کالم

سرود رفتہ باز آید / تحریر : راحت فاطمہ ظفر

بھارت امریکہ ہے نا پاکستان افغانستان ہے، ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف۔

"بھارت، امریکہ ہے؛ نہ پاکستان، افغانستان ہے۔”
ترجمانِ پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا یہ بیان بظاہر سادہ نظر آتا ہے، لیکن اس میں خطے میں ہونے والی ممکنہ تزویراتی تبدیلیوں کی جھلک نمایاں ہے۔ مبینہ طور پر چین، پاکستان اور بنگلہ دیش مل کر ایک مشترکہ فضائی مستقر بنگلہ دیش میں قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بیان ابھی مصدقہ نہیں، لیکن اسے خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئی ایس پی آر کے مذکورہ بیان نے اِن تبدیلیوں کے امکان کو مزید تقویت دی ہے، جن کا ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں مختصر حوالہ دیا تھا۔

یہ دونوں بیانات، بظاہر مختلف ہونے کے باوجود، ایک ہی فکری زنجیر کی کڑیاں محسوس ہوتے ہیں اور آنے والے دور کی ایک واضح تصویر ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔

شاید امریکی حکام کو اندازہ ہو چکا تھا کہ چین تبت سے ملحقہ علاقوں پر اپنا دعویٰ مضبوط کرنے جا رہا ہے۔ اسی بنا پر، انہوں نے جلد بازی میں بھارت کی مشرقی ریاستوں جیسے ناگالینڈ اور آسام میں سپورٹ فلائٹس اتاریں اور وہاں اپنی موجودگی ظاہر کی۔ لیکن چین نے پیچھے ہٹنے کے بجائے، اپنی حالیہ تزویراتی برتری کو مضبوط بناتے ہوئے اروناچل پردیش، کارگل، لداخ اور جموں سے ملحقہ علاقوں کے نئے نقشے جاری کر دیے اور ان پر اپنا دعویٰ کر دیا۔

اس صورتحال میں بھارتی چکن نک (Siliguri Corridor) اور وہاں سے متصل بنگلہ دیش، جو اب اپنے اصل دشمن کو پہچان چکا ہے، خاص اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان حالات میں چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کا مجوزہ فضائی مستقر بھارت کے لیے گلے کی ہڈی بننے جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں پہلے ہی بغاوتیں جاری ہیں، جو اس نئے منظرنامے میں بھارت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گی۔

اگر بھارت کو امریکی ساختہ F-35 لائٹننگ اور F-22 ریپٹر جیسے جدید جنگی طیارے فراہم بھی کر دیے جائیں، تو وہ بھی رافیل کی طرح ہی ناکام رہیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان طیاروں کی تکنیکی معاونت اور اوورہالنگ امریکہ کبھی بھی بھارتی فضائیہ کے سپرد نہیں کرے گا۔ امریکہ ان طیاروں کی ٹیکنالوجی کو عام کرنے پر آمادہ نہیں، جبکہ دوسری طرف چین اپنے جدید ترین طیارے J-35A پاکستان کو فراہم کر رہا ہے، جو امریکی طیاروں کے ہم پلہ ہیں۔

اگر امریکہ نے یہ طیارے بھارت کو دیے اور وہ بھی رافیل جیسے نتائج دے بیٹھے، تو یہ صورتِ حال پاکستان کی فضائی برتری کو اس خطے میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا دے گی۔ تاہم، یہ امید کی جا سکتی ہے کہ امریکہ اپنے پائلٹس کو بھیج کر اس جنگ کا براہِ راست فریق بننے سے گریز کرے گا۔

اکھنڈ بھارت کے خواب میں الجھا ہوا دہلی، کسی مضبوط نظریاتی بنیاد سے محروم ہے۔ وہ خطے میں چین، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے فطری اتحادی تلاش کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے برعکس، بھارت مسلسل نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ سرحدی تنازعات کو ہوا دیتا رہتا ہے۔ داخلی طور پر بھی، وہ اپنی سب سے بڑی اقلیتوں—مسلمانوں اور عیسائیوں—کو ہندوتوا کے تنگ نظر نظریے کے ذریعے دیوار سے لگاتا جا رہا ہے۔ بھارتی کرنل صوفیہ قریشی کے گھر پر ہندو انتہا پسندوں کا حملہ اسی سوچ کی ایک واضح مثال ہے۔

بھارت کے اندر مذہبی تعصب ایک ایسا چھپا ہوا وائرس ہے جو اس کی جڑیں اندر ہی اندر کھوکھلی کر رہا ہے۔ ایسے میں اس کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے، اور وہ ہے پاکستان دشمنی۔ اس دشمنی کے نام پر وہ وقتی طور پر قوم کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اب یہ چال بھی ناکام ہو چکی ہے۔

پاکستان ایئرفورس کے بہادر پائلٹس نے بھارت کو اس غلط فہمی سے نکال دیا ہے۔ اب بھارت اپنی شرمندگی اور "اکھنڈ بھارت” کے خواب کی چکنا چور حقیقت سے بچنے کے لیے حیلہ سازیوں میں مصروف ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقار، وہ خودداری اور وہ سربلندی ایک بار پھر پاکستانی فضاؤں میں پرچم کی طرح لہرا رہی ہے۔ پاکستان کی سرحدوں پر دستک دینے لگی ہے وہ توانائی، جس کا خواب ہر پاکستانی نے دیکھا، اور جس کے لیے پاکستان قائم ہوا۔ یہ خطہ عالمِ اسلام کا قلعہ بنے گا، جہاں ہماری فصیلوں پر ہمارے عقابوں کا نشیمن دشمن کے سینے پر بنے گا۔

یقیناً، اس فتحِ مبین پر آسمان جھومتا ہو گا، علی فرحت سے جھومتے  ہوں گے اور رب کی رضا، سلام بھیجتی ہو گی۔

واللہ خیر الماکرین
بے شک اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

Author

Related Articles

Back to top button