اُردو شاعرینظم

نظم : جون آف آرک / ایچ بی بلوچ

جون آف آرک
(ایچ بی بلوچ)

ہونٹوں سے لپکتی مسرت
(جس کے پس پردہ تلواریں کھنکتی ہیں)
اور تمہارے جنگجو جسم کا ترنم سوجھتے ہوئے
دنیا کے تمام موسیقاروں کو انفلوئنزا کے دورے پڑتے ہیں
یقیناً تمہاری پاگل استراحت کے دھویں سے عالم برزخ تخلیق کیا گیا!

ایک نغمہ
جو قدیم زمانوں کے کہنہ مرقد سے لپٹا ہوا ہے
تمہارے بالوں کی جڑوں تک بھیگا ہوا
نمیدہ نمیدہ

بانسری سے بنے وجود
اور خاک در خاک
سینے کی گود میں مدفون خنجر کی کائنات میں پھیلتی جا رہی ہو
راسخ العقیدہ بھیڑوں کی مانند جو اپنے فرمانروا کے پیچھے اپنی فرمان بردار اون کے ساتھ چلتی رہتی ہیں

نشاط ثانیہ کے خوراک کا پہلا لقمہ
کھلے دالان کے وسیع پیٹ میں
مکھیوں کے بھنبھناتے سروں کی قیمت کے طور رکھ دیا گیا ہے
فیصلہ کی گھڑی آن پہنچے گی
اور ہاتھ جلانے والے آگ کے بدلے
تمام خوبصورتیوں کو دھواں اگلتی چمنیوں میں بدل دیا جائے گا!

اس سنگ تراش کی آرزوئیں خمیدہ پتھروں سے قطرہ قطرہ ٹپکتی رہیں گی
جس نے تمہیں تراشنے سے پہلے کم از کم چھینی اور ہتھوڑا نہیں بنانا چاہیے تھا!

Author

Related Articles

Back to top button