ادبی کالم

مہرو ندا احمد کی ایک نظم ” مَیں شفا پا گئی “ تجزیہ نگار ڈاکٹر رفیق سندیلوی

مہرو ندا احمد کی ایک نظم ” مَیں شفا پا گئی “ تجزیہ نگار ڈاکٹر رفیق سندیلوی

مَیں شفا پا گئی 

 

ابنِ مریم  

مرے فلسفی

زندگی قید ہے 

گور کی گود میں وہ شفا ہے 

جو ماؤں کی گودی سے نکلیں تو 

دُنیا میں ملتی نہیں 

میری چنتا نہ کر 

میرے پیروں کو حلقوں سے آزاد ہونے کی ہرگز تمنا نہیں 

مَیں میانِ شبِ تیرگی

رقص کا راز بھی پا گئی 

رقص جھرنا ہے 

جاری ہے ازلوں سے، رُکتا نہیں 

اِس میں زنجیر ہلنا ضروری نہیں

میری چنتا نہ کر 

 

ابنِ مریم

مسیحا مرے

تیری بیمار مَیں 

ناتوانی میں ایزد کے آگے جُھکی 

میرے ماتھے پہ جگنو چمکنے لگے 

وہ مسیحائی، بوسہ وہ نوروں بھرا 

تیرگی سے اٹی رات میں سوختہ

مَیں شکستہ

سسکتی ہُوئی 

روشنی پا گئی 

 

مَیں تری گندمی

ابنِ مریم  

مسیحا مرے 

مَیں ترے بعد اتنا چلی 

آبلے مُجھ سے تنگ آ گئے  

میرے پیروں تلے 

سبزگوں چادریں بچھ گئیں 

دودھ کا دودھ آخر الگ ہو گیا

اور جو پانی تھا 

اُس کو ہَوا کھا گئی 

مَیں شفا پا گئی!

 

     معاصر اردو نظم کے منظرنامے میں بعض نظمیں محض پڑھی نہیں جاتیں، اپنے قاری کو ایک باطنی مکالمے میں داخل کر لیتی ہیں۔ مہرو ندا احمد کی یہ نظم بھی اسی سلسلے کی ایک تازہ مثال ہے جس کی طرف میری توجہ پروین طاہر نے دلائی۔ ان کے مطابق یہ نظم نئی نسل کے اُس سنجیدہ تخلیقی رخ کی نمائندہ ہے جو سطحی اظہار کے زمانے میں بھی شاعری کو دل کی گہرائیوں اور روحانی تجربے کی توسیع بنائے رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس نظم کو آنکھ سے نہیں، دل سے پڑھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ یہ نظم حقیقت اور مجاز کی سرحد پر کھڑی اہل دل کو پکارتی ہے کہ یہ میں ہوں جس نے کائناتی رقص کے راز کو پا لیا ہے ۔ اس نظم کی ساخت پر علی محمد فرشی کی رائے بھی اس کے جمالیاتی پس منظر کو مزید واضح کرتی ہے۔ ان کے نزدیک شاعرہ کی اصل طاقت نظم کی تعمیر و تشکیل میں ہے۔ گہرے استعاروں میں واضح مگر تہہ دار امیجز کی تخلیق، یوں کہ نظم میں کوئی شے ضائع نہیں جاتی، فالتو نہیں رہتی۔ شاعرہ ضبط کو قوت میں بدل دیتی ہے اور یہی اس کا فنی کمال ہے۔ ارشد معراج کا تاثر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ان کے مطابق کیفیات و حسیات کے درد سے بھری ہوئی یہ نظم لکھی نہیں گئی، وارد ہوئی ہے ۔۔۔۔ گویا یہ نظم شاعرہ کے اندر کسی گہرے مقام سے ابھری ہے، کسی ایسی جگہ سے جہاں تجربہ فن کے اوزاروں سے زیادہ وجودی دھڑکن سے جنم لیتا ہے۔ جب میری نظر اس نظم پر پڑی تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ نظم قرآت کے بعد خاموش نہیں ہوتی، اپنے قاری سے گفتگو کرتی ہے۔ اسی لیے میں نے پروین طاہر سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے ایک ایسی نظم کی طرف دھیان دلایا ہے جو مکالمے کا وصف رکھتی ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ میں نے یہ مکالمہ محفوظ کر لیا ہے۔۔۔۔ آئیے، اب اس مکالمے میں قدم رکھتے ہیں جس کی بدولت یہ تجزیہ وجود میں آیا ہے۔

