کیا مغرب ایک بار پھر صلیب اور ہلال کی جنگ چاہتا ہے؟ ترک صدر

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مغربی کی جانب اسرائیل کی بے جا حمایت پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا مغرب ایک بار پھر صلیب اور ہلال کی جنگ چاہتا ہے؟
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے غزہ حملوں اور انسانیت سوز مظالم پر مغربی اور یورپی ممالک کی جانب سے غاصب اسرائیل کی بے جا حمایت پر دنیا سے سوال کر دیا ہے کہ کیا مغرب ایک بار پھر صلیب اور ہلال کی جنگ چاہتا ہے؟
استنبول میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مغرب نے ایسی کوئی کوشش کی تو جان لے کہ ہم ابھی زندہ ہیں۔ اسرائیلی مظالم کے پیچھے مرکزی مجرم مغربی طاقتیں ہیں اور ہم اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دلوا کر رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پچھلے 22 دنوں سے کھلے عام جنگی جرائم کر رہا ہے لیکن مغرب نے اس پر ردعمل دیا اور نہ ہی جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل نے ترک صدر کے خطاب پر ردِعمل دیتے ہوئے ترکیے سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا تو دوسری جانب ترکیے نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لیں گے۔


