اندر کی صفائی / تنویر احمد نازی

کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا میں اپنی زندگی کو کیسے کسی دوسرے کی طرح اچھا بنا سکتا ہوں اور مجھے کیا کرنا ہوگا۔بزرگ نے جواب دیا کبھی گھر میں استعمال شدہ برتن دھوئے ہیں اور اگر خود نہیں بھی دھوئیں تو بھی گھروں میں استعمال شدہ برتنوں کو صاف ہوتے ہوئے روزانہ دیکھتے ہیں۔گھروں میں کام کرنے والوں کا پہلا کام بھی شاید یہی ہوتا ہے باقی کپڑوں اور گھروں کی صفائی کا نمبر بعد میں آتا ہے۔یہ ملازمین اپنے انٹرویو کے بعد جو پہلا سوال اپنے مالک سے پوچھتے ہیں کہ گھر میں کتنے اور کس عمر کے افراد رہتے ہیں۔وہ اس سے اندازہ کر لیتے ہیں کہ برتن کتنے ہو سکتے ہیں اور دھلائی کے کپڑوں کی تعداد کیا ہو سکتی ہے۔برتنوں اور کپڑوں کو صاف رکھنا عام طور پر ہر گھر کے ہر فرد کی عادت ہوتی ہے جس میں کوئی ادنی درجے کی غفلت بھی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔
ہم نے کبھی اپنے اندر جھانک کر دیکھا ہے کہ ہم میں کس درجہ کی غلاظت اور میل کب سے اپنا گھر بنا کر بیٹھی ہے اور صفائی نہ کرنے سے اپنا رنگ تک تبدل کر چکی ہے۔ارد گرد اپنے دوستوں رشتے داروں اور خاص طور پر ہمسائیوں کے تمام نقائص ہمیں پوری طرح نہ صرف اپڈیٹ ہیں بلکہ زبانی یاد بھی۔ہمیں یہ تو یاد ہے کہ فلاں ابن فلاں کب کیا تھا اور آج کیا ہے۔اس کا چال چلن پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے۔بہت تھوڑی دیر میں اتنی ترقی کیسے ہوگئی یہ خوشحالی اور دولت کی فراوانی مختصر دور میں کیسے ممکن ہوگئی۔کل تک دن میں دو وقت کی روٹی آسانی سے میسر نہ تھی آج ہر وقت دسترخوان پر سینکڑوں لوگ جی بھر کر اور وافر مقدار سے محظوظ ہوتے ہیں۔
کسی کا احتساب کرنے کو ہر وقت تیار،ہماری پہلی عادت سی ہوگئی ہے۔وہ ساری عادتیں اور نقص جو ہمارے وجود کا حصہ بن چکے ہیں ہمیں اپنے اندر نظر نہیں آتے۔اخلاقی طور پر جس سطح پر ہم پہنچ چکے ہیں اس کا ادراک بھی نہیں اور کسی دوسرے کی معمولی اور چھوٹی سی غلطی یا حرکت ہمیں دنیا میں نشر کرنے میں کوئی ملال بھی نہیں۔دوسروں میں پہلے نقص کو ڈھونڈنے اور پھر اسے ٹھیک کرنے میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔کسی دوسرے کی عزت اچھالنے میں ہمیں نہ تو دیر لگتی ہے اور نہ ہی کوئی افسوس ہوتا ہے۔
جس دین کے ہم پیروکار اور جس نبیؐ کے ہم ماننے والے ہیں وہ تو ہمیں کسی دوسرے کے گھر جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کے گھر میں پکنے والے کھانے کی خوشبو بھی ہمسائے کے گھر تک نہ پہنچنے کا سبق دیتا ہے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو بناتے ہوئے کھانے میں کچھ پانی زیادہ ڈال کر ہمسائے کو بھیجنے کی صورت پیدا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
بات برتن دھونے کی ہو رہی تھی تو یہ دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے کہ برتن کو اندر سے دھویا جاتا ہے صفائی برتن کی اندر سے کی جاتی ہے چمکایا برتن کو اندر سے جاتا ہے باہر معمولی پانی بہا کر ایک طرف رکھ دینا ہمارا معمول ہے۔بالکل اسی طرح ہمیں اپنے اندر کی صفائی کا خیال رکھنا ہوگا صفائی اندر سے شروع ہوگی اپنا من اندر سے صاف کرنا ہوگا۔ روزانہ کا گند روزانہ صاف کرنا ہوگا یہ میل اور زنگ روزانہ بستر پر جانے سے پہلے آنکھیں بند کر کے صاف کرنا ہوگا۔جس طرح ہم روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں اسی طرح نیکی کی تلاش میں بھی کبھی وقت کو نکالنا ہوگا۔اپنی جان اپنا مال اور اپنا وقت کسی دوسرے کی آسانی کیلئے بھی استعمال کرنا ہوگا۔ہر وہ آسائش آرام اور سکون جو ہماری خواہش ہے وہ کسی دوسرے کو آج دینی ہوگی۔آج ہمارے پاس وقت ہے اور وسائل بھی اپنی سوچ کو بدلنا آج ممکن بھی ہے اور آسان بھی۔قدرت نے سکون صرف اور صرف خدا کی یاد میں رکھا ہے اور اگر کسی اور جگہ مل سکتی ہے تو وہ اس کے بندوں کی خدمت کے سوا کہیں نہیں اور یہ خدا تک پہنچنے کا شارٹ کٹ بلکہ دنیا کی زبان میں بہترین بائی پاس ہے۔زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے انسانوں سے پیار،کسی مشکل میں ان کی خدمت اور داد رسی کی جنت میں جانے کا آسان راستہ ہے۔ صفائی پہلے اپنی اندر کی کرنی ہوگی۔آگ اپنے اندر لگانی ہوگی باہر خود آجائے گی۔




