افسانہ

کہانی بکھر گئی/ رانی احمد

وہ از حد رنجیدہ رہنے لگی تھی۔صحت تھی کہ روز بہ روز گرتی جا رہی تھی۔ اگرچہ نئی نویلی دلہن تو نہ رہی تھی مگر ایسی پرانی بھی نہیں ہوگئی تھی کہ شوہر کی توجہ سے بالکل ہی محروم ہو جاتی۔

شادی کو آٹھ ماہ ہوئے تھے اور بار بار یہی باتیں سننے کو ملتی تھیں. "بس بھی کرو، یہ کیا ہر وقت ہاتھ مہندی سے رنگے رہتے ہیں؟
خوش بو انڈیلتی رہتی ہو۔
زیور، گہنوں سے تمہارا دل نہیں بھرتا؟
اگر ایک دن چوڑیاں،کنگن اور پائل نہیں پہنو گی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
پتا نہیں لڑکیوں کو سجنے سنورنے کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے؟”
وہ چپ کی چپ رہ جاتی۔
کہنے والا کوئی اور نہیں اس کا اپنا شوہر مراد احمد تھا۔
جس پہ وہ شادی کی اولیں رات ہی دل ہار کر اپنا آپ بھول گئی تھی۔
وہ کہانیاں بُنا کرتی تھی۔
اس نے سن رکھا تھا محبت آٹھواں سُر ہے اور اسی سر کی تال میل سے خوشی کے ایسے گیت کشید ہوتے ہیں جن کا سحر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
وہ سروں کی الف ب تک نہ جانتی تھی مگر اب اس کے من میں آٹھوں سر بجتے تھے۔

ساری فضا میں رسیلی سی موسیقی گھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

اس کا جی چاہتا وہ خود کو اُس کے وجود میں سمیٹ کر کہیں رکھ دے۔

اس کی پوری کائنات سمٹ کر مراد احمد میں سما گئی۔
کجا کہ وہ اس کے آگے پیچھے پھرتا وہی اس کے دل میں اترنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی رہتی۔

دل ہر پل اس کے تصور سے آباد رہتا۔
میکے جاتی تو دل نہ لگتا۔
ایک دو دن رہنا دوبھر ہو جاتا۔سب اس کا مذاق اڑاتے۔ مراد کا نام لے لے کر چھیڑتے۔
اسے فون کرتی وہ لینے نہ آتا تو خود ہی چلی آتی۔
اسے مستقل بے چینی رہتی۔
جیسے ہی اسے دیکھتی تو محسوس ہوتا تن من پہ پھوار برسنے لگی ہے اور وہ اندر تک سیراب ہو گئی ہے۔
نجانے اس کی شخصیت میں کیسا سحر تھا وہ اسیر ہوگئی تھی۔

شاید اس نے پہلی بار کسی کو چاہا تھا۔
پہلی بار محبت کے ذائقے سے آشنا ہوئی تھی ۔
صد شکر جس سے محبت ہوئی وہ اس کا شوہر تھا ۔
اس کی دسترس میں تھا۔
” کیا واقعی وہ اس کی دسترس میں تھا؟”
یہ سوال اب بار بار اس کے دماغ پہ دستک دیتا۔
اسے مراد کی باتیں تکلیف دینے لگتیں۔
کبھی کبھی دل بے طرح اداس ہوتا۔
"آخر وہ کس کے لیے سجے سنورے؟
اپنا سنگھار کس کو دکھائے؟
اس کی دنیا تو وہی تھا۔
شادی سے پہلے وہ جب بھی میک اپ کرتی یا مہندی لگاتی تو دادی فورا ٹوک دیتیں۔
"عالیہ! ہار سنگھار اپنے شوہر کے لیے کرنا۔
کنواری لڑکیوں کو بناؤ سنگھار میں احتیاط برتنی چاہیے۔ سو اونچ نیچ ہو جاتی ہے۔”
اب شوہر کے لیے کرتی تو وہ جھنجھلا جاتا۔
آخر میں کس کے لیے سجوں ،سنوروں؟
یہ سوال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔
آہستہ آہستہ اس کی خوب صورتی ماند پڑنے لگی۔
بھرپور سراپا دل کشی کھونے لگا ۔
"ایسا کیوں ہے؟
کیا میں مراد کو اچھی نہیں لگتی
یا انہیں مجھ سے مجھ جیسی محبت نہیں ہو سکی؟
وہ سراپا سوال بنی مراد کے سامنے کھڑی تھی ۔
"یہ کیا بچپنا ہے؟
"یہ بچپنا نہیں ہے۔
میں آپ سے محبت کرتی ہوں اور آپ؟
وہ نروٹھے پن سے بولی۔
مجھے آپ ہر وقت چاہیے ہو مگر آپ نہیں ہو۔
میں ہوں مگر آپ کو میں نہیں چاہیے ہوں۔
کیوں؟”
مراد نے اس کی ساری باتوں کو دانستہ نظر انداز کیا اور جھنجھلا کر طنزیہ انداز میں بولا۔
"محبت کا اچار ڈالو گی کیا ؟

