اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / امید کے فریب میں دھوکہ دیا گیا / کرن منتہی

غزل

 

امید کے فریب میں دھوکہ دیا گیا 

یعنی شکستِ عشق کو جھٹلا دیا گیا

 

خوابوں کو ٹھیرنے کی اجازت نہیں ملی

یادوں کے ریستوران پہ پہرا دیا گیا 

 

آواز اس کی حیرتوں کا ارتکاز ہے

پھر حشر یہ کہ چہرہ سلونا دیا گیا 

 

دورِ فراقِ یار سے بچنا محال ہے 

سب کو فریبِ وعدۂ فردادیا گیا 

 

بیٹھے تھے اپنی خاک پہ دامن سمیٹ کر

امید کے الاؤ کو بھڑکا دیا گیا

 

لہریں بپھر کے لے گئیں سامانِ خواب و خور  

تنکے سے ڈوبتے کو سہارا دیا گیا 

 

دیمک نے کھا لیا ہے تمہارا ہر ایک خط

یادوں کے آئنے کوبھی دھندلا دیا گیا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x