منتخب کالم

بس ایک دن / سرÙ�راز راجا



سال 2014ء دن اور مہینہ تھا آزادی کا۔ ویسے تو 14 اگست کو ہر طرف سبز پرچموں کی بہار دکھائی دیتی ہے،پرچم کشائی ،تقاریب، توپوں کی سلامیاں، گھروں پر قومی پرچم ،سبز اور سفید ملبوسات،ملی نغموں کی گونج، بات ہوتی ہے تو صرف پاکستان کی، آزادی کی اور آزادی دلوانے والوں کی ،لیکن  اس سال یعنی اگست 2014ء کو آزادی سے زیادہ آزادی مارچ کی بات ہورہی تھی، تحریک انصاف کا آزادی مارچ۔ موضوع بحث صرف سیاست اور وہ بھی احتجاجی سیاست ،میڈیا پر یوم آزادی سے زیادہ آزادی مارچ کی تیاریوں کا چرچا تھا۔ ملک میں 2013ء میں ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک گیر مارچ کا اعلان کیا گیا جسے نام دیا گیا آزادی مارچ کا اور اس کے لیے دن بھی چنا گیا آزادی کا۔ یہ شاید پہلا موقع تھا جب آزادی کے دن کو اس طرح کی سیاسی تقسیم کا شکار کردیا گیا،آزادی کے دن پر قومی ہرچموں کی بجائے پارٹی پرچم اٹھائے گئے، منتخب جمہوری حکومت کو للکارا جاتا رہا،پارلیمان کو برا بھلا کہا گیا اور یوں آزادی کی خوشیاں ایک ہیجان کی نظر ہوگئیں۔ آزادی مارچ سے شروع ہونے والا احتجاج دھرنے کی شکل اختیار کرتے ہوئے اگلے تین ماہ تک جاری رہا ،احتجاج کرنے والوں کے الزامات درست ثابت ہوئے نہ مطالبات پورے ہوئے لیکن شعور کے نام پر قوم میں شدید سیاسی تقسیم کا جو زہر گھولا جاتا رہا اس کے اثرات ختم نہیں ہوپارہے۔
بطور صحافی کئی ملکوں کے آزادی کے دن دیکھنے کا موقع ملا۔ آزادی کے دن قوموں کو متحد کرتے ہیں ملکوں اور معاشروں میں پائی جانے والی تقسیم بھی کم از کم اس ایک دن کے لیے ختم کردی جاتی ہے،ہر جانب ایک ہی پرچم اور اس پرچم کے رنگ دکھائی دیتے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے یہاں گیارہ سال قبل تقسیم کا جو بیج بویا گیا آج بھی اس کی آبیاری جارہی ہے۔ آزادی اور کبھی حقیقی آزادی جیسے نعرے لگا کر قوم کے اتحاد کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قوم کو آزادی کے لیے دی گئی قربانیوں سے آگاہی کی بجائے یہ ’شعور‘ دیا جاتا ہے کہ وہ تو آزاد ہیں ہی نہیں اور اس حقیقی آزادی کا مفہوم ان کے لیے ہے اپنا اقتدار اور سیاسی فائدے کے لیے آزادی کے دن کو بھی متنازعہ بنادیا جاتا ہے۔
اس سال ایک مرتبہ پھر کچھ ایسا ہی کیا جارہا ہے،تحریک انصاف نے پہلے 5 اگست کو احتجاج کی کال دی یہ وہی دن تھا جس دن چھ سال قبل بھارت نے کشمیریوں پر گہرا وار کیا اور آئین کا آرٹیکل 370 ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ سادہ الفاظ میں مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا۔ اس دن کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری یومِ استحصال کے طور پر مناتے ہیں۔اب اس روز قوم نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ایک جماعت نے ایک شخص کے ساتھ۔ ایک ایسا دن جب قوم نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرنا تھی وہ خود بھی یکجا نہ ہوسکی۔ اس روز کا احتجاج جیسا بھی رہا کامیاب یا ناکام لیکن ایک اہم دن پر قوم کو تقسیم ضرور کرگیا۔ پھر عمران خان نے 14 اگست کو احتجاج کی کال دیدی ،ایک بار پھر آزادی کا دن تقسیم کا شکار، وہی گیارہ سال پہلے شروع ہونے والی کہانی۔
لیڈر کی ایک سب سے بڑی خوبی کا ذکر کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ وہ تقسیم ختم کرتا ہے سب کو جوڑتا ہے توڑتا نہیں۔ لیکن ہمارے لیے تو لیڈر وہ ہے جو ہمیں پسند ہے اور اس کا مخالف ہمارا دشمن اور قابل نفرت، اس شخصیت پرستی نے دراصل ہمارے معاشرے کو خطرناک تقسیم اور سیاسی عدم برداشت کا شکار بنارکھا ہے۔سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس آزادی کا جشن ہم منانے جارہے ہیں یہ آزادی ہمیں آسانی سے نہیں ملی، سیکڑوں جانوں کی قربانی، ہمارے بزرگوں کا خون اس آزادی کی بنیادوں میں ہے۔ سال میں کم از کم یہ ایک دن ایسا ہوا کرتا تھا کہ جب ہم ان قربانیوں کو یاد کرتے اپنے نئی نسل کو اس کے بارے میں بتایا کرتے لیکن آج ہم نے نئی نسل کو کس جانب لگادیا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ یہ ملک سب سے آگے ہے،کوئی اس سے زیادہ اہم نہیں، ہم جو احتجاج کرتے ہیں یہ بھی اسی آزادی کی بدولت ہے جو ہمارے بزرگوں کی قربانیوں سے ہمیں ملی، آج اس ملک میں جو کوئی جو کچھ بھی ہے وہ اس ملک کی بدولت ہی ہے اس کے بغیر کوئی کچھ نہیں۔ کم از کم ایک روز کے لیے تو ہم اپنے اندر کی تقسیم اور عدم برداشت کو ایک جانب رکھ سکتے ہیں۔ اتحاد، ایمان، نظم کا بانی ِپاکستان کا درس یاد کرسکتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد کے صرف ایک نعرے کو اپنی پہچان بناسکتے ہیں،بس ایک دن کے لیے ہی سہی اختلافات بھلا کر اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہوسکتے ہیں۔ پھر سارا سال ہوگا ہمارے احتجاجوں کے لیے بھی اور سیاست کے لیے بھی۔





Source link

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button