زندگی کو زندگی کی طرح جیو۔
یہ قصے کہانیوں کی باتیں ہیں۔
عالیہ کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا تھا۔
ہاں! میں نے سنا تھا تم کہانیاں لکھتی تھیں۔
اب کہانیوں کی دنیا سے باہر نکل آؤ۔
حقیقت کہانیوں سے بہت مختلف ہوتی ہے۔
اور اب اس سے بہتر کون جان سکتا تھا کہ واقعی حقیقت کہانیوں سے مختلف ہوتی ہے۔
لیکن اس کی حقیقت مختلف کیوں تھی؟
اس کی ساری کہانی تو صرف وہی تھا۔
اس کی زندگی کے سارے احساسات تو صرف اس سے جڑے تھے پھر وہ ایسا کیوں کہ رہا تھا ؟
وہ پر سوچ انداز میں بے باکی سے مراد کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
جانے کیا کھوجتی تھی۔
” یہ کیا بے باک عورتوں کی طرح گھور رہی ہو؟”
اس کے لہجے میں غصہ چھلکا۔
"بے باک عورتیں کہاں دیکھیں آپ نے؟”
"عالیہ! اس بدتمیزی کا مطلب؟
میں تمہارے نخرے نہیں اٹھا سکتا۔”

"تو کس سے اپنے نخرے اٹھواؤں؟”

وہ غضب ناک ہوا۔
اور وہ سہم گئی۔
کہانیاں بننے والی نے بارہا اپنی کہانیوں کے ہیرو کو غضب ناک ہوتے دکھایا تھا مگر دیکھا آج تھا۔
اس کی آنکھیں چھلکنے لگیں۔
بہت سے سوال جواب اس کے اندر دم توڑ گئے وہ خاموش ہو کر منظر سے نکل گئی۔

وہ خفا ہوگئی تھی۔
اتنے عرصے میں یہ پہلی خفگی تھی
ورنہ مواقع تو بہت آئے تھے مگر وہ روٹھ کر خود ہی بے چین ہوتی اور مان جاتی۔

مراد کو معلوم بھی نہ ہو پاتا۔
یہ احساس کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے کہ کسی سے ناراض ہوا جائے اور اسے خبر ہی نہ ہو۔
وہ اسی احساس میں گھری تھی۔

پہلے وہ خفا ہوئی پھر چند دن بعد خود ہی مان گئی لیکن اس بار اس کے اندر بہت کچھ بدل گیا تھا۔
جب مراد آفس سے آتا تو وہ پہلے کی طرح اس پہ فریفتہ نہ ہوتی۔
وہ زیادہ وقت فون پہ مصروف رہتی یا کچھ لکھتی، پڑھتی دکھائی دیتی۔
اس کے چہرے کی تازگی بحال ہونے لگی تھی۔
وہ خوش تھی۔
اس میں ایک خاص طرح کا اعتماد آ گیا تھا۔
مراد نے یہ تبدیلی محسوس کی۔
اس کے لیے یہ اچنبھے کی بات تھی اور شاید کچھ کّھل بھی رہا تھا کہ اس کی توجہ مراد سے ہٹ رہی ہے۔

"یہ کون سی نئی کہانی لکھ رہی ہو؟
مراد نے اسے مصروف دیکھ کر ایک دن طنز کیا مگر عالیہ محض مسکرا کے رہ گئی۔

