غزل

غزل | اُٹھا جو راز سے پردہ تو لوگ رونے لگے | مہدی حسین خالص

غزل

 

اُٹھا جو راز سے پردہ تو لوگ رونے لگے 

سمجھ میں آ گئی دنیا تو لوگ رونے لگے 

 

ہمارے رونے پہ ہنستے تھے لوگ جی بھر کر 

کسی نے ہم کو ہنسایا تو لوگ رونے لگے 

 

میں گاؤں لوٹا تو اس کے مکاں پہ تالا تھا 

جب اس کے بارے میں پوچھا تو لوگ رونے لگے 

 

کوئی بھی خالی نہ لوٹا تھا جس کے در سے کبھی 

جب اسکا حجرہ کھنگالا تو لوگ رونے لگے 

 

بجھا کے بیٹھے تھے سورج کو اپنے ہاتھوں سے 

پھر آیا گھور اندھیرا تو لوگ رونے لگے 

 

کسی کو چھوڑ دے دنیا تو لوگ ہنستے ہیں 

کسی نے چھوڑ دی دنیا تو لوگ رونے لگے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x