ڈاکٹر عثمان انور کے اقدامات اور پنجاب پولیس/ یونس باٹھ

پنجاب بھر کے پولیس ملازمین آئی جی ڈاکٹر عثمان انور سے بہت خوش ہیں۔ پہلی بار انہیں یہ لگ رہا ہے کوئی سربراہ ایسا بھی آیا ہے، جس نے پولیس کے لاکھوں ملازمین کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی ہے۔سپاہی سے لے کر ایڈیشنل آئی جی تک سبھی آئی جی پنجاب کو پولیس کے لئے ایک ایسا خوشگوار ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ پولیس میں ایک بہار سی آ گئی ہے اور وہ ملازمین جو ترقی نہ ہونے، صلہ نہ ملنے اور اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی نہ ہونے کا دکھ سناتے تھے، اب اپنی ترقیوں کی خبریں دیتے ہیں۔ کانسٹیبل سے ہیڈکانسٹیبل، ہیڈکانسٹیبل سے اے ایس آئی، اے ایس آئی سے سب انسپکٹر،سب انسپکٹر سے انسپکٹر، انسپکٹر سے ڈی ایس پی اور ڈی ایس پی سے ایس پی کی اتنی زیادہ پروموشنز ہوئی ہیں کہ جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ان کی اڑھائی سالہ تعیناتی کے دوران شہدائے پولیس کے ورثاء اور دوران ملازمت وفات پا جانے والے ملازمین کے لواحقین کو کروڑوں روپے کے گھر دیئے جا چکے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ پولیس ویلفیئر کا شعبہ جو ہمیشہ نظر انداز ہوتا آیا ہے، موجودہ آئی جی کی سربراہی میں خاصا فعال ہو چکا ہے اور اب تک اربوں روپے پولیس ملازمین کی ویلفیئر پر خرچ کئے جا چکے ہیں۔ پولیس میں اعلیٰ کارکردگی پر کیش ایوارڈ دینے کا سلسلہ بہت پرانا ہے تاہم جس تیزی کے ساتھ ہر رینک کے ملازمین میں بہترین کارکردگی پر اس دور میں انعامات تقسیم کئے گئے ہیں، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔اب تک اربوں روپے اس مد میں تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ پنجاب کے ٹریفک وارڈنز جو برسوں سے اگلے گریڈ میں ترقی نہیں پا رہے تھے، ان کی بھی ڈاکٹر عثمان انور کے دور میں سنی گئی اور انہیں بھی ترقی دے دی گئی ہے جس سے ٹریفک وارڈنز کا یہ کیڈر جو نظر انداز ہوتا آیا تھا۔ اب ایک زندہ کیڈر ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے بہت سے کام جاری ہیں، جن کی وجہ سے اس محکمے کے ملازمین کی محرومیاں دور ہو رہی ہیں۔ڈاکٹر عثمان انور ماتحت اہلکاروں کی عزت نفس کا بہت خیال کرتے ہیں۔ مجھے ایک سب انسپکٹر نے جس کی انسپکٹر کے عہدے پر ترقی ہوئی تھی بتایا کہ اسے آئی جی نے نہ صرف اپنے ہاتھوں سے بیج لگائے بلکہ اس کے بچوں کو اٹھاکر پیار کیا اور انہیں احساس دلایا کہ ان کے والد ایک ہیرو ہیں جن پر قوم فخر کرتی ہے۔ اس طرح ڈاکٹر عثمان انور شہیدوں کے بچوں کو اپنے دفتر میں بلا کر پیار کرتے ہیں انہیں تحائف دیتے ہیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ شہداء کے بچوں کو ملازمت دینے کے سلسلے میں بھی تیز رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے اور اب اس میں تاخیر نہیں کی جاتی۔ڈاکٹر عثمان انور نے بہت اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ خاص طور پر ماتحتوں کے ساتھ ان کے رویے کی وجہ سے پولیس فورس میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے کیونکہ پولیس میں ایک پروموٹی اور دوسری سی ایس پی کلاس ہے۔ سی ایس پی کلاس کے افسران اعلیٰ منصب پر فائز ہو جاتے ہیں، میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ پولیس سروس گروپ کے افسروں کا محکمے میں علیحدہ جہان ہے اور ماتحتوں کا اپنا، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ہم نے ایسے مناظر بھی دیکھے ہیں کہ انسپکٹر بھرتی ہونے والے جب برسوں بعد ایس پی کے رینک تک پہنچتے ہیں تو اس اے ایس پی کے مقابلے میں ان کی اعلیٰ افسروں کی نظر میں منزلت کم ہوتی ہے، جو سی ایس ایس کرکے پہلی پوسٹنگ لے کر کسی سب ڈویڑن میں آتا ہے۔ یہ تو میری نظروں کے سامنے ہونے والے مناظر ہیں کہ سی ایس پی کلاس سے تعلق رکھنے والے افسر نے اپنے دفتر میں ماتحتوں کو جھاڑ پلا دی یا اس کی پیٹی اتروا دی۔ افسروں اور ماتحتوں میں اس فورس کے اندر فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ جس کی مثال کسی اور محکمے میں نہیں ملتی۔ کسی آئی جی نے اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی، لیکن آئی جی ڈاکٹر عثمان انور اس محاذ پرڈٹ گئے ہیں۔ وہ اپنے عملی کردار سے اپنے ساتھی سی ایس پی پولیس افسروں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ فورس کے ہر جوان اور افسر کو اس کے حصے کی عزت دینی ہوگی، انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ ایک ہی فورس کا حصہ ہیں اور جس کا کام عوام کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی ہے۔ میں کئی پولیس افسروں اور اہلکاروں سے ملا ہوں، وہ ڈاکٹرعثمان انور کو پولیس کے لئے ایک ایسا کمانڈر قرار دے رہے ہیں،جس نے اس محکمے میں نئی روح پھونک دی ہے۔ رینج اور ضلعوں تک موجود پولیس کے اعلیٰ افسر اسی رویے کا مظاہرہ کررہے ہیں اور نچلے درجے کے پولیس ملازمین کو اپنی عزت نفس کی بحالی کا احساس ہونے لگا ہے۔