اس کی کہانی میں ایک نئی محبت نے جنم لے لیا تھا۔
جسے وہ ہر حال میں مراد احمد سے چھپا کر رکھنا چاہتی تھی۔
اسے نہیں معلوم تھا اس کی کہانی کا ہولناک انجام ہونے والا ہے۔

آفس میں کام کم تھا ۔
خلاف معمول مراد جلدی گھر آ گیا تھا۔
عالیہ سرخ و سبز لباس میں سجی سنوری بیٹھی تھی۔اس کے ہاتھ میں فون تھا اور چہرہ چمک رہا تھا۔
مراد نے اس کے سراپے پہ ایک بھرپور نظر ڈالی تو حیران ہوا۔
اس نے کافی عرصے سے اسے اس روپ میں نہیں دیکھا تھا۔
شاید کئی مہینوں بعد وہ یوں سجی سنوری تھی مگر کس کے لیے؟
وہ تو اس وقت گھر پہ موجود نہیں ہوتا تھا۔
وہ اٹھ کھڑی ہوئی تو اچانک اس کا فون بے دھیانی میں ہاتھ سے گر پڑا۔
مراد فون کی طرف لپکا ۔
عالیہ نے جھٹ سے فون اٹھایا اور کال کاٹ دی۔
مراد کا چہرہ سرخ ہوگیا۔

"کس سے بات کر رہی تھی؟
ابھی ابھی میں نے سنا تھا تم اپنی تصویر بھیجنے کی بات کر رہی تھیں۔
کون ہے وہ؟”
وہ غصہ ضبط کرنے کی کوشش میں غرایا۔

"بولو! فون پہ کون تھا؟”
"کوئی نہیں.”
ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے چمکتے گالوں پہ نشان چھوڑ گیا۔
عالیہ ہچکیوں سے روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی۔
مراد نے اس کے ہاتھ سے فون چھین کر نمبر ملایا.
دوسری طرف کال جانے لگی مگر فون نہ اٹھایا گیا۔
"وہ جو کوئی بھی ہے اسے پیغام بھیجو کہ فون اٹھائے۔
میں سوچ نہیں سکتا تھا مجھ سے شدید محبت کی دعوےدار چند ماہ میں ہی مجھے دھوکہ دے گی۔
میرے ساتھ رہتے ہوئے بدکراد نکلے گی۔

میں اب تمہیں ایک منٹ نہیں رکھوں گا۔
اسے پیغام بھیجو کہ فورا فون اٹھائے.”
مراد اسے جھنجھوڑتے ہوئے دھاڑا۔

عالیہ کانپ رہی تھی مگر اچانک اس کی آنکھوں میں عجیب سی روشنی چمکی۔

"میں بھی یہ منافقت بھری زندگی جیتے جیتے تھک گئی ہوں۔مجھے بھی آپ کے ساتھ نہیں رہنا اور خبردار! جو مجھے بد کردار کہا.”

وہ چلائی تو کمرے کی فضا دہل گئی۔
مراد کے غصے میں مزید شدت آ گئی۔
” ٹھیک ہے بلاؤ اسے۔”
میں تمہیں ابھی اسی وقت طلاق ۔۔۔۔۔
اگلے لمحے کمرے میں پیغام کی ٹون بجی۔
مراد چونک گیا یہ آواز دوسرے کمرے سے آ رہی تھی۔
اوہ! تو وہ یہیں موجود ہے۔
وہ اسے چھوڑتے سرعت سے دوسرے کمرے کی طرف لپکا۔
کمرہ کسی بھی انسانی وجود سے خالی تھا.
اندر ایک صوفے پہ فون دھرا تھا ۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا تو اسکرین پہ مراد کی تصویر چمک رہی تھی.
"مراد میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی.” یہ پیغام دس منٹ پہلے بھیجا گیا تھا اور ساتھ ہی عالیہ کی سبز اور سرخ لباس میں ملبوس بولتی تصویر موجود تھی۔
"اوہ! خدایا!”
مراد کا دماغ گھوم گیا۔
"یہ سب کس کے لیے تھا؟”
کمرے سے عالیہ کی گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔
اس نے پلٹنا چاہا مگر اس کے قدم منجمد ہو گئے تھے۔
عالیہ کی محبت کی کہانی بکھر گئی تھی۔

رانی احمد ۔۔۔ملتان

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button