بلاگ

آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، ہاں مگر دِل جو سینوں میں ہیں/ شاویز احسن

 

قرآن کی یہ آیت اتنی جامع ہے کہ آپ اِسکی گہرائی تک کبھی نہیں جا سکتے۔ میں جب اسلام کے بارے میں ہماری یُوتھ کے بھونڈے اور کٹر غیر منطقی دلائل سُنتا ہوں تو ہنس دیتا ہوں، پھر میرے دل و دماغ میں صرف یہی آیت آتی ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، ہاں مگر دل جو سینوں میں ہیں۔

ہمارے اکثر نوجوان مرد و خواتین اِسلام کو غیر جدید دین سمجھتے ہیں، اور اِس میں قصوروار والدین، معاشرہ اور علماء کرام تینوں ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اسلام کو لے کر یا تو کٹر متشدد ذہن پائے جاتے ہیں یا پھر لبرل اور ملحد، بیچ کے راستے سے ہماری اکثریت لا علم ہے اور یہی چیز جہالت کو فروغ دیتی ہے۔

سادہ سی مثال لے لیں کہ عورت یا تو باپردہ ہو گھر بیٹھی ہے یا پھر کھُلے بالوں کے ساتھ بازاروں میں کام کر رہی ہے۔ جن مردوں نے عورتوں کو گھر بٹھا رکھا ہے انہیں باہر والی جہنمی نظر آتی ہے اور جو باہر ہیں اُنہیں گھر بیٹھی عورت مفلوج اور قیدی نظر آتی ہے۔ جبکہ اصل راستہ اسکے بیچ والا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت بھلے ہی جاب کرے لیکن پردے میں، اسلام کے متعین کردہ اصولوں میں رہ کر۔

کیا یہ ناممکن ہے؟؟؟

ہر گز نہیں ۔۔ جبکہ ہمارے معاشرے میں یہ توازن کتنے گھروں کی خواتین نے قائم کر رکھا ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔

اب جو لوگ عورت کے لیے اسلام کو پابندی قرار دیتے ہیں یا وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت سِرے سے باہر کام کر ہی نہیں سکتی اِن دونوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا زمانہ نہ ہی پڑھا اور نہ ہی سمجھا۔

دورِ نبوی میں حضرت اسماء بنت مخزمہ عِطر کا کاروبار کرتی تھیں، اور اُنکا کا اچھا خاصہ نام تھا اِس کاروبار میں۔

حضرت خولہ بنت توقیت بھی عطر کا کاروبار کرتیں تھیں اور اتنا مشہور تھیں کہ لوگ آپکو عطارہ کے نام سے جانتے تھے۔

حضرت جابر کی خالہ کے شوہر جب وفات پا گئے تو یہ خاتون کھجور کے باغات کو خود سنبھالنے نکلی، لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور معاملہ بتایا، نبی کریم نے فرمایا تُم جاؤ اور کھجوروں کے درختوں کی دیکھ بھال کرو۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کی زوجہ حضرت زینب دستکاری سے جُڑی تھیں اور حلال رزق کما کر صدقہ خیرات کرتی تھیں۔

 

ایسی اور ڈھیروں مثالیں ہیں خواتین کی جو اپنی محنت سے اپنا گھر چلاتی تھیں۔ تو کیا یہ سب بے پردہ ہو کر یہ کام کرتی تھیں؟؟؟

ہرگز نہیں ۔۔ یہ ساری مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسلام کی حدوں میں رہ کر بھی عورت اچھا کما سکتی ہے اور گھر چلا سکتی ہے۔

اب وہی بات کہ جو لوگ عورت کے کام کرنے کو لے کر متشدد طبعیت ہیں یا کٹر پن کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ دونوں ہی دل سے اندھے ہیں۔

اپ اسلام کو کسی صورت بھی غیر سلجھایا ہوا مذہب نہیں کہہ سکتے،

اگر آپ فکر رکھتے ہیں تو۔۔۔

جب ہماری نئی نسل یورپی ممالک کو دیکھتی ہے، انکی ترقی دیکھتی ہے، ٹیکنالوجی دیکھتی ہے تو اپنے اندر سے اسلام کو نکالنا چاہتی ہے گویا اسلام نے انکے پاؤں میں ترقی سے روکنے کے لیے بیڑیاں ڈال رکھی ہوں۔

اب اگر اس سینس میں اسلام کو دیکھا جائے تو اسلام کی واحد نمائندہ کتاب قرآن مجید میں علم حاصل کرنے کا ذکر مختلف صورتوں میں 750 بار کیا گیا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ مومن اور کافر میں فرق کرنے والی نماز کا ذکر سات سو مرتبہ کیا گیا ہے جبکہ علم حاصل کرنے کا ذکر 750 مرتبہ کیا گیا ہے۔ اور اچنبھے کی بات یہ ہے کہ یہ چیز اپ کسی مولوی سے نہیں سُنیں گے، مولوی حضرات ہمیں نماز کا سات سو والا ہندسہ ضرور بتاتے ہیں مگر علم کا ساڑھے سات سو والا ہندسہ نہیں بتائیں گے، اب یہی چیز ہماری یوتھ سے پوچھی جائے کہ تمہارے دین نے تمہیں نماز سے زیادہ علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور تم کیا کر رہے ہو؟؟؟؟

