اُردو ادباُردو شاعرینظم

نظم / کسی نے مجھ سے بات مگر نہیں کی / توحید زیب

کسی نے مجھ سے بات مگر نہیں کی

 

افسوس کا گلدان ہاتھ میں تھا اور میں 

چمکتی دھوپ میں

سڑک کنارے ایک گرد اوڑھی بنچ پر بیٹھا

جینے کے لئے لفظ جوڑنے لگا

سانس کی نمی سے 

میری آواز آزاد ہوئی تو میں نے دیکھا

کسی آدمی ،

کسی مشین یا کسی درخت کو

میرا احساس تک نہیں ہوا

دفتر ختم ہو چکے تھے

اور گھروں میں آگ روشن ہو گئی تھی

دن ہوا ، دوپہر ہوئی 

رات ہو گئی

کسی نے مجھ سے بات نہیں کی

میں نے منفی ستارے کی طرح روشنی سے 

آخری سلام لیا 

اور سڑک پار کرتے ہوئے

ایک تیز رفتار مشین سے بغل گیر ہو گیا

کسی نے مجھ سے بات مگر نہیں کی ….

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button