خون سے رنگی عید/ محمد نعیم قریشی

عید یقینی طورپرخوشی کا دن ہے لیکن خوشی کا یہ موقع غزہ کی پٹی کے لوگوں کے لیے خون کی ایک سرخ لکیر بن چکاہے،اس سرخ لکیر کی دوسری طرف مسلم ممالک کے حکمران جو مغرب کے چنگل میں پھنس کر مغرب کے غلام بن چکے ہیں۔ اپنے بیانات اور افسوس و مذمت سے آگے بڑھنیکا نام تک نہیں لے رہے۔رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہے جب امت مسلمہ کے لوگ یوم القدس مناتے ہیں،2025 کا یوم القدس کوء معمولی دن نہیں ہے یہ ظلم کے خلاف ایک اہم دن ہے یہ دن ان عام انسانوں کے لیے ہے جو ملکر فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے خواہش مند ہیں یہ دن امت مسلمہ کو متحد کرنے کا دن ہے اس روز قبلہ اول کی آزادی کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں اسرائیلی بربریت کا شکار فلسطینیوں کی حمایت میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں اس دن کودبے پاں یا خاموشی سے نہیں نکلنا چاہیییوم القدس کو منانے کا مقصد ان صیہونی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے جو فلسطینیوں کی تباہی اور اس کے خاتمے کی خواہش رکھتے ہیں، یوم القدس اس لیے بھی جوش وجزبے سے منانے کی ضرورت ہے کہ ان دنوں او آئی سی، سمیت عالمی برادری کی نہ صرف جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہوچکی ہے بلکہ ظلم کا دائرہ مزید بڑھتاجارہاہے،ان مظلوم فلسطینیوں کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں بھی کسی کام نہ آسکی ہیں، اسرائیلی جارحیت کو برطانیہ، یورپ اور امریکی حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل ہے یہ الگ بات ہے کہ ان ممالک میں سے بھی فلسطینیوں کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اسرائیل کسی عالمی قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے معصوم فلسطینی بچوں اور عورتوں کا کھلے عام خون بہا کر فلسطینیوں کی نسلی کشی میں مصروف ہے۔اس وقت جتنے فلسطینی شہید کردیے گئے ہیں ان میں 75فیصد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ غزہ میں موجود ہر فردتکلیف و درد کی انتہا سے گزر رہا ہے۔ صرف بیان بازی سے کام چلایا جارہاہے مگر حقیقت میِں عالم اسلام کے دروازے بند نظرآتے ہیں یہ تڑپتے ہوئے لاشے پناہ لیں تو کہاں لیں؟ فلسطین کے مقامات کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ تاریخ میِں لکھا جاچکاہے کہ اسرائیل نے جس قدر بربریت پھیلا رکھی ہے اس ظلم و زیادتی کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے،تاریخی اعتبار سے دنیا کی مجموعی آبادی 9ارب کے قریب ہیجبکہ مسلم امہ کی تعداد دنیا بھر میں 2ارب سے زائد بتائی جاتی ہے دنیا بھر میں 26اسلامی ممالک ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں مسلم ممالک ہونے کے باوجود غزہ کے فلسطینی مسلمان چند لاکھ اسرائیلیوں کے ہاتھوں مظالم برداشت کررہے ہیں اور ان مظلوم فلسطینیوں کی نگاہیں دوارب تتر بتر مسلمانوں کی جانب لگی ہوئی ہیں، جبکہ ظالم صیہونیوں کو متحد و منظم عالم کفر کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ اسرائیل کی مسلسل ہٹ دھرمی اورجنگ بندی کے باوجود امریکی آشیرباد سے جاری وحشیانہ جنگ نے محصور فلسطینی پٹی میں جو کچھ باقی ہے وہ بھی تباہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے پچاس ہزار سے زیادہ افراد کی بربریت کے نتیجے میں شہادت کے بعد بھی اموات کانہ رکنے والا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ جہاں پوری دنیا میں موجود کروڑوں مسلمان عید کی خوشیاں مناتے ہوئے
لطف و سرور کے لمحات گذار رہے ہوں گے وہیں فلسطین و غزہ بھوک اور زخموں سے چور ہوکر تڑپ رہاہوگا ۔ سنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ادارے کے قیام کا مقصد ظلم اور جارحیت کو روکنا ہے مگر ہم نے تو اس نام نہادادارے کو کوئی کردار نبھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کسی مظلوم فلسطینی کو پانی کی ایک بوند پلاتے بھی نہیں دیکھا یہ عالمی ادارہ ہمیشہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق خوداداریت اورفلسطینیوں کے اپنی سرزمین پر آزاد حکومت قائم کرنے کے معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے قاصر سے رہا دشمن اسلام نے کبھی اقوام متحدہ کی مذمت کی پرواہ کی نہ کسی خاطر میں لایا۔عراق، لیبیا، مصر، یمن، سوڈان، صومالیہ، افغانستان، بوسنیا، چیچنیا میں ظلم ہوتارہااوریہ ادارہ خاموش تماشائی بنارہا۔بظاہر ہمدرد مگر درحقیقت یو این او دنیا کے مسلمانوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مغرب کا آلہ کار بنارہا۔ جب اس ادارے کاقیام عمل میں آیا تو اسرائیل کا وجود تک نہ تھا؟ بلکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ اقوام متحدہ سے پہلے کوئی اسرائیل نہیں تھا۔ یو این او نے ہی اس دہشت گرد ریاست کو جلا بخشی اور آج یہ ہی بگڑی نسل یو این او کو گھاس بھی نہیں ڈالتا۔




