سی پیک پاک چین دوستی لازوال / زبیر بسرا

سی پیک پر تمام سیاسی پارٹیوں کا اتفاق نہ صرف خوش آئند بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے، سی پیک ہماری معاشی ترقی اور روشن مستقبل کا ضامن ہے یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں کبھی اپنی مرضی کی حکومت مسلط کر کے اور کبھی دہشت گردی کے ذریعے چینی انجینئر پر حملے اسی وجہ سے کرائے جا رہے ہیں لیکن بزدل دشمن ہرگز نہیں جانتے کہ چین ایک بلند و بالا مضبوط چٹان ہے اور اب پوری طرح سنبھل چکا ہے بہت عرصہ پہلے اقبال نے کہا تھا
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
1949 میں آزاد ہونے والے اس ملک نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ ترقی یافتہ کہلانے والے ملک اس سے خوف کھا رہے ہیں۔ ان ممالک نے کافی عرصہ تک چین کو تسلیم ہی نہیں کیا۔مغربی ممالک کے حواری مسلمان ملکوں نے بھی بہت دیر بعد تسلیم کیا اب چین کہہ سکتا ہے کہ
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
منوانے کے لئے چین نے 1962 میں بھارت کو نیفامیں اسے عبرت ناک شکست دی۔ اسی شکست نے مغرب کی آنکھ کھولی وہ جان گئے کہ اب یہ افیمی قوم نہیں ہے بلکہ ابھرتی ہوئی پانچویں بڑی طاقت ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے چین سے تعلقات قائم کئیے کہ طاقت سے تو چین کو دبانا ممکن نہیں ڈپلومیسی کے ذریعے اس کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے ان تعلقات کا زینہ پاکستان تھا صدر ایوب خاں نے امریکہ کے وزیر خارجہ ہنگری کسنجرکو چین کا دورہ کرایا اس کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک نے چین سے سفارتی تعلقات قائم کر لئیے جن میں سعودی عرب بھی شامل تھا اس سے پہلے چین کے مسلمان پاکستان کے ذریعے حج کے لیئے سعودی عرب جاتے تھے۔ چینی قوم جفا کش اور مخنتی ہے آج سے ہزاروں سال پہلے انہوں نے سکندر اعظم کو روکنے کے ایک طویل اور مضبوط دیوار بنائی جو آج بھی قائم ہے دیوار چین کے نام سے موسوم یہ دیوار دنیا کے سات عجوبوں میں شامل ہے۔
چین پاکستان کا آزمودہ دوست ہے ہر مسئلہ پر پاکستان کی صنعتی اور دفاعی جدت میں پاکستان کا معاون ہے اگر یہ کہا جائے کہ چِین ہے تو چَین ہے بے جانہ نہ ہوگا۔
قبل ازیں سوویت یونین کی شکست و ریخت پر روس سے آزادی حاصل کرنے والے مسلمان ممالک نے پاکستان ایران اور ترکی کے اتحاد سے سی پیک کی طرز کا ایک منصوبہ بنایا یہ تجویز جنرل حمید گل مرحوم کی تھی۔ مغربی طاقتیں حمید گل سے خائف تھیں انہیں ریٹائر کرا دیا گیا۔ مغرب خائف تھا کہ سوویت اتحاد ٹوٹنے کے بعد یہ اسلامی اتحاد زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
ہمارے چند نام نہاد صحافی اور دانشور فوج پر تنقید کرتے ہیں شاید یہ معاشی آقاؤں کی وجہ سے ہے لیکن جانتے ہیں کہ شاہراہ قراقرم فوج نے ہی بنائی تھی ان دنوں ٹیکنالوجی اتنی جدید نہ تھی سنگلاح چٹانوں اور دشوار گزار پہاڑوں میں سڑک بنانا بہت مشکل کام تھا۔ فوج کے کئی جوان اس کوشش میں شہید ہوئے یہ شاہراہ بنتے ہی چین سے تجارت شروع ہوگئی جو آج عروج پر ہے۔ مغرب کی دوستی مطلب کی دوستی ہے جبکہ چین کی دوستی خلوص محبت اور نیت کی دوستی ہے۔ سی پیک کے منصوبہ ساز اب پھر اقتدار میں ہیں اگر درمیان میں ناکام خاں کی حکومت نہ آتی تو یہ منصوبہ مکمل ہوچکا ہوتا ہو سکتا ہے ناکام خاں کو لایا ہی اس غرض کے لئے گیا ہو واللہ علم بالصواب تاہم اب سی پیک تیزی سے مکمل ہوتا نظر آرہا ہے یقیناً یہ خطے کے دیگر ممالک کی ترقی میں بھی مفید ثابت ہوگا۔ چین جو پہلے ہی ترقی یافتہ ہے مزید مضبوط ہوگا لیکن پاکستان کے لیئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔




