڑوں تارکین وطن اس وقت ڈوب کر چل بسے تھے، جب جنوب مغربی یونانی ساحلی قصبے پائلوس کے قریب ایک چھوٹا جہاز الٹ گیا تھا۔



