خبریں

علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب


پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔

  • قومی اسمبلی کا اجلاس: سپیکر، ڈپٹی سپیکر کا انتخاب آج
  • ایاز صادق مسلم لیگ ن کی جانب سے قومی اسمبلی کے سپیکر نامزد
  • عامر ڈوگر سنی اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار
  • کے پی اسمبلی:علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب
  • وزیراعظم کا انتخاب اتوار کو ہو گا

یکم مارچ دن 12 بجکر 20 منٹ

علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب

پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار علی امین گنڈاپور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔

خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کے لیے علی امین گنڈاپور نے مسلم لیگ ن کے امیدوار عباداللہ خان کے مقابلے میں 90 ووٹ حاصل کیے۔


یکم مارچ دن 12 بجکر 10 منٹ

ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق بلدیاتی نظام اور کراچی کے مسائل کا حل اس معاہدے کا حصہ ہے۔ تین نکات پر مشتمل چارٹر کے مطابق آئینی ترامیم ترجیح ہو گی۔ ایم کیو ایم اپوزیشن کے بجائے حکومتی بنچز پر بیٹھے گی اور وزیراعظم اور سپیکر کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کی حمایت کی جائے گی۔

معاہدے پر مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے دستخط کیے ہیں جبکہ رانا ثنا اللہ اور خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ ن جبکہ خواجہ اظہار الحسن اور فاروق ستار ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے بطور گواہان شامل کیے گئے ہیں۔


یکم مارچ صبح 11 بجکر 30 منٹ

مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے: رانا ثنا اللہ

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق جمعے کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن کے الزامات ہوں یا کسی اور کا ہو اس کی انکوائری ہونا چاہے۔

’تحقیق سے قبل تو الزام الزام ہی ہے۔ کوئی کہتا ہے خیبرپختونخوا میں مینڈیٹ چرایا گیا ہے تو وہاں چرانے والا کوئی اور ہے۔ پنجاب میں اگر مینڈیٹ چرایا گیا ہے تو وہاں کوئی اور ہے؟ پنجاب میں ہم پر الزام ہے سندھ اور بلوچستان میں کسی اور پر الزام ہے۔‘

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن سے کل سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے لیے حمایت کی درخواست کی ہے۔‘

ان کے مطابق ’دیکھیں آج مولانا صاحب آتے ہیں یا نہیں آتے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات حقیقی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے موقف سے ہم 100 فیصد متفق ہیں۔ ہم مولانا صاحب کو کھونا نہیں چاہتے انہوں نے ہماری پہلے بھی رہنمائی کی امید ہے اب بھی کریں گے۔‘


یکم مارچ صبح 11 بجکر 20 منٹ

قومی اسمبلی کا اجلاس: سپیکر کے انتخاب کے لیے پولنگ جاری

پاکستان کی قومی اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف کے اعلان کے مطابق پولنگ کا عمل اردو کے حروف تہجی کے لحاظ سے جاری ہے۔

پولنگ شروع ہونے سے قبل سنی اتحاد کونسل سے اس انتخاب کے خلاف احتجاج بھی کیا۔


یکم مارچ صبح 10 بجکر 40 منٹ

قومی اسمبلی کا اجلاس شروع: سنی اتحاد کونسل کے اراکین کا احتجاج

 قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی جانب سے مخصوص نشستیں نہ ملنے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت اس اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار سردار ایاز صادق اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عامر ڈوگر مدمقابل ہیں۔

سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ جب تک ہماری مخصوص نشستیں نہیں دی جاتیں تب تک ایوان مکمل نہیں ہو گا، یہ آئینی معاملہ ہے۔ جب تک ایوام مکمل نہیں ہوتا تب تک سپیکر کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا۔


یکم مارچ صبح 10 بجکر 20 منٹ

ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑنا جمہوریت کا حسن ہے: ایاز صادق

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے رکن اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار برائے سپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ میں نے پہلے بھی ایوان احترام کے ساتھ چلایا ہے اور اب بھی ایسے ہی چلاؤں گا۔ پارلیمان چلانا سب کی ذمہ داری ہے۔

نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق جمعے کو پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ’سب میرے دوست اور بھائی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑنا جمہوریت کا حسن ہے۔ کسی سے دشمنی تو ہے نہیں، اسمبلی کا ڈیکورم برقرار رکھنا ہر رکن کا فرض ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پارلیمان حکومت اور اپوزیشن سب کا ہے۔ شور شرابے میں تقریر اور بات نہیں ہو سکے گی۔ ایوان چلانا کبھی بھی آسان نہیں رہا، اسے چلانا ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ سپیکر کو ضبط اورصبر کے ساتھ کرسی پر بیٹھنا ہوتا ہے۔‘


یکم مارچ صبح سات بجکر 40 منٹ

قومی اسمبلی میں سپیکر کا انتخاب آج: ایاز صادق اور عامر ڈوگر مدمقابل

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب آج کیا جائے گا۔

 سپیکر کے عہدے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر کے لیے سید غلام مصطفیٰ شاہ کو نامزد کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اور سنی اتحاد کونسل کے رکن اسمبلی ملک عامر ڈوگر سپیکر جبکہ جنید اکبر ڈپٹی سپیکر کے امیدوار ہوں گے۔

گذشتہ روز قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بتایا تھا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی منظور  کر لیے گئے۔

سیکرٹریٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر کے لیے سردار ایاز صادق اور ملک محمد عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔ 

سپیکر قومی اسمبلی کے ن لیگ کے نامزد امیدوار سردار ایاز صادق کے تجویز کنندگان میں چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، سید نوید قمر اور اویس احمد لغاری شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ملک عامر ڈوگر کے تجویز کنندگان میں صاحبزادہ صبغت اللہ، علی محمد اور ڈاکٹر امجد علی خان شامل ہیں۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب آج یعنی یکم مارچ، 2024 کو ہو گا۔

قومی اسمبلی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں 302 ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور رول آف ممبر پر دستخط کیے تھے۔


یکم مارچ صبح نو بجکر 00 منٹ

خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کا انتخاب آج ہو گا

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کا انتخاب آج ہو گا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ رکن صوبائی اسمبلی علی امین گنڈاپور کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے عباد اللہ خان سے ہو گا۔

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس یکم مارچ کو 10 بجے بلایا گیا ہے۔

گذشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ بابر سلیم سواتی خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر جبکہ ثریا بی بی ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے۔

بابر سلیم سواتی نے سپیکر کے انتخاب میں 89 ووٹ جبکہ ان کے حریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے احسان اللہ میاں خیل نے 17 ووٹ لیے۔

چترال سے منتخب ہونے والی ثریا بی بی نے ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے 87 ووٹ اور ان کے حریف ارباب وسیم حیات نے 19 ووٹ لیے۔

ثریا بی بی کے پی اسمبلی کی دوسری ڈپٹی سپیکر ہیں۔ ان سے قبل پی ٹی آئی کی ڈاکٹر مہر تاج نے 2015 میں پہلی بار یہ عہدہ سنبھالا تھا۔


یکم مارچ صبح چھ بجکر 40 منٹ

وزیراعظم کا انتخاب اتوار کو

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے جمعرات کو وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا۔

شیڈول میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی دو مارچ کو دن دو بجے تک وصول کیے جائیں گے، جس کے بعد اسی دن تین بجے تک کاغذات کی جانچ پڑتال ہو گی۔

کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے شعبہ قانون سازی سے لیے جا سکتے ہیں۔

کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران تجویز اور تائید کنندگان کا موجود ہونا لازمی ہو گا۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button