     اس نظم میں معرفت کا جو مقام شاعرہ کو ملا ہے وہ پہلی نظر میں ہی متوجہ کرتا ہے۔۔۔ ہماری نئی نسل جس ہوا و ہوس اور ظاہر پرستی میں پڑ گئی ہے، یہ نظم اس سے الگ وہ روشنی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جو تیرگی سے پاک ہے اور دودھ کی طرح خالص ۔۔ رات تیرگی سے اٹی ہوئی تھی اور دودھ جس میں پانی ملا ہوا تھا ۔۔۔ دونوں کی تطہیر ہو جاتی ہے اور یہ سب ایک نورانی بوسے کی کرامت سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔۔ شفا ما ں کی گود سے نکلنے کے بعد قبر میں بھی نہیں ملتی۔۔۔ اور اگر شفا ملتی ہے تو اس مسیحا کی طرف سے جو ذات کا مرد ہے لیکن ابنِ مریم ہے جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا : "ابنِ مریم ہوا کرے کوئی/ میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی”۔ تو کیا اس نظم میں عورت کی شفایابی کا سارا کریڈٹ مرد کو جاتا ہے۔۔۔ اب اگر نظم کو ڈی کنسٹرکٹ کیا جائے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ ظاہری بیانیہ اور اندرونی معنوی سطح کے درمیان کس طرح کا تعلق موجود ہے؟ یہ تو ظاہر ہے کہ نظم میں عورت کی شفایابی کے تمام پہلو "ابنِ مریم” کے ذریعے بیان کیے گئے ہیں۔ ڈی کنسٹرکشن کے ذریعے یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا یہ شفا مرد محور ہے اور صرف روایت، زبان اور ثقافتی سیاق کا نتیجہ ہے یا واقعی عورت کے باطن کی طاقت اور وجود کی معرفت کو بھی اس متن میں موجود سمجھنا ممکن ہے؟ اصلاً تیرگی زدہ رات کا روشی پانا اور دودھ کا پانی سے الگ ہونا جمالیاتی کشف کی استعارہ جاتی و علامتی صورتیں ہیں جو یہ دکھاتی ہیں کہ نظم میں "پاکیزگی” نور بھرے بوسے اور "شفا” کے تصورات یک طرفہ نہیں بلکہ مخلوط اور پیچیدہ ہیں۔ ڈی کنسٹرکشن یہاں یہ سوال اٹھائے گی کہ یہ کس کے لیے اور کس لحاظ سے معنی پیدا کرتی ہیں؟ کیا یہ محض مرد کی طاقت کے ذریعہ معنویت میں بدلتی ہیں یا عورت کے داخلی معارف بھی اس میں شامل ہیں؟ ان سوالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نظم قاری کو واحد تاثر یا قطعی حل فراہم نہیں کرتی بلکہ ہر پڑھنے والے کے لیے نئے زاویے کھولتی ہے گو کہ وہ منطقی طور پر اپنی متکلم کی شفا یابی پر ہی منتج ہوتی ہے۔ 

