نظم
سبز خواب کا بھید / عُمینُ الزھراء سیّد

سبز خواب کا بھید !
عُمینُ الزھراء سیّد
دسمبر کی سرد ہوا
سورج بھی نہیں سہ پایا اور
ڈوب جانے کی جلدی میں
اس کہانی کو کبھی مکمل نہیں سن سکا
جو کئی جنموں سے ادھوری ہے
شام کے دھندلکے میں
ایک کھڑکی صاف دکھائی دیتی ہے
اور اس کھڑکی سے جھانکتی
دو سبز آنکھوں کے خنجر
جو رات کی نیلی جھالروں میں
پیوست ہوتے ہیں
سائے بڑھنے کی رفتار تیز ہے
اور خواب چھوٹا پڑنے لگا
وہ خواب جس کا بھید
دن اور رات کے درمیانی فاصلے میں ہے
میرے کاندھے پہ سفید شال
زخمی ہوچکی ہے
رات کے قدم تیز ہوئے
صبح کے ستارے کو
میں نے زمین چومتے دیکھا
مٹیالی روشنی ہوا کے ساتھ جاتی دیکھ کر
میں نے خواب کا بھید پایا
اور پھر !
میرے ہاتھوں سے ” سبز ” پرندے نکلے




