نریندر مودی کی شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔
- وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
- صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری اور محمود خان اچکزئی مد مقابل
5 مارچ صبح 2 بجکر 13 منٹ
عمران خان کی رہائی کے لیے قرار داد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور جیل میں قید ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں کی رہائی کے لیے منگل کو قومی اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی گئی۔
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان اور دیگر کئی اراکین نے قرار داد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی اور اسے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا کہا۔
قرار داد میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے جو ان کے بقول ’غیر قانونی‘ ہیں۔
قرارداد کے متن کے مطابق ’انتقامی سیاست ملک کے مفاد میں ہے نہ ہی عوام کے مفاد میں۔‘
قرارداد میں تحریک انصاف کے جیل میں بند جن دیگر قیدیوں کا ذکر کیا گیا ان میں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، پرویز الہی اور صنم جاوید شامل ہیں۔
5 مارچ صبح 11 بجکر 15 منٹ
نریندر مودی کی شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے شہباز شریف کو منگل کو پاکستان کی وزارت عظمی کا منصب سنھبالنے پر مبارک باد دی ہے۔ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اتحادی جماعتوں کی حمایت سے ملک وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔
انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور جوہری طاقت کے حامل جنوبی ایشیا کے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جنگیں بھی ہو چکی ہیں تاہم گاہے گاہے پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی والے خطے جنوبی ایشیا کی ترقی کے لیے پڑوسی ممالک کے درمیان پرامن اور اچھے تعلقات ضروری ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر بھی ہے۔ کشمیر کا ایک حصہ پاکستان جبکہ دوسرا انڈیا کے زیرانتظام ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل وہاں کی آبادی کی خواہش اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے جبکہ انڈیا اسے اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے اور اس نے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے ذریعے اس کا از خود الحاق اپنے ساتھ کر لیا ہے۔
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اتوار کو ایوان میں اپنی پہلی تقریر میں شہباز شریف نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا تھا۔
5 مارچ صبح 7 بجکر 50 منٹ
مریم نواز کا وزیراعلیٰ منتخب ہونا پاکستانی سیاست میں سنگ میل ہے: امریکہ
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ مریم نواز کا بطور وزیر اعلیٰ انتخاب پاکستانی سیاست میں ایک سنگ میل ہے۔
یہ بیان انہوں نے پیر کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر میں بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خواتین کو ملک کی سیاسی زندگی، معیشت میں، بشمول یو ایس-پاکستان ویمنز کونسل، سول سوسائٹی، اور فیصلہ سازی کے دیگر شعبوں میں مزید مکمل طور پر ضم کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے منتظر ہیں۔‘
میتھیو ملر کے مطابق: ’ایک جامع پاکستان ایک مضبوط، خوشحال ملک بناتا ہے جس سے تمام پاکستانی مستفید ہوتے ہیں اور اسی لیے جب ہم دنیا میں کہیں بھی شیشے کی چھت میں دراڑیں دیکھتے ہیں تو ہم ہمیشہ خوش ہوتے ہیں۔‘
شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’میں نئے وزیر اعظم کے حوالے سے بات نہیں کرنے جا رہا ہوں، لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہمیشہ ایک مضبوط، خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکہ پاکستان کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کے ساتھ ہماری مصروفیت ان مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھے گی۔‘
5 مارچ صبح 6 بجکر 55 منٹ
نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کریں گے: شہباز شریف
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جایے گی تاکہ وہ ملک کے وسائل پر بوجھ نہ بنیں۔
یہ بیان انہوں نے پیر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے چند ہی گھنٹوں بعد ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے ایک طویل اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کے دوران دیا۔
اجلاس میں وزیر اعظم کو سیکریٹری خزانہ کی طرف سے ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے معاشی صورتحال کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کہ ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے اور یہی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھرپور طریقے سے کام کرے گی۔‘
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 65 ارب روپوں کے ٹیکس ریفنڈز کلیئر کر دیے ہیں۔
وزیر اعظم نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے حوالے سے آئی ایم ایف سے بات چیت کو فوری طور پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’ایسے ٹیکس پیئرز جو کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت میں ویلیو ایڈیشن کے لیے کام کر رہے ہیں وہ ہمارے سروں کا تاج ہیں ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایسے ٹیکس پیئرز کی حکومتی سطح پر پذیرائی کی جائے گی۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں شفافیت لانے کے لیے آٹومیشن نا گزیر ہے۔
انہوں نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کی آٹومیشن پر فی الفور کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائیگی تاکہ یہ ادارے ملکی معیشت پر مزید بوجھ نہ بنیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی بورڈز کے ممبران کی مراعات میں کمی کے لیے واضح حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
وزیر اعظم نے پاور اور گیس سیکٹرز کی سمارٹ میٹرنگ پر منتقلی کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی جس کی بدولت اسمارٹ میٹرنگ سے لائین لاسز کم کرنے مدد ملے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام بینکس اور مالیاتی ادارے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے حکمت عملی تیار کریں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد مل سکے۔
میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’حکومتی حجم کم کیا جائے گا اور ایسے ادارے جن کی ضرورت نہیں انہیں یا تو ضم کر دیا جائے یا پھر بند کر دیا جائے، اس حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ملک میں معاشی استحکام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قدم ہے جس کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگلا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حوالے سے منعقد کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے، کاروباری برادری، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر مصدق ملک، ارکان قومی اسمبلی عطا تارڑ، شزا فاطمہ، رومینہ خورشید، احد چیمہ، جہانزیب خان اور دیگر اہم عہدیداران نے شرکت کی۔
4 مارچ شام 5 بجکر 40 منٹ
سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں: الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پیر کو جاری فیصلے میں کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور مخصوص نشستوں کے کوٹے کا حقدار نہیں ہے۔
اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل کی درخواست میں قانونی سقم ہیں جن کا کوئی حل موجود نہیں اور قانون کے مطابق جماعت نے مخصوص نشستوں کے لیے ضروری فہرستیں بھی مقرر کردہ وقت میں فراہم نہیں کی تھیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشستیں خالی نہیں رہیں گی بلکہ سیاسی جماعتوں کو ان کی جیتی گئی سیٹوں کے تناسب سے دی جائیں گے۔ الیکشن کمیشن دفتر کو اس حوالے سے کوٹے کے تعین کا حکم دیا گیا ہے۔
مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیس کی کارروائی چیئرمین سکندر سلطان راجہ اور چار دیگر اراکین (نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس (ر) اکرام اللہ خان) نے سنی۔ تاہم بابر حسن بھروانہ نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے سینیٹ میں بات کرتے ہوئے مخصوص نشستوں کو مسترد کیے جانے کے بعد صدر اور سینیٹ کے الیکشن نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور اسے چیلنج بھی کریں گے۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