     نظم میں ابنِ مریم کو فلسفی اور خود کو اس کی گندمی کہنا اور ناتوانی میں ایزد کے آگے جھک جانا۔۔۔ یہ اشارات متن کے "ثباتِ معنی” اور "استقرارِ معنی” کا حصہ ہیں جن کا جائزہ چار مقامات سے لیا جا سکتا ہے۔ نظریاتی مقام، لسانی وعلامتی مقام، فکری و وجودی مقام اور تاویلی مقام۔ نظریاتی مقام سے دیکھیں تو یہ سب علامات مل کر متن میں ایک ایسا معنوی تناؤ پیدا کرتی ہیں جو عورت کی ذات اور مرد کے درمیان قائم طاقت کے توازن کو ایک طرف مضبوط بھی کرتی ہیں اور دوسری طرف غیر مستحکم بھی بناتی ہیں۔ ڈی کنسٹرکشن کی روشنی میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ شاعرہ بظاہر مرد کو مسیحائی کا مرکز بناتی ہے مگر اسی لمحے اپنے روحانی و داخلی تجربے کو بھی ایک ایسی شدت عطا کرتی ہے جو مرد کی مرکزیت کو خود اس کے اندر سے کھوکھلا کرنے لگتی ہے۔ اس طرح "فلسفی” اور "گندمی” کے القابات ایک طرف تعلق کی گرم جوشی رکھتے ہیں، دوسری طرف معنی کے دراڑوں میں چھپا ہوا ایک لاشعوری احتجاج بھی لیے ہوئے ہیں۔ لسانی وعلامتی مقام سے دیکھیں تو ابنِ مریم کو ’’فلسفی‘‘ کہنا اور خود کو ’’گندمی‘‘ پہچان دینا دراصل دو متضاد بیانیوں کی باہمی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک بیانیہ جس میں عورت خود کو مرد کے حوالے سے شناخت کرتی ہے اور دوسرا وہ جس میں وہ اپنی داخلی روشنی، ناتوانی کے کرب اور روحانی تجربے کے ذریعے اس حوالے کو چیلنج بھی کرتی ہے۔ یہیں معنی کا عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ قاری یہ طے نہیں کر سکتا کہ شاعرہ کا جھکاؤ مکمل سپردگی ہے یا اشارہ کسی باطنی خود مختاری کی طرف بھی ہے۔ یہی تضاد متن کو ایک مسلسل معنیاتی ارتعاش میں رکھتا ہے۔ فکری و وجودی مقام سے دیکھیں تو مذکورہ تینوں اشارات علامتی طور پر ایک ایسے سلسلے کی تشکیل کرتے ہیں جہاں جسم، روح، مذہبی حوالہ اور جنسی اور وجودی شناخت آپس میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہاں اصل مرکز کس کا ہے؟ مرد؟ عورت؟ یا وہ پُراسرار ’نور‘ جو نہ مکمل طور پر مرد کی ملکیت ہے نہ عورت کی۔ یہی الجھن متن کی معنویت کو بار بار کھولتی اور بند کرتی رہتی ہے جس کے باعث قاری کے لیے کوئی واحد نتیجہ ممکن نہیں رہتا۔ تاویلی مقام سے دیکھیں تو شاعرہ ابنِ مریم کو اپنا ’فلسفی‘خود کو اس کی "گندمی” بتا کر بظاہر مرد کو مرکزِ شفا بناتی ہے مگر اسی ناتوانی میں ایزد کے حضور جھکنے کا منظر معنی کو ایک عجیب دوہرے پن میں ڈال دیتا ہے۔ یہ سپردگی بھی ہے اور ایک ایسے باطنی سفر کا اعلان بھی جو مرد سے زیادہ عورت کی داخلی روشنی کا نتیجہ ہے۔ یوں متن اپنے ہی بیانیے کو کمزور کرتے ہوئے ایک ایسی معنوی کشمکش پیدا کرتا ہے جو کسی بھی قطعی نتیجے کو ہمیشہ کے لیے معطل کر دیتی ہے۔    

     اب ان چاروں مقامات کے جائزے کو ملائیں تو نظم کا پورا افق سامنے آ جاتا ہے۔ نظم کی پہلی قرآت ہی داخلی شکست کا ایک ایسا منظرنامہ کھولتی ہے جس میں رات اور دودھ، دونوں تیرگی اور ملاوٹ کے استعارے ہیں۔ یہ خالص یا اصل تک رسائی کی وہ مایوسی ہے جو جدید شہری وجود میں عورت کے بدن کی معنوی تشکیل، اس کی جذباتی تھکن اور روحانی بے سمتی، تینوں کو ایک ساتھ آشکار کرتی ہے مگر یہی تیرگی اُس مقامِ معرفت کی ابتدائی دہلیز بن جاتی ہے جہاں شاعرہ کو ایک ایسی روشنی کو مَس کرنے کا موقع ملتا ہے جو "مرد” کی ظاہری ہیئت سے نہیں بلکہ اس کی باطنی، نوری نسبت سے پھوٹتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظم ابنِ مریم کے استعارے کی طرف وا ہوتی ہے ۔۔۔ ایک ایسا مرد جو جسمانی نسبت سے نہیں بلکہ اپنی قدسی، شفائی اور ماورائی نسبت سے معنی پاتا ہے۔ "مسیحائی” کی یہ اندرونی سطح مذہبی بین السطور ہی نہیں، نظم کے ساخت کردہ پورے فلسفے کی اساس بھی رکھتی ہے۔ عورت کی ناتوانی، اس کی تھکن، اور اس کی شکست ایسی نہیں کہ محض نفسیاتی کمزوری قرار پائے؛ یہ وہ existential exhaustion ہے جو اسے ایزد کے سامنے جھکا دیتی ہے۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ شفا کہاں سے ملتی ہے؟ متن واضح کرتا ہے کہ ماں کی گود کے بعد شفا قبر تک نہیں آتی۔ مطلب یہ کہ زمین پر کسی انسانی نسبت میں اصل شفا نہیں۔ مگر اسی گہرے خلا میں ایک ایسی شخصیت نمودار ہوتی ہے جو "ذات کا مرد” ہو کر بھی ابنِ مریم ہے” یعنی وہ مابعدالطبیعیاتی مردانگی جس میں مرد جسم سے آگے بڑھ کر ایک metaphysical healer بن جاتا ہے۔ 

