خبریں

فیس بک، انسٹاگرام پاکستان سمیت دنیا بھر میں بحال ہونا شروع


پاکستان سمیت دنیا بھر میں منگل کی رات کو اچانک بندش کے بعد فیس بک اور انسٹاگرام بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

چند گھنٹے بند رہنے کے بعد فیس بک اور انسٹاگرام بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں تاہم اب بھی متعدد صارفین کو ان ایپس پر لاگ ان کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے میٹا کے ترجمان اینڈی سٹون نے ایکس پر کچھ دیر قبل ایک بیان میں صرف اتنا کپا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کو ہماری خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔‘

تاہم میٹا کی جانب سے تاحال مکمل بحالی یا مسئلے کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

منگل کو اچانک سے فیس بک لاگ ان کرنے کی کوشش پر دوبارہ لاگ ان سکرین سامنے نظر آنے لگی تھی لیکن اسے کلک کرنے پر یہی سکرین دوبارہ آ جاتی تھی۔

جو لوگ فیس بک پر تھے، ان کا سیشن ایکسپائر ہونے کا میسج آ گیا۔

اس سے کئی بہت سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لوگ وٹس ایپ گروپوں میں میسج کر کے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔

طاہر اسلام عسکری نامی ایک صارف نے ایک وٹس ایپ گروپ پر اطلاع دی: ’دوستو میرا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ اپنی فیس بک وال سے اطلاع نشر کر دیجیے۔‘

تاہم دوسرے لوگوں نے انہیں تسلی دی کہ ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ درپیش ہے۔

ڈاون ڈیٹیکٹر نامی ویب سائٹ کے مطابق یہ مسئلہ پوری دنیا کو درپیش ہے۔ فیس بک کے علاوہ انسٹاگرام اور میسنجر صارفین نے بھی اپنے اکاؤنٹس سے اچانک لاگ آؤٹ ہونے کی اطلاع  ایکس پر دی ہے۔

سمرن وٹمین ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہتی ہیں کہ ’کیا کسی اور کو فیس بک لاگ ان کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے یا صرف میرے ساتھ ہی ایسا ہو رہا ہے؟‘

محمد عمران خان نامی ایک اور صارف نے ایک وٹس ایپ گروپ میں فیس بک بند ہونے کی خبر پر یوں تبصرہ کیا: ’زکربرگ شادی کی تقریبات میں مصروف ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میٹا اپنے صارفین کی مصنوعات کے لیے سٹیٹس ظاہر نہیں کرتا، نہ ہی اس نے اب تک ٹوئٹر / ایکس پر اس بندش کے بارے میں کوئی معلومات دی ہیں۔

ٹریکنگ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر نے منگل کے روز انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر میں بڑے پیمانے پر بندش ظاہر کی ہے۔ یہ بندش پوری دنیا میں دیکھی گئی۔

وٹس ایپ بھی میٹا کمپنی کی ملکیت ہے مگر وہ فی الحال نارمل طریقے سے چل رہا ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button