یورپی انصاف دیکھ کر اور سُن کر سَر دُھنیں گے مگر اپنے ملک میں کوئی انصاف کرتا نہیں دکھائی دے گا، ایک ریڑھی والے کا بھی جہاں داؤ لگے گا وہ لگائے گا، غریب ہو یا امیر، طاقتور ہو یا کمزور ہر شخص یہاں اپنے مطابق جہاں موقع دیکھتا ہے بے ایمانی کرتا ہے۔ مطلب جن چیزوں کا اسلام کا بنیادی ڈھانچہ تصور کیا جاتا ہے وہ چیزیں پیٹھ پیچھے ڈال کر یورپ میں وہی سب ہوتا دیکھ کر عِش عِش کرتے ہو مگر اپنے ملک میں اپنی ذات سے عمل کرنے سے قاصر ہو اور کہتے ہو اسلام جدید مذہب نہیں ہے، انہی کے لیے کہا گیا کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی، ہاں مگر دل جو سینوں میں ہیں۔

آپ سائنس کو دیکھ لیں کسی فیلڈ میں ٹاپ کی ریسرچ پر چلے جائیں، ایک حد ہوگی جہاں سائنس خاموش ہو جائے گی اور وہیں سے خدا کی ذات شروع ہوتی ہے، لیکن ہم نہیں سوچتے، اسلام پر مکمل عمل پیرا ہونے کا انعام یہ تھا کہ سولہویں صدی تک ہمارے جنگجو جدید جنگی ہتھیاروں اور مہارتوں سے لیس برصغیر سے فرانس تک لڑ رہے تھے اور غالب تھے ۔

یہ وہی دور تھا جس کا ذکر علامہ اقبال نے کیا کہ

دشت و دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے۔

لیکن پھر کیا ہوا؟ پھر ہم نے اسلام نماز روزہ تک محدود کیا جیسے اج کیا ہوا ہے اور ہم آہستہ آہستہ پیچھے ہوتے چلے گئے اور ہماری ساری خصوصیات غیر مسلموں نے ہڑپ لی، اور آج وہ خود مہذب کہلاتے ہیں اور ہمیں تھرڈ ورلڈ کہا جاتا ہے۔

بات پھر وہی کہ دل جو سینوں میں ہیں (اندھے ہوتے ہیں).

مجھے بتائیں ایسا کونسا زندگی کا پہلو ہے جس میں اسلام کے اصولوں کو اپنا کر آپ کامیاب نہ ہوئے ہوں۔

یہ جو آج چھوٹے بچے بچیوں کے ریپ ہو رہے ہیں اس سب کے پیچھے کیا ہے؟؟. اسلام بالغ ہوتے ہی نکاح کا حکم دیتا ہے، اس لیے کہ بالغ ہوتے لڑکے لڑکیوں کے ذہن میں سیکس و جسم کو چھونے کی چاہ نہ پھلنے پھولنے لگے۔ بالغ ہوتے ہی شادی نفسیاتی و میڈیکلی اعتبار سے بھی ایک انسان کے دماغ کو ٹھنڈا کرتی ہے، اور وہ اپنی انرجی صحیح راستوں پر خرچ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو تیس پینتیس سال تک جوڑا بننے کی لذت حاصل نہیں ہوتی، دماغ چڑچڑے ہو جاتے ہیں، صحیح کاموں پر فوکس نہیں رہتا، اگر فوکس رہتا ہے تو اس پر کہ کسی کو اپنے جال میں پھنسانا کیسے ہے۔

پھر اس سب سے معاشرے میں جنسی جرائم پناہ لینے لگتے ہیں، اور یہ معاشرے کے زوال میں کارآمد ہتھیار ثابت ہوتا ہے، بات یہاں پر بھی وہی کہ تم اسلام کو اپنی زندگی سے اپنے اعمالوں سے نکالتے جاؤ اور دیکھتے جاؤ کہ تم اپنے غلط کاموں کے عوض کس قدر زوال کے اندھیروں میں ڈوبتے چلے جاتے ہو۔

میں یہ تو نہیں جانتا کہ یہ سب کب ٹھیک ہوگا لیکن اتنا ضرور جاننا ہوں کہ یہ جدید بچے جو اسلام پر انگلی اٹھاتے ہیں اگر اسلام پر چل کر دیکھیں تو خود ہی جان جائیں کہ دنیا پر غالب کیسے ہوا جاتا ہے۔

 

Author

Related Articles

Back to top button