     غور کیجئے تو یہاں ڈی کنسٹرکشن پوری قوت کے ساتھ کارفرما نظر آتی ہے۔ وہ یوں کہ عورت شفا بھی چاہتی ہے اور اس شفا کی نسبت سے اپنی داخلی ایجنسی کا کچھ حصہ مرد کو بھی سونپ دیتی ہے مگر اسی لمحے شاعرہ خود کو "گندمی” کہہ کر اپنی شناخت کو فنکارانہ اختیار کے ساتھ دوبارہ وضع بھی کرتی ہے۔ یہی نکتہ دراصل متن کی فکری شناخت ہے۔ مطلب یہ کہ نظم ہر اُس بات کو بیان کرتی ہے جسے وہ خود چند سطروں بعد غیر مستحکم بھی کر دیتی ہے۔ مرد مسیحا بھی ہے مگر عورت کی خود دریافتگی کا دروازہ بھی وہ خود ہی کھولتی ہے۔ روشنی بیرونی بھی ہے اور اندر سے پھوٹنے والی بھی۔ دودھ خالص بھی ہے اور اسی لمحے معنوی طور پر عورت کے بدن کی اپنی تطہیر کا اشارہ بھی۔ یہاں بین المتنی افق غالب کے مذکورہ شعر سے شعوری طور پر زیادہ جڑتا ہوا نظر آتا ہے ۔ نظم اسی classical longing کو نئے زمانے کی وجودی عورت میں منتقل کرتی ہے۔۔۔ مگر یہی بین المتونیت نظم کو ایک اور مدار میں داخل کرتی ہے۔ اب ابنِ مریم بطور مردِ شافی صرف مذہبی آئیکون نہیں ریتا بلکہ ایک فلسفیانہ آرکی ٹائپ بن جاتا ہے۔۔۔ یونانی عقل، صوفیانہ نور اور جدید رومانوی شکست کا ایک مرکّب۔

     نظم میں "رقص” اور "زنجیر” کا استعارہ اپنی پوری قوت کے ساتھ اسی لمحے روشن ہوتا ہے جب شاعرہ اعلان کرتی ہے کہ رقص کے لیے زنجیر کا ہلنا ضروری نہیں۔ رقص ازلی آزادی کا اشارہ ہے مگر اسی لمحے زنجیر کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ آزادی ایک نامکمل، نیم شفاف تجربہ ہے۔ عورت کے پیروں میں حلقے بھی ہیں اور وہ رقص کا راز بھی پا چکی ہے؛ گویا قید اور رقص ایک دوسرے کو رد نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کی شرط ہیں۔ یہ بظاہر آزادی کی صدا ہے مگر اس کے اندر خاموشی کے ساتھ قید کا اعتراف بھی پوشیدہ ہے۔ گویا آزادی بھی ہے اور آزادی کی ضد بھی ساتھ چل رہی ہے۔ عورت کا یہ کہنا کہ اسے اپنے پیروں کے حلقوں سے نجات کی خواہش بھی نہیں؛ اس اعلان میں شکست اور اختیار، جبر اور رضا، سب ایک دوسرے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں "رقص” ازلی جھرنے کی طرح بہنے والی وہ نسائی توانائی بن جاتا ہے جو پابندی کے اندر سے اُبھرتی ہے، قید کو رد کرتی ہے اور پھر اسی کو اپنی توانائی کا حصہ بنا لیتی ہے۔ نظم اس استعارے کے ذریعے آزادی کو رومانوی یا صاف شفاف تجربہ نہیں سمجھتی؛ وہ اسے ایک جدلیاتی کیفیت میں دکھاتی ہے جہاں رقص اپنی قوت قید کی موجودگی سے لیتا ہے اور زنجیر کی سختی رقص کی روانی سے نرم ہو جاتی ہے۔ یوں قاری پر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ یہاں جبر اور آزادی دو مخالف قطبین نہیں بلکہ ایک ہی معنوی دائرے کی دو گردشیں ہیں جو ایک دوسرے سے توانائی بھی حاصل کر رہی ہیں اورایک دوسرے میں تحلیل بھی ہو رہی ہیں۔ گویا شاعرہ کا رقص اسی اندرونی کشمکش کا نام ہے؛ قید میں بھی متحرک، پابندی میں بھی منکشف اور زنجیر کو ایک علامتی خاموشی کے طور پر قبول کرتے ہوئے بھی ازل کے بہاؤ میں شامل۔

