مدینہ طیبہ ومسجد نبویؐ میں عید الفطر اور فضائل واحکام!(آخری قسط)/ محمد اکرم چوہدری

(5)سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا مجھے ایسی بستی میں رہنے کاحکم ہواہے ،جو تمام گاؤں اور بستیوں پر غالب آنے والی ہے۔ لوگ اس کو یثر ب کہتے ہیںاور وہ مدینہ ہے۔ یہ شہر لوگوں کو کفرسے اس طرح صاف کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کو صاف کرتی ہے۔
(6)سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ؐ سے یہ فرماتے ہوئے سناکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مدینہ کو طابہ (پاک اوربہتر )کانام دیا ہے۔
(7)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ مدینہ کی گلیوں پر فرشتے ایستادہ ہیں تاکہ اس میں طاعون اوردجال داخل نہ ہو سکیں۔
(8)سیدناسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا کہ جو شخص اہل مدینہ کیلئے بری سوچ سوچے گا تووہ ایسے گل سڑ کر تباہ ہو جائیگا جس طرح نمک پانی میں گل جاتاہے۔
(9)سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سفر سے واپسی پر جب رسول اللہ ؐکی نظر مدینہ کی دیواروں پر پڑتی تو فرط ِ جذبات سے آپ ؐسواری کو دوڑاتے اوراس کوتیزکر دیتے۔
(10)سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا کہ مدینہ میں دجال کاخوف اوردبدبہ داخل نہیں ہو سکے گا، اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ایستادہ ہوں گے۔
(10)سیدناا نس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے دعا فرمائی کہ یااللہ ! مدینہ میں مکہ معظمہ سے دگنی برکت نازل فرما۔
مسجد نبویؐ کی فضیلت:
(1)سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا میری مسجد (نبوی ) کی ایک نماز بیت اللہ کے علاوہ دوسری تمام مسجدوں کی ایک ہزار نمازوں سے(اجر)میں زیادہ ہے
(2)سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام میں سے دوآدمیوںکا اس مسجدکے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کاذکر قرآن میں ہے کہ !’’ا سکی بنیاد تقویٰ اورپرہیز گاری پرہے‘‘۔(سورۃ توبہ) ایک نے کہا اس سے مراد مسجد نبوی ہے، اور دوسرے نے کہا کہ مسجد قباء پھر ان دونوں نے رسول اللہ ؐسے پوچھا آپؐ نے فرمایا کہ: اس سے مراد مسجد نبوی ہے۔ مسجد قبا میں بھی بہت سی بھلائیاں ہیں۔مدینہ طیبہ کی طرف مسجد نبوی ؐ کی زیارت کی نیت سے جانا چاہیے:
(1)سیدناابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا تین مساجد کے علاوہ کسی اور طرف زیارت کی غرض سے نہیں جاناچاہیے۔
1 – مسجدحرا م 2 -مسجداقصیٰ 3 -میری مسجد (نبوی )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،کہتے ہیں کہ میں بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ملا انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ کہاں سے آرہے ہو؟میں نے کہا کہ طور پہاڑسے آرہاہوں!کہنے لگے کہ آپ کے وہاں جانے سے پہلے اگرآپ کی مجھ سے ملاقات ہوجاتی توشاید آپ وہاں نہ جاتے میں نے رسول اللہؐ سے سنا آپؐفرمارہے تھے: تین مقامات کے علاوہ کسی اورمقام کی زیارت کیلئے سواریوں کو نہ دوڑایا جائے۔(سفرنہ کیاجائے )
1 ۔مسجد حرام (کعبہ) 2۔میری مسجد ( نبو ی)3۔ا یلیاء (بیت المقدس)
قارئین کرام! ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہواکہ قبروں،مزارات اور آستانوں کی زیارت کا قصدکرنا اور سفر کرکے وہاں جانا جائز نہیں ہے۔یہ صرف ان تین مقامات تک محدود ومخصوص ہے لیکن علم حاصل کرنے کیلئے سفر کرنا ،اسی طرح صالح بندوں ، مسلمان بھائیوں اوردینداردوستوں کی زیارت کرنے اور ان کے ساتھ ملاقات کرنے کی ترغیب احادیث میں وارد ہے۔لہٰذا یہ دونوں زیارتیں اورملاقاتیں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگرہمیں اللہ سے عمل کرنے اور تو فیق کی دعا کرنی چاہیے ہمیں اپنے ملک کی عزت وقار احترام اعتبار پر سیاسی وابستگی سے الگ ہو کے پاکستانی کے طور پر کرنی چاہیے۔ (ختم شد)




