خبریں

حماس کا ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘: اسرائیل کی جانب پانچ ہزار راکٹ فائر


فلسطین میں سرگرم تنظیم حماس کے عسکری ونگ کے مطابق ہفتے کو ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا آغاز کرتے ہوئے پانچ ہزار سے زائد راکٹ اسرائیل کی جانب داغے گئے، جسے تل ابیب نے ’جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فوجی غزہ کی پٹی کے ارد گرد کئی مقامات پر فلسطینی عسکریت پسندوں سے لڑائی میں مصروف ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم نے کہا ہے کہ ’غزہ سے ہونے والے میزائل حملوں میں 22 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔‘

روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں میں 545 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

حماس کا ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا اعلان

جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کا کہنا تھا: ’ہم نے غاصب (اسرائیل) کے تمام جرائم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، ان کا احتساب کیے بغیر اشتعال انگیزی کا وقت ختم ہو گیا ہے۔‘

حماس کے بیان میں کہا گیا: ’ہم آپریشن طوفان الاقصیٰ کا اعلان کرتے ہیں اور ہم نے ابتدائی حملے کے 20 منٹ کے اندر پانچ ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے۔‘

اس سے قبل اے ایف پی کے صحافی نے رپورٹ کیا کہ غزہ کے متعدد مقامات سے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے راکٹ فائر کیے گئے۔

فلسطینیوں کا دفاع کا حق ہے: صدر محمود عباس

روئٹرز کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے ہفتے کو کہا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی صدر کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو ’قابض سپاہیوں اور آبادکاروں کی دہشت‘ کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

اسرائیل حالت جنگ میں ہے: نتن یاہو

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اسرائیل حالت جنگ میں ہے۔‘

اسرائیلی وزیراعظم کے بیان میں کہا گیا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں۔ یہ ایک آپریشن یا کارروائی نہیں بلکہ جنگ ہے۔‘

ان کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’میں نے ریزرو افواج کی وسیع فعالیت کا حکم دے دیا ہے اور ہم دشمن کے فائر کے جواب میں ایسی طاقت استعمال کریں گے جو انہوں نے نہیں دیکھی ہو گی۔‘

جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا: ’حماس نے آج صبح ایک سنگین غلطی کی ہے اور اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔‘

راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ حماس نے اسرائیل کے خلاف ’جنگ‘ شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق: ’آئی ڈی ایف کے دستے (اسرائیلی فوج) ہر مقام پر دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘

ادھر اسرائیلی فوج نے ملک کے جنوبی علاقوں میں ایک گھنٹے تک خطرے کے سائرن بجائے اور عوام کو بم شیلٹرز کے قریب رہنے کی تاکید کی۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے راکٹ حملوں کے بعد متعدد ’عسکریت پسند‘ اسرائیل میں داخل ہو گئے ہیں، جن کے خلاف لڑائی جاری ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’یہ ایک مشترکہ زمینی حملہ تھا جو پیرا گلائیڈرز، سمندر اور زمین کے ذریعے کیا گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ابھی ہم لڑ رہے ہیں۔ ہم غزہ کی پٹی کے آس پاس کچھ جگہوں پر لڑ رہے ہیں۔۔ ہماری افواج اب زمین پر لڑ رہی ہیں۔‘

حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس کے جنگجو غزہ کے قریب اسرائیلی فوجی اڈے کے اندر دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ کو حماس کے ہاتھوں گرفتار کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق حماس نے 35 اسرائیلی فوجیوں کو گرفتار کیا ہے۔

ہفتے کو جاری بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا: ’غزہ کے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھروں کے اندر رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ بن یامین نتن یاہو نے تازہ ترین واقعے کے بعد سکیورٹی چیفس کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

اموات اور زخمی

اسرائیل کے محکمہ صحت کے عملے کا کہنا ہے کہ ایک 60 سالہ خاتون اسرائیل کے جنوبی حصے میں چل بسیں جبکہ 15 افراد اس واقعے کے بعد زخمی ہوئے۔

میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروسز کے مطابق اس واقعے کے بعد ایک 70 سالہ خاتون کی حالت نازک بتائی گئی اور ایک اور شخص کے وسطی اسرائیل میں ایک عمارت پر راکٹ گرنے کے بعد پھنسنے کی اطلاع ہے۔

ایک اور واقعے میں طبی ماہرین نے بتایا کہ ایک 20 سالہ شخص کو راکٹ کے ٹکڑے لگنے سے معمولی زخم آئے۔

فسلطینیوں کا گھروں سے انخلا

اے ایف پی کے ایک نمائندے نے رپورٹ کیا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغے جانے کے بعدغزہ کی پٹی کے قریب رہائشیوں نے اسرائیل کی سرحد سے دور جانے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا۔

رپورٹر نے بتایا کہ مرد، خواتین اور بچوں نے اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے کمبل اور کھانے پینے کی اشیا اٹھا رکھی تھیں۔

یورپی ممالک اور یورپی یونین کی مذمت

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین نے اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے تشدد کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کے علاوہ برطانیہ، اٹلی، فرانس، سپین، جرمنی اور یوکرین نے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ جبکہ روس نے فریقین سے تشدد کو روکنے پر زور دیا ہے۔

فلسطین اور اسرائیل میں کشیدگی

اسرائیل نے 2007 سے حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے بعد سے فلسطین اور اسرائیل کئی تباہ کن جنگیں لڑ چکے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تازہ ترین جھڑپ ستمبر میں کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آئی تھی، جب اسرائیل نے دو ہفتوں کے لیے غزہ کے مزدوروں کے لیے سرحد بند کر دی تھی۔

سرحدی کراسنگ کی بندش اس وقت کی گئی جب فلسطینیوں کے احتجاج کے دوران مظاہرین نے ٹائر جلانے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھر اور پیٹرول بم پھینکے، جس کا جواب اسرائیلی فورسز نے آنسو گیس کے شیلز اور براہ راست گولیوں سے دیا۔

رواں سال مئی میں بھی فلسطینی راکٹ اور اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 34 فلسطینی اور ایک اسرائیلی مارے گئے تھے۔

اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے مطابق اس سال اب تک کم از کم 247 فلسطینی، 32 اسرائیلی اور دو غیر ملکی مارے جا چکے ہیں جن میں دونوں جانب کے فوجی اور شہری شامل ہیں۔

زیادہ تر اموات مغربی کنارے میں ہوئی ہیں جہاں 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اسرائیل کا قبضہ ہے۔

حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی جانب سے فوجی چھاپوں اور فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button