یہاں ایک اور نکتہ جو بروئے کار آتا ہے، انتہائی اہم ہے۔ شاعرہ شفا دینے والے کو ’’ابنِ مریم‘‘ کہتی ہے۔ یعنی ایک تلمیح جس میں عورت کی موجودگی بنیادی شناخت کے طور پر قائم رہتی ہے جبکہ مردانہ کردار اپنی نسبت سے معنی پاتا ہے۔ اس سے نظم میں ایک نفسیاتی زاویہ روشن ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ عورت اپنے نجات دہندہ کو بھی ایک نسائی حوالہ دے کر شناخت کرتی ہے۔ گویا مرد کی قدسی قوت بھی عورت کے توسط سے معتبر ہوتی ہے۔ یوں معنی کی اصل گرہ "مریم” کے وجود میں کھلتی ہے، نہ کہ "ابن” میں۔ شاعرہ غیرمحسوس طور پر یہ بتاتی ہے کہ عورت نہ صرف متن کا مرکز ہے بلکہ جملہ روحانی و وجودی اشاروں کی پہلی ماں بھی۔ اسی تناظر میں یہ تلمیح اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا شاعرہ شفا کو مردانہ عمل کے طور پر دیکھتی ہے یا وہ اسے عورت کی ماورائی، اصل ماں کی توانائی سے مستعار لیتی ہے؟ اس زاویے سے دیکھا جائے تو”ابنِ مریم” کا انتخاب مذہبی حوالہ ہی نہیں رہتا،عورت کی داخلی برتری کا ایک نفسیاتی اشارہ بھی بن جاتا ہے۔۔۔۔ وہی اشارہ جو "مَیں ترے بعد اتنا چلی” میں اپنی خاموش گہرائی کے ساتھ موجود ہے۔ 

     اس منزلِ فکر پر نسائی تناظر میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا عورت کی شفا کا سارا کریڈٹ مرد کو دینے سے عورت کمزور ہو جاتی ہے؟ نظم اس سوال کو حل نہیں کرتی؛ وہ اسے کھلا چھوڑ دیتی ہے بلکہ ابہام ہی کو اپنی معنوی اخلاقیات کا حصہ بناتی ہے۔ غور کیا جائے تو شفا کسی ایک سمت سے نہیں آتی۔ یہ ایک باہمی کیمیا ہے۔ مرد کی طرف سے آنے والی روشنی ایک امکان ہے مگر اسے خالص تجربے (دودھ) میں بدلنے والی قوت عورت کے اپنے باطن میں موجود ہے۔ یہاں شفا ایک مشترکہ عمل بھی بن جاتا ہے جو مرد کی روشنی کی طرف عورت کی اہلیتِ قبول کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وہ معنوی افق ہے جہاں نظم اپنا اصل مکالمہ قائم کرتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ نظم کا جوہر عورت کی معرفت، اس کی نسائیت، اس کے وجود کی گندمی رنگت اور تیرگی سے خالص پن تک کی یاترا میں متشکل ہوتا ہے اور یہی یاترا ایک ایسی معنوی حرکت میں ڈھل جاتی ہے جو نمود پاتی ہے مگر کسی ایک معنی پر ٹھہرتی ہے نہ مکمل ہوتی ہے ۔ یہی عدم ثبات نظم کا فکری حُسن ہے اور وہ داخلی سچائی بھی جو اسے معاصر نظم کے منظرنامے میں ظاہر پرستی سے ہٹ کر ایک الگ روحانی مقام عطا کرتی ہے